کانچ کے اس شہر میں کوئی بھی شیشہ گر نہیں
کیا کریں گے مے کا جو پیمانہ و ساغر نہیں
جس کا ہونا ہے اٹل، ہوتا وہی اکثر نہیں
عہدِ حاضر بھی تو ہر موجود کا مظہر نہیں
ایک نقطے میں کئی عالم سمٹ کر رہ گئے
آنکھ سے بڑھ کر کہیں بھی کثرتِ منظر نہیں
دائروں کی حد میں ہیں، سب ممکناتِ شش جہات
جو بھی ناممکن ہے وہ امکان سے باہر نہیں
اک قیامت کی بلاخیزی ہے اس فریاد میں
گریۂ افلاک ہے یہ، شورشِ محشر نہیں
ہے اسی کے دم سے المٰیؔ زیست کا ہر ایک بوجھ
جان لیجے! جان سے بھاری کوئی پتھر نہیں
کیا کریں گے مے کا جو پیمانہ و ساغر نہیں
جس کا ہونا ہے اٹل، ہوتا وہی اکثر نہیں
عہدِ حاضر بھی تو ہر موجود کا مظہر نہیں
ایک نقطے میں کئی عالم سمٹ کر رہ گئے
آنکھ سے بڑھ کر کہیں بھی کثرتِ منظر نہیں
دائروں کی حد میں ہیں، سب ممکناتِ شش جہات
جو بھی ناممکن ہے وہ امکان سے باہر نہیں
اک قیامت کی بلاخیزی ہے اس فریاد میں
گریۂ افلاک ہے یہ، شورشِ محشر نہیں
ہے اسی کے دم سے المٰیؔ زیست کا ہر ایک بوجھ
جان لیجے! جان سے بھاری کوئی پتھر نہیں