اے خان — فروری 7، 2017 3:56 صبح
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
بہت خوب ظہیر صاحب.
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 7، 2017 4:46 صبح
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
میں پوچھ ہی لوں گا کہ ملا کیا تمہیں کھوکر
اک روز کہیں خود سے مری بات تو ہوگی
اپنے من میں ڈوب کر۔۔۔
کیا بات ہے۔ خوبصورت
ڈاکٹرعامر شہزاد — فروری 7، 2017 6:55 صبح
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت کلام ۔ زبردست۔ حسب ِ روایت بہترین
جاسمن — فروری 7، 2017 10:44 صبح
واہ بھئی واہ!
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔
بہت خوبصورت اشعار ہیں۔
محمدظہیر — فروری 7، 2017 11:28 صبح
محمدظہیر تو پھر انتظار کس بات کا ہے ۔ شروع کرو ۔ کرتے کرتے بالکل سیکھ جاؤ گے
!
ہمت افزاي کا شکریہ جناب۔ کچھ دن بعد شروع کرتا ہوں انشاء اللہ

محمد خرم یاسین — فروری 7، 2017 12:57 شام
کچھ دیر کو رسوائی ِجذبات تو ہوگی
محفل میں سہی اُن سے ملاقات تو ہوگی
بس میں نہیں اک دستِ پذیرائی گر اُس کے
آنکھوں میں شناسائی کی سوغات تو ہوگی
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
میں پوچھ ہی لوں گا کہ ملا کیا تمہیں کھوکر
اک روز کہیں خود سے مری بات تو ہوگی
اِس بازئ مابینِ غمِ وصلت و ہجراں
جس مات سے ڈرتے ہو وہی مات تو ہوگی
اِس آس پہ دن شہر ِ ضرورت کو دیا ہے
اُجرت میں ترے ساتھ مری رات تو ہوگی
ہو جاؤں خفا میں تو منانے کوئی آئے
اے دوستو اتنی مری اوقات تو ہوگی
ظہیراحمد ۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۳
ماشا اللہ۔ آخری شعر۔۔۔ حاصلِ کلام شعر۔
نمرہ — فروری 11، 2017 7:00 شام
بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔ یہ شعر تو کہیں جلی حروف میں لکھنے کو جی چاہتا ہے۔
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
preciouspreal — فروری 13، 2017 6:15 شام
بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔ یہ شعر تو کہیں جلی حروف میں لکھنے کو جی چاہتا ہے۔
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
preciouspreal — فروری 13، 2017 6:16 شام
زبردست۔
رومانہ چوہدری — فروری 16، 2017 9:30 صبح
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
میں پوچھ ہی لوں گا کہ ملا کیا تمہیں کھوکر
اک روز کہیں خود سے مری بات تو ہوگی
نہایت عمدہ۔ زبردست

محمداحمد — فروری 21، 2017 6:11 صبح
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
میں پوچھ ہی لوں گا کہ ملا کیا تمہیں کھوکر
اک روز کہیں خود سے مری بات تو ہوگی
واہ واہ واہ !
بہت ہی خوب اشعار ہیں ظہیر بھائی !
بہت سی داد قبول کیجے۔
محسن نذیر — اگست 11، 2019 12:08 صبح
اپنے من میں ڈوب کر۔۔۔
کیا بات ہے۔ خوبصورت
یہ پوری غزل ہے آپ کے پاس
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 6، 2019 11:15 شام
محسن نذیر صاحب یہ تو علامہ اقبال کا مشہور کلام ہے۔ شاید کچھ یوں ہے:
؎ اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
آپ انٹرنیٹ پر تلاش کیجئے۔ فوراً سے مل جانا چاہئے ۔
محسن نذیر — ستمبر 7، 2019 12:12 صبح
محسن نذیر صاحب یہ تو علامہ اقبال کا مشہور کلام ہے۔ شاید کچھ یوں ہے:
؎ اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
آپ انٹرنیٹ پر تلاش کیجئے۔ فوراً سے مل جانا چاہئے ۔
جی شکریہ آج مل گئ ہے شاید مجھے سہی ٹائٹل یاد نہیں آ رہا تھا
اے خان — ستمبر 7، 2019 4:44 صبح
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
واہ واہ
بہت خوب
یاسر شاہ — ستمبر 8، 2019 6:43 شام
ما شاء الله بہترین غزل -بہت داد -یہ اشعار بطور خاص پسند آئے -
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
میں پوچھ ہی لوں گا کہ ملا کیا تمہیں کھوکر
اک روز کہیں خود سے مری بات تو ہوگی
اِس آس پہ دن شہر ِ ضرورت کو دیا ہے
اُجرت میں ترے ساتھ مری رات تو ہوگی
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 8، 2019 10:39 شام
بہت شکریہ عبداللہ بھائی ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے اور خوشحالی و شادی نصیب فرمائے ۔ آمین
ما شاء الله بہترین غزل -بہت داد -یہ اشعار بطور خاص پسند آئے -
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
میں پوچھ ہی لوں گا کہ ملا کیا تمہیں کھوکر
اک روز کہیں خود سے مری بات تو ہوگی
اِس آس پہ دن شہر ِ ضرورت کو دیا ہے
اُجرت میں ترے ساتھ مری رات تو ہوگی
نوازش یاسر بھائی ، بہت شکریہ ۔ ذرہ نوازی ہے! اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ! ذوق سلامت رکھے ۔
اے خان — ستمبر 8، 2019 11:26 شام
بہت شکریہ عبداللہ بھائی ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے اور خوشحالی و شادی نصیب فرمائے ۔ آمین
آمین ثم آمین
محمد ریحان قریشی — مارچ 11، 2024 5:33 شام
کیا ہی خوبصورت غزل ہے، شاہکار!
عرفان علوی — مارچ 17، 2024 4:12 شام
کچھ دیر کو رسوائی ِجذبات تو ہوگی
محفل میں سہی اُن سے ملاقات تو ہوگی
بس میں نہیں اک دستِ پذیرائی گر اُس کے
آنکھوں میں شناسائی کی سوغات تو ہوگی
سوچا بھی نہ تھا خود کو تمہیں دے نہ سکوں گا
سمجھا تھا مرے بس میں مری ذات تو ہوگی
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہوگی
میں پوچھ ہی لوں گا کہ ملا کیا تمہیں کھوکر
اک روز کہیں خود سے مری بات تو ہوگی
اِس بازئ مابینِ غمِ وصلت و ہجراں
جس مات سے ڈرتے ہو وہی مات تو ہوگی
اِس آس پہ دن شہر ِ ضرورت کو دیا ہے
اُجرت میں ترے ساتھ مری رات تو ہوگی
ہو جاؤں خفا میں تو منانے کوئی آئے
اے دوستو اتنی مری اوقات تو ہوگی
ظہیراحمد ۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۳
بہت خوب ، ظہیر بھائی ! حسب معمول نہایت عمدہ غزل ہے . داد قبول فرمائیے .