واہ بہت خوب اور لاجواب غزل ہے جناب۔ حسبِ فرمائش فی البدیہہ پیروڈی قبولیے
کبھی تو ہماری سنا کیجیے
نہ جُورو ،ستم یوں روا کیجیے
سکوں چار دن کا ہمیں بھی ملے
وہ میکے کو جائیں دعا کیجیے
میں بیگم کی شہ خرچیوں کے تلے
دبا جا رہا ہوں ، رہا کیجیے
ق
کیے تھے جو وعدے اے سسرالیو!
خدارا کوئی تو وفا کیجیے
بلا لیجیے اس مصیبت کو گھر
یہ قرض آپ پر ہے، ادا کیجیے
غزل جانتے تھے جسے عقد تک
وہ خونی بلا ہے صدا کیجیے
نہ بیگم سنے ہے نہ بچے مری
جو کوئی نہ مانے تو کیا کیجیے
وہ بولی ہے رہنا مرے گھر میں جو
تو خاموش بالکل رہا کیجیے