ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر (نظم)

امجد علی راجا — مارچ 16، 2013 11:45 صبح
کیا کچھ نہیں خرید کا سامان یہاں پر
ہر روز بک رہا ہے ہر انسان یہاں پر
نیلام پر لگے ہوئے ایمان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
ہر جرم، پاپ، جسم فروشی کی رذالت
افلاس کا نتیجہ ہے ہر ایک ضلالت
سمجھا گیا غریب کو حیوان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
افلاس، بھوک، ظلم و الم، فکر معیشت
دکھ درد، کرب، رنج و تعب، یاس، مصیبت
خالی نہیں کسی کا بھی دامان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
سچ بولنا ہے جرم، یہاں ہے یہی دستور
سچ بات جس نے کی اسے سمجھا گیا ناسور
کوئی نہیں ہے سچ کا قدردان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
اس دور کا ہے صاحبِ زر صاحبِ عزت
قانون بھی اسی کا ہے جو صاحبِ دولت
حیرت کی آنکھ خود بھی ہے حیران یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
انسان خواہشات کے ہاتھوں ہوا مجبور
انسانیت سے ہوگئے ہم دور، بہت دور
انسانیت ہے خود بھی پریشان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
انسان زندگی سے ہے مایوس، غضب ہے
ہوتی نہیں ہے زندگی محسوس، غضب ہے
لگتی ہے زندگی بھی اب انجان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
اپنی ہی آستیں کے ہمیں ڈس رہے ہیں سانپ
انسان مٹ چکے ہیں یہاں بس رہے ہیں سانپ
انساں کے روپ میں ہیں کچھ حیوان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
راجا نہیں رہا کوئی عزت کا تحفظ
محفوظ آدمی ہے نہ عصمت کا تحفظ
ہر حال کامیاب ہے شیطان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
الف عین محمد یعقوب آسی محمد خلیل الرحمٰن سید شہزاد ناصر افلاطون الشفاء امر شہزاد باباجی ذوالقرنین شمشاد شوکت پرویز شہزاد احمد شیزان عمراعظم محسن وقار علی سید زبیر محمد اسامہ سَرسَری محمد بلال اعظم محمد وارث محمد احمد مقدس مہ جبین نیرنگ خیال نیلم یوسف-2 نایاب متلاشی مغزل مزمل شیخ بسمل نگار ف
مغزل — مارچ 16، 2013 11:55 صبح
رسید حاضر بندہ غائب کہ بجلی نے دھمکی دے دی ہے امجد بھائی ۔۔:atwitsend:
محمد یعقوب آسی — مارچ 16، 2013 12:16 شام
اوزان میرا ساتھ نہیں دے رہے، جناب امجد علی راجا صاحب۔
ذوالقرنین — مارچ 16، 2013 12:26 شام
بہت خوب راجا بھائی! معاشرے کی عکاسی کرتی ایک دلسوز غزل۔
مہ جبین — مارچ 16، 2013 12:48 شام
اس دور کا ہے صاحبِ زر صاحبِ عزت
قانون بھی اسی کا ہے جو صاحبِ دولت
حیرت کی آنکھ خود بھی ہے حیران یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
سب ملکر دعا کرو کہ اب وہ " صاحبِ زر " کبھی مسندِ اقتدار پر نہ آئے آمین
سید زبیر — مارچ 16، 2013 2:19 شام
راجہ صاحب ، بہت عمدہ ، ہر شعر لاجواب
خوش رہیں
محسن وقار علی — مارچ 16، 2013 3:06 شام
سچ بولنا ہے جرم، یہاں ہے یہی دستور
سچ بات جس نے کی اسے سمجھا گیا ناسور
کوئی نہیں ہے سچ کا قدردان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر

ایسے دستور کو​
صبحِ بے نور کو​
میں نہیں مانتا​
میں نہیں جانتا​
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 16، 2013 3:40 شام
ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے۔
امجد علی راجا صاحب!
