آپ کو بالخصوص یِہ رِعایت و سہولت نہیں دِی جا سکتی کِہ یہاں آپ کے مُتاثرین بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
آپ کو بالخصوص یِہ رِعایت و سہولت نہیں دِی جا سکتی کِہ یہاں آپ کے مُتاثرین بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
ظہیر مِیاں کی حسِ مزاح لا علاج ہے۔
ارے واہ۔۔۔۔ایسا کلام اور اس پہ یہ دعویٰ
میں نہیں مانتا،میں نہیں مانتا
سیف الملوک چلے جایا کریں ۔ شاید آپ کو بھی دیجاوو ہونے لگے
کیا جھیل مشی گن کو اردو میں بحیرۂ پیادہ بندوق کہہ سکتے ہیں؟
اتنا کام ابھی کر کے پوسٹ کیجیے۔ تاکہ آپ کی امریکہ یاترا کی دعا کی جا سکے۔
آپ سمجھے نہیں، ہم بمع آنسہ ترنم امریکا یاترا کی سعادت کا کہہ رہے تھے
آپ نے دیر کردی، ہم نے تو اب اپنے چاق چوبند دستوں کو ’’موبلائز‘‘ کردیا ہے
میں نے کچھ قادر الکلامی کے نایاب اور انوکھے واقعات سن رکھے ہیں کہ صاحبِ بیان نے حاضرین و سامعین کو اس طرز سے اپنے سحر میں جکڑا کہ ہم جیسے لوگوں نے اُس بیان کو فی الواقع وقوع پذیر ہوتے ہوئے مشاہدہ کیا اس روایت کی صحت کی بہرحال میں تصدیق تو نہیں کر سکتا مگر واقعات کچھ یوں تھے کہ ایک بار ایک صاحب سردیوں کی ایک شام کے وقت حاضرین کے سامنے ایک گرم دوپہر کو کچھ اس انداز سے بیان کیا کہ حاضرین نے شدتِ گرمی سے بچنے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگا دی
جناب آئندہ پوری کوشش رہے گی ۔ اب میں دھیان رکھوں گا کہ بے دھیانی غالب نہ آنے پائے ۔
یہ سب ترجمے نامکمل اور سطحی سے ہیں ۔ خصوصاً دیدِ قبلاً تو بالکل ہی مریل اور چوں چوں کا مربہ ہے ۔ پسند نہیں آیا ۔ سو بات کی ایک بات وہی ہے جو آپ نے کہی کہ ڈیژا وُو ہی سب سے بہتر اور معروف ترکیب ہے ۔ سو اسی کو برتنا چاہیے ۔
بہت شکریہ عاطف بھائی !
بہت بہت شکریہ احمد بھائی ! آپ کی داد سے بہت دل بڑھتا ہے ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے!
راحل بھائی ، ترنم ساتھ لے کر آئیں گے یا یہاں پہنچ کر ڈھونڈیں گے ۔ مجھے پہلے سے بتادیجیے گا تاکہ قیام و طعام کے انتظامات میں آسانی رہے ۔ (سنجیدہ تھوبڑے والا شتونگڑہ)
بالکل کہہ سکتے ہیں ۔ اگر عوام الناس کو یہ ترکیب مشکل لگے تو سلیس اردو میں بحیرۂ پیدل پستول بھی کہہ سکتے ہیں ۔
اجی فوراً روکئے ان دستوں کو ۔ میں ابھی کفر چھوڑکر مسلمان ہوتا ہوں، کلمہ پڑھتا ہوں۔ آپ رحم کیجیے۔
عبدالرؤف بھائی ، آپ تو سنجیدہ ہوگئے ۔ میں تو یو نہی مذاق کیا تھا ۔ آپ کی بات سے متفق ہوں۔ سامع بعض اوقات خود کسی ایسی کیفیت میں ہوتا ہے کہ عام سا کلام بھی کسی تار کو چھیڑ دیتا ہے ۔ میں خود کئی دفعہ کچھ شاعروں کا کلام سن کر سر دُھن چکا ہوں ۔ بعض دفعہ اپنا اور بعض دفعہ شاعر کا ۔
نہیں نہیں ایسی بات نہیں ہے
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%88%DB%8C%DA%98%D8%A7-%D9%88%D9%8F%D9%88.113955/page-2