جناب
امجد علی راجا صاحب!
بہت اچھی نظم ہے، اور یہ کسی ایک مقام کا حال نہیں بلکہ اکثر مقامات کا یہی حال ہے، کیا کہئےِِ۔۔
بحر کے متعلق:
درج ذیل 2 بحریں دیکھیں۔
1۔ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
2۔ مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
اور آپ نے ان کی "کامبنیشن" استعمال کی ہے، جو درست نہیں۔
اب یا تو آپ اپنا دوسرا رکن "مفاعیل" کریں یا چوتھا رکن "فاعلن (یا فاعلات)" لائیں۔
اگر یہ مسئلہ مجھے درپیش ہوتا تو میں آخری رکن میں تبدیلی کرتا کیونکہ یہ مجھے آسان لگتا ہے۔
ایک مثال:
کیا کچھ نہیں خرید کا سامان اس جگہ
شکریہ!!
شکریہ شوکت بھیا! نظم پسند کرنے کا۔
استعمال کرنے دو بھائی بحور کا کامبینیشن ایک نیا تجربہ ہو جائے گا۔ مصرعوں میں تبدیلی کی مشقت کیوں کٹوا رہو ہو مجھے

1۔ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
2۔ مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
ہو سکتی ہیں تو
3۔ مفعول فاعلات مفاعیل مفاعل
کیوں نہیں ہو سکتی؟
آپ کی پیش کردہ بحور بھی تو کسی نا کسی دور میں بنائی گئی ہوں گی نا، کوئی آسمان سے تو نہیں اتریں کہ ناقابلِ ترمیم ہوں۔
آخری رکن فاعلن کی بجائے مفاعل ہو جائے گا تو کون سی قیامت آجائے گی۔
او بھیا جی ، میں نے مشقت سے اپنی جان چھڑانے کے لئے اس طرح لکھ دیا، اس سے پہلے کہ مجھ ناچیز پر اردو کے مشکل ترین اور نا سمجھ آنے والے الفاظ کی ہر طرف سے بوچھاڑ شروع ہو جائے۔ میں اپنی بحر، نئے تجربے سمیت واپس لیتا ہوں
