چشم تر میں ڈوب کر میری وہ کیوں حیران تھا

غدیر زھرا — اپریل 23، 2013 12:18 شام
داد قبول کیجیئے سر :)
عمراعظم — اپریل 23، 2013 12:18 شام
بہت عمدہ کلام امجد علی راجا صاحب۔ تمام اشعار بہت خوبصورت ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔آمین
فارقلیط رحمانی — اپریل 23، 2013 1:29 شام
نہایت ہی عمدہ! خوبصورت غزلٖ!
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
شریک محفل کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 23، 2013 1:30 شام
ہو جفا فطرت میں جس کی قابل چاہت نہیں
میں نے چاہا زندگی کو کس قدر نادان تھا
بات قسمت کی ہے راجا ہم الجھ کر رہ گئے
مل گئی منزل اسے رستے سے جو انجان تھا

واہ بہت خؤب۔ بہت داد قبول فرمائیے امجد علی راجا بھائی۔ بہت خوبصورت غزل۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 23، 2013 1:34 شام
چشم تر میں ڈوب کر میری وہ کیوں حیران تھا
اس سے پہلے وہ مری الفت سے کیا انجان تھا؟
اِس سے پہلے کیا مری الفت سے وہ انجان تھا​
:battingeyelashes:
عینی شاہ — اپریل 23، 2013 3:34 شام
اتنا برا سلوک میری شاعری کے ساتھ :cry:
سمجھ جو نہیں آیا :p
نایاب — اپریل 23، 2013 5:00 شام
جگ جگ جیو راجہ بھائی
کیا خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نازکی اس گلبدن کی جس طرح شبنم کی بوند
جسم سنگ مرمریں یا کانچ کا گلدان تھا
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 23، 2013 6:47 شام
بہت ہی عمدہ کاوش ہے۔
ماشاءاللہ لاقوۃ الا باللہ
امجد علی راجا — اپریل 24، 2013 5:55 صبح
داد قبول کیجیئے سر :)
داد کے لئے شکرگزار ہوں بیٹا
امجد علی راجا — اپریل 24، 2013 5:58 صبح
بہت عمدہ کلام امجد علی راجا صاحب۔ تمام اشعار بہت خوبصورت ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔آمین
پسندیدگی کے لئے شکرگزار ہوں عمر اعظم بھیا!
دعائوں کے لئے جزاک اللہ
امجد علی راجا — اپریل 24، 2013 6:01 صبح
نہایت ہی عمدہ! خوبصورت غزلٖ!
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
شریک محفل کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ
بہت بہت شکریہ فارقلیط رحمانی بھیا! آپ کی محبت اور حوصلہ افزائی کے لئے۔
امجد علی راجا — اپریل 24، 2013 6:02 صبح
واہ بہت خؤب۔ بہت داد قبول فرمائیے امجد علی راجا بھائی۔ بہت خوبصورت غزل۔​

حوصلہ افزائی کے لئے شکرگزار ہوں ہوں خلیل الرحمٰن بھیا۔
امجد علی راجا — اپریل 24، 2013 6:03 صبح
اِس سے پہلے کیا مری الفت سے وہ انجان تھا​
:battingeyelashes:
یہ ہوئی نا بات، بہت خوب، اب میری طرف سے داد قبول فرمائیں۔
امجد علی راجا — اپریل 24، 2013 6:13 صبح
جگ جگ جیو راجہ بھائی
کیا خوب کہا ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
نازکی اس گلبدن کی جس طرح شبنم کی بوند
جسم سنگ مرمریں یا کانچ کا گلدان تھا
جزاک اللہ،
حوصلہ افزائی کے لئے شکرگزار ہوں نایاب بھیا!
محمد یعقوب آسی — اپریل 24، 2013 6:18 صبح
زیر اور واو کے ساتھ تراکیب سازی (مرکب توصیفی یا مرکب اضافی) صرف عربی اور فارسی اسماء و افعال میں جائز ہے۔​

اس جملے کو یوں پڑھئے:
تراکیب سازی: زیر کے ساتھ (مرکب توصیفی یا مرکب اضافی) اور واو کے ساتھ (مرکب عطفی) صرف عربی اور فارسی اسماء و افعال میں جائز ہے۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 24، 2013 6:23 صبح
چلتے چلتے ایک اور نکتہ دیکھ لیجئے:
ال تعریفی عربی کا خاصہ ہے اس کے ساتھ ترکیب سازی صرف عربی اسماء میں ہو سکتی ہے۔
’’جوان العمر‘‘ درست ترکیب نہیں ہے۔ ’’الشہباز‘‘ کوئی لفظ نہیں۔
امجد علی راجا — اپریل 24، 2013 6:42 صبح
بہت ہی عمدہ کاوش ہے۔
ماشاءاللہ لاقوۃ الا باللہ
شکریہ اسامہ بھیا!
یوسف-2 — اپریل 24، 2013 6:52 صبح
سرخ پھولوں میں چھپے کانٹوں کو مت الزام دو
مجھ کو خود ہی پھول چننے کا بڑا ارمان تھا
:great:
شیزان — اپریل 24، 2013 7:04 صبح
وقت نے نوچے ہیں چہرے سے نقاب خوش نما
آج نفرت ہے اسی سے کل جو میری جان تھا
بہت ہی خوب!
حاصلِ غزل ہے یہ شعر۔۔
سدا جیئو راجا جی
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 24، 2013 7:09 صبح
’’قابلِ چاہت‘‘ درست ترکیب نہیں ہے ۔

ہوجفا فطرت میں جِس کی قابلِ الفت نہیں؟؟؟؟؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D8%B4%D9%85-%D8%AA%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%88%D9%88%D8%A8-%DA%A9%D8%B1-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%88%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.62993/page-2