ہماری تک بندیاں

ابن سعید — اگست 12، 2013 10:28 شام
بُعدِ خمسہ بغل میں دابے، ستہ سبعہ جھولی میں! :) :) :)
الف عین — اگست 13، 2013 4:00 صبح
بہت خوب سعود۔ غزل اب دیکھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس دھاگے میں کچھ چہلیں چل رہی ہوں گی
محمد بلال اعظم — اگست 13، 2013 4:22 صبح
اوئے بچے! یہ کس سزا کا فرمان جاری کر دیا۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی سب اسی لڑی میں قید ہیں، علیحدہ سے کتاب کا الزام کیوں دینا؟ بہت خوش رہیں شہزادے۔۔۔ :) :) :)
ہائے۔۔۔ کیا زمانہ آ گیا ہے۔ محفل پہ کوئی بھی کتاب کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ نہ احمد بھائی، نہ فاتح بھائی، نہ آپ۔ کئی ماہ پہلے مغزل بھائی کی کتاب کی خبر سنی تھی لیکن اب تو اس کی بھی کچھ خیر خبر نہیں۔ خود ہی ڈھونڈ ڈھونڈ کے پرھنی پڑھتی ہیں:ROFLMAO:
سید شہزاد ناصر — اگست 14، 2013 7:11 شام
خوشی ہوئی کہ اپ میں بھی شاعری کے جراثیم پائے جاتے ہیں
سوچ رہا ہوں اگر یہ تک بندیاں ہیں تو آپ کی صیح شاعری کیسی ہو گی
بہت خوش رہیں
ابن سعید — اگست 14، 2013 7:12 شام
بہت خوب سعود۔ غزل اب دیکھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس دھاگے میں کچھ چہلیں چل رہی ہوں گی
وہ بھی چہلوں کا ہی حصہ ہے چاچو جانی! :) :) :)
ابن سعید — اگست 14، 2013 7:14 شام
ہائے۔۔۔ کیا زمانہ آ گیا ہے۔ محفل پہ کوئی بھی کتاب کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ نہ احمد بھائی، نہ فاتح بھائی، نہ آپ۔ کئی ماہ پہلے مغزل بھائی کی کتاب کی خبر سنی تھی لیکن اب تو اس کی بھی کچھ خیر خبر نہیں۔ خود ہی ڈھونڈ ڈھونڈ کے پرھنی پڑھتی ہیں:ROFLMAO:
بھئی ہماری تک بندیاں علیحدہ لڑیوں میں بکھری ہوئی نہیں ہیں کہ ڈھونڈنا پڑے۔ اور ہیں بھی تو اتنی کہ انگلیوں پر شمار کیجیے تو تکبندیاں تمام ہو جائین اور انگلیاں ماندہ رہ جائیں! :) :) :)
ابن سعید — اگست 14، 2013 7:14 شام
خوشی ہوئی کہ اپ میں بھی شاعری کے جراثیم پائے جاتے ہیں
سوچ رہا ہوں اگر یہ تک بندیاں ہیں تو آپ کی صیح شاعری کیسی ہو گی
بہت خوش رہیں
ہوگی ہی نہیں! :) :) :)
سید شہزاد ناصر — اگست 14، 2013 7:16 شام
جناب ہو گی ہی نہیں ہو گئی ہے :)
حقیٖت تسلیم کر لیں جناب بہت ہی خوب کلام ہے
ابن سعید — اگست 14، 2013 7:23 شام
جناب ہو گی ہی نہیں ہو گئی ہے :)
حقیٖت تسلیم کر لیں جناب بہت ہی خوب کلام ہے
احباب کی محبت جو چاہے الزام بخشے پر شاعری تو تب تک شاعری نہیں جب تک وہ شاعر پر طاری نہ ہو یا پھر وارد نہ ہو۔ :) :) :)
سید شہزاد ناصر — اگست 14، 2013 7:30 شام
احباب کی محبت جو چاہے الزام بخشے پر شاعری تو تب تک شاعری نہیں جب تک وہ شاعر پر طاری نہ ہو یا پھر وارد نہ ہو۔ :) :) :)
