کبھی کوئی ایسا تجربہ کیا ہے کہ طبی استعارے شاعری میں استعمال کئے ہوں؟
کچھ مشروبات کا ذکر ہو رہا تھا کہیں شاید اسی لیے
کچھ مشروبات کا ذکر ہو رہا تھا کہیں شاید اسی لیے
یا مریض سے سوال شعر صورت پوچھے ہوں؟
کھانے پینے کا ذکر ہو اور میں نہ پہنچوں؟
بھئی سبھی کے سر پر ایک سے زیادہ ہیٹ ہوتے ہیں ۔ موقع محل کے حساب سے ٹوپی بدل لی جاتی ہے ۔ اب محفل شعر میں تو ہم بزعمِ خود شاعر ہی ہیں ۔
گوگل بھائی تو جوڑوں کے امراض کا ماہر بتاتے ہیں.
تابش بھائی جوڑوں کے امراض کو تو آئس برگ کی چوٹی سمجھئے ۔ Rheumatologist کے دائرہ کار کو اردو میں سمجھانا میرے بس سے باہر ہےکہ طبی اردو اصطلاحات یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں یا پھر بہت ہی غیر معروف ہیں ۔
جی جی ، بالکل !! شاعری پر مشورے کے لئے ہمہ وقت حاضر ہیں ۔ طبی مشورے کے لئے تو مریض کو دیکھنا پہلی شرط ہوتی ہے جبکہ غزل تو پردے کے پیچھے سے بھی دکھائی جاسکتی ہے ۔
جی تابش بھائی ۔ جلن، سوز ، درد ، اضطراب ، بے چینی ، بے خوابی وغیرہ یہ سب طبی علامات ہی تو ہیں ۔
کاش آپ جیسے چار چھ ’’مریض‘‘ ہمیں میسر آجائیں !!
اب کیا بتائیں ! ہمارے زمانے میں تو کیا ترکی اور کیا غیر ترکی ہر "یارِ من" بے زبان ہوا کرتا تھا ۔ ایسا بے زبان کہ "بت" کا لفظ صادق آتا تھا ۔ یہ زبانیں تو اب انٹرنیٹ نے آکر کھولی ہیں ۔ اور ایسی کھولی ہیں کہ ہماری بولتی بند ہوگئی ہے ۔
معلوم نہیں احمد بھائی ۔ لیکن جب سے آپ نے یہ سوال پوچھا ہے اس کا جواب معلوم کرنے کے لئے بہت بیقراری سی ہورہی ہے۔ کسی پہلو چین نہیں آرہا ۔ رات کو نیند بھی نہیں آئی ۔ ٹہل ٹہل کر گزاری ہے ۔ دیکھئے آج کچھ تحقیق کرکے بتاتا ہوں ۔