ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — اپریل 14، 2013 9:18 شام
بہت عمدہ --
ڈھیر ساری داد اتنے پختہ خیالات کو زیبِ قرطاس کرنے پہ :)
میں تو آپ کے مداحوں میں شامل ہوں :)
بہت زبردست لکھتے ہیں :)
بہت شکریہ۔۔۔ آپ کی جانب سے پذیرائی پر سر تا پا ممنون ہوں۔
شاد و آباد رہیں :)
فاتح — اپریل 14، 2013 9:20 شام
بہت خوب فاتح جی​
بہت سی داد قبول فرمائیے۔​
مصحفی یاد آ گئے​
خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا​
ہجر تھا یا وصال تھا کیا تھا​
چمکی بجلی سی پر نہ سمجھے ہم​
حسن تھا یا جمال تھا کیا​
بہت شکریہ اوشو صاحب
اساتذہ ہی کی ردیف میں سر پھٹول کی تھی ہم نے بھی۔۔۔ "سا کچھ ہے" کی ردیف شاید ذوق یا امیر مینائی نے پہلی مرتبہ برتی تھی۔
فاتح — اپریل 14، 2013 9:21 شام
ہے ہم آغوش چاند دریا سے
ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے
واہ واہ لطف آ گیا
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
غضب ڈھا دیا جناب غضب ڈھا دیا
مختصر بحر میں بھی کچھ کمال سا ہے :)
اللہ کرے زور قلم زیادہ
قبلہ! سر تا پا ممنون ہوں اس قدر پذیرائی پر۔
باباجی — جولائی 1، 2013 1:26 شام
واہ بہت ہی خوب استاد محترم
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
جاسمن — مارچ 10، 2016 7:38 صبح
اِس غزل میں کمال سا کچھ ہے
اور بہت ہی جمال سا کچھ ہے۔
بہت خوب!
بہت ہی خوب!
فاتح — مارچ 11، 2016 7:58 صبح
واہ بہت ہی خوب استاد محترم
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
فراز میاں، آپ کی یہ داد تین سال بعد وصول کر رہا ہوں۔ مراسلہ ہی ابھی دیکھا۔ :)
بہت شکریہ جیتے رہو
فاتح — مارچ 11، 2016 7:58 صبح
اِس غزل میں کمال سا کچھ ہے
اور بہت ہی جمال سا کچھ ہے۔
بہت خوب!
بہت ہی خوب!
بہت شکریہ۔ سلامت رہیں۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 11، 2016 8:44 صبح
بہت خوب فاتح بھائی، کیا کہنے۔
کس کی آمد ہے صحنِ گلشن میں
پتّا پتّا نہال سا کچھ ہے
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
فاتح — مارچ 11، 2016 8:44 صبح
بہت خوب فاتح بھائی، کیا کہنے۔
آپ کی ذرہ نوازی ہے
باباجی — مارچ 11، 2016 9:43 صبح
فراز میاں، آپ کی یہ داد تین سال بعد وصول کر رہا ہوں۔ مراسلہ ہی ابھی دیکھا۔ :)
بہت شکریہ جیتے رہو
محبت نامہ بوتل میں بند کرکے سمندر میں چھوڑ دیا جائے تو بھی وہ کبھی نہ کبھی اسے مل ہی جاتا ہے جس کو بھیجا گیا ہوتا ہے یا کسی ایسے کو جسے اسکی ضرورت ہو
یہ تو ایک برقی محبت نامہ تھا بھائی آپ کو کیسے نہ ملتا ۔۔ آپ کی شاعری سے محبت کرنے والے بہت ہیں کوئی نہ کوئی محبت کرنے والا پرانے محبت نامے ڈھونڈ ہی لاتا ہے
آپ ہی کے ایک کلام کا مصرعہ ہے
"ایک محبت چھینی اس نے کتنی ڈالی جھولی میں"
فاتح — مارچ 11، 2016 10:15 صبح
محبت نامہ بوتل میں بند کرکے سمندر میں چھوڑ دیا جائے تو بھی وہ کبھی نہ کبھی اسے مل ہی جاتا ہے جس کو بھیجا گیا ہوتا ہے یا کسی ایسے کو جسے اسکی ضرورت ہو
یہ تو ایک برقی محبت نامہ تھا بھائی آپ کو کیسے نہ ملتا ۔۔ آپ کی شاعری سے محبت کرنے والے بہت ہیں کوئی نہ کوئی محبت کرنے والا پرانے محبت نامے ڈھونڈ ہی لاتا ہے
آپ ہی کے ایک کلام کا مصرعہ ہے
"ایک محبت چھینی اس نے کتنی ڈالی جھولی میں"
آپ کی محبت یقیناً اس مصرع کے عقب میں موجود ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%AC%D8%B1-%D9%85%D8%AD%D9%88%D9%90-%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84-%D8%B3%D8%A7-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%DB%81%DB%92-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.13444/page-3