اچھی غزل ہے۔
اچھی غزل ہے، البتہ ردیف کہیں کہیں مضمون کا ساتھ نہیں دے رہی۔
سمندر والے شعر میں تنافر کی بات کہی جا چکی ہے۔ میں مزید یہ کہوں گا کہ بول چال کی زبان میں ’اختر اختر‘ کبھی نہیں کہا جاتا۔
ہاہا۔ ہم بھی یہی سوچ رہے تھے کہ مطلع کے مضمون کو کچھ مختلف ہونا چاہیے۔
آپ کی رائے سر آنکھوں پر، اور واقعی مزاج بھی یہی ہے کہ محبوب کے جانے کے بعد رونا دھونا وغیرہ۔۔۔ لیکن،