جناب من یہ جگر کی کان کھود کر ہیرا نکالنے کا فن ہے جگر کا خون جلانا پڑتا ہے اور یہ بکھیڑے وہی پالتا ہے جو اس کا اہل ہو اقبال نے کیا خوب کہا ہے
نقش سب ناتمام ہیں خون جگر کے بغیر
نغمہ سودائے خام ہے خون جگر کے بغیر
اور اس تخلیق میں آپ نے جو خون جگر جلایا اس کی آنچ پڑھنے والا بھی محسوس کر سکتا ہے
شاد و آباد رہیں
ابن سعید — اگست 14، 2013 7:33 شام
جناب من یہ جگر کی کان کھود کر ہیرا نکالنے کا فن ہے جگر کا خون جلانا پڑتا ہے اور یہ بکھیڑے وہی پالتا ہے جو اس کا اہل ہو اقبال نے کیا خوب کہا ہے
نقش سب ناتمام ہیں خون جگر کے بغیر
نغمہ سودائے خام ہے خون جگر کے بغیر
اور اس تخلیق میں آپ نے جو خون جگر جلایا اس کی آنچ پڑھنے والا بھی محسوس کر سکتا ہے
شاد و آباد رہیں
اب زیادہ کچھ کہا تو ڈانٹ پڑ جائے گی۔۔۔ :) :) :)
سید شہزاد ناصر — اگست 14، 2013 7:34 شام
اب زیادہ کچھ کہا تو ڈانٹ پڑ جائے گی۔۔۔ :) :) :)
کس سے ڈانٹ پڑ جائے گی :)
ابن سعید — اگست 14، 2013 7:53 شام
کس سے ڈانٹ پڑ جائے گی :)
پوچھیں کس سے نہیں پڑ سکتی ہے! :) :) :)
kainat aarzoo — اگست 14، 2013 8:34 شام
buhaaattt buhaaaatt achhhaa laggaa... well done bhaaiiyyaa...
kainat aarzoo — اگست 14، 2013 8:51 شام
ے
تک بندیوں میں ایک اور اضافہ
کچھ پھول یہاں رنگوں سے عاری بھی کھلے تھے
پر آج انھیں پیڑوں کی شاخوں پہ ثمر ہے
چہروں پہ کئی چہرے لپیٹے ہیں یہاں لوگ
جو بھانپ لے سچائی وہی اہل نظر ہے
دیکھے ہیں کئی پیڑ یہاں سوکھتے ہم نے
رہتا ہے ہرا صحرا میں کیسا وہ شجر ہے
پلکوں کے جھروکوں سے ذرا جھانک کے دیکھو
ہلکورے ہیں شفقت کے کہ شدّت کی لہر ہے
مت مانو کہ باتیں ہیں یہ سو سال پرانی
شہرت ہے یہی اس کی کہ یہ تنگ نظر ہے
سعود عالم ابن سعید[/quote
yeee ittttnnaaa zyaaddaa achhhhaaa likhhhaaa hai bhaiiiyyyaa ne k mujhay tou shaed itna acha parhna bi nahiii aata .. :)))
ابن سعید — اگست 14، 2013 9:41 شام
buhaaattt buhaaaatt achhhaa laggaa... well done bhaaiiyyaa...
کائینات بٹیا، محفل میں آپ کا ایک اور اکاؤنٹ بھی موجود ہے۔ آپ اب محفل کو بھی باقاعدہ وقت دیا کریں اور محفلین سے اپنا تعارف بھی کرا دیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اردو لکھنا سیکھ لیں، جو کہ آپ کو توقعات سے بھی زیادہ سہل ہے۔ :) :) :)
منصور آفاق — اگست 15، 2013 2:07 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے ۔ خاص طور پر الفاظ جو التزام آپ نے کیا ہے اس پر داد نہ دینا بے ذوقی ہوگی ۔ کیا اچھا مطلع ہے
صبا سبک خرام ہے، کہ شب شبینہ کام ہے
رگوں میں راگ و رنگ کا رواں یہ دورِ جام ہے
ابن سعید — اگست 15، 2013 2:12 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے ۔ خاص طور پر الفاظ جو التزام آپ نے کیا ہے اس پر داد نہ دینا بے ذوقی ہوگی ۔ کیا