میرے لیے یہ نیا وزن ہے، میرے ذہن میں تو اس کے ارکان یوں بن رہے ہیں:
مفعول فاعلات مفاعیل فعولن
اگر غلط ہوں تو راہنمائی فرمائیں۔
نیز بحر کا نام بھی بتادیں تو ممنون ہوں گا۔
سید شہزاد ناصر — مارچ 16، 2013 3:41 شام
راجا جی
کس راہ پر چل نکلے ہو
بڑی ہی پُرخار ہے یہ راہ
اس کے کانٹے روح تک کو زخمی کر دیتے ہیں
بہت خوب لکھا
شاد و آباد رہیں
عمراعظم — مارچ 16، 2013 4:09 شام
میرے پیارے وطن میں انسانیت جس طرح نوحہ ’کناں ہے۔آپکے اشعار اس کی ز بان بن گئے ہیں ۔داد کے لئے الفاظ کی تلاش میں ناکامی کا سامنا ہے۔
گویا۔۔۔
جنگل میں سانپ شہر میں بستے ہیں آدمی
سانپوں سے بچ کے آؤ تو ڈستے ہیں آدمی
محمد بلال اعظم — مارچ 17، 2013 4:48 صبح
بہت اعلیٰ
معاشرے کی عکاسی کرتی ہوئی
یوسف-2 — مارچ 17، 2013 8:52 صبح
کیا کچھ نہیں خرید کا سامان یہاں پر
ہر روز بک رہا ہے ہر انسان یہاں پر
نیلام پر لگے ہوئے ایمان یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
اس ”نوحہ“کے بارے میں کچھ کہنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ البتہ یہ نظم زبان حال سے مجھ سے ضرور یہ کہہ رہی ہے کہ تم ایسے معاشرے میں زندہ بھی ہو اور شرمندہ تک نہیں ہو۔:eek:
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 3:51 صبح
رسید حاضر بندہ غائب کہ بجلی نے دھمکی دے دی ہے امجد بھائی ۔۔:atwitsend:
شکریہ مغزل بھیا! واقعی بجلی نے تو خوب پریشان کیا ہوا ہے۔ اللہ ہمارے ملک پر رحم فرمائے کہ یہاں کمی کسی چیز کی نہیں، بس کچھ مفادپرست لوگ عوام کے محرورم کیئے بیٹھے ہیں۔
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 4:02 صبح
اوزان میرا ساتھ نہیں دے رہے، جناب امجد علی راجا صاحب۔
آپ میری درخواست پر تشریف لائے اس کے لئے شکرگزار ہوں۔
استادِ محترم! لکھتے وقت تو اوزان میرا بھرپور ساتھ دے رہے تھے، اب پتہ نہیں کیا ہو گیا کم بختوں کو :) (اب پتہ نہیں کہ اوزان ساتھ دے رہے تھے یا میرے اوسان خطا ہوئے ہوئے تھے)
میں ابھی چیک کر کے حاضر ہوتا ہوں آپ کی خدمت میں ۔ ۔ ۔ ۔
استادِ محترم! تقطیع کر کے دیکھا، "مفعول فاعلات مفاعیل فعولن" یہ بحر نکلتی ہے، اب اس بحر کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں آپ ہی بتا سکتے ہیں۔ اگر بحر غلط ہے تو درست بحر سے آگاہ فرمادیں، میں انشاءاللہ نظم کو اس بحر میں ڈھال کر آپ کی خدمت میں منظوری کے لئے پیش کردوں گا، اور اگر بحر درست ہے اور اشعار بحر کے مطابق نہیں تو بھی ارشاد فرما دیں، میں درست کرنے کے بعد آپ کے خدمت میں پیش کردوں گا۔
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 4:02 صبح
بہت خوب راجا بھائی! معاشرے کی عکاسی کرتی ایک دلسوز غزل۔
شکرگزار ہوں ذوالقرنین بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 4:03 صبح
اس دور کا ہے صاحبِ زر صاحبِ عزت
قانون بھی اسی کا ہے جو صاحبِ دولت
حیرت کی آنکھ خود بھی ہے حیران یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
سب ملکر دعا کرو کہ اب وہ " صاحبِ زر " کبھی مسندِ اقتدار پر نہ آئے آمین
آمین
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 4:03 صبح
راجہ صاحب ، بہت عمدہ ، ہر شعر لاجواب
خوش رہیں
حوصلہ افزائی کے لئے شکرگزار ہوں زبیر بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 4:06 صبح
ایسے دستور کو​
صبحِ بے نور کو​
میں نہیں مانتا​
میں نہیں جانتا​
میں بھی نہیں مانتا ۔ ۔ ۔ سٹ پنجہ :box:
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 4:10 صبح
ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے۔
امجد علی راجا صاحب!
میرے لیے یہ نیا وزن ہے، میرے ذہن میں تو اس کے ارکان یوں بن رہے ہیں:
مفعول فاعلات مفاعیل فعولن
اگر غلط ہوں تو راہنمائی فرمائیں۔
نیز بحر کا نام بھی بتادیں تو ممنون ہوں گا۔
شکریہ، اسامہ بھیا!
آپ نے ارکان بلکل درست لکھے ہیں۔
استادِ محترم محمد یعقوب آسی صاحب نے بھی بحر سے ناشناسی کا اظہار کر کے بحر کے درست ہونے میں مجھے شک میں ڈال دیا ہے۔
ان کے جواب کے بعد ہی میں کچھ عرض کر سکوں گا، کہ اساتذہ ہی بہتر رائے دے سکتے ہیں اور رہنمائی فرما سکتے ہیں۔
امجد علی راجا — مارچ 18، 2013 4:14 صبح
راجا جی
کس راہ پر چل نکلے ہو
بڑی ہی پُرخار ہے یہ راہ
اس کے کانٹے روح تک کو زخمی کر دیتے ہیں
بہت خوب لکھا
شاد و آباد رہیں
شکریہ!
شہزاد ناصر بھیا، اس راہ کے مسافر ہیں تو ہم سبھی ہیں، کیا کریں ابھی تک زندہ جو ہیں۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%B1-%D8%B1%D9%88%D8%B2-%D9%84%D9%B9-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%81%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86-%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%D8%B8%D9%85.61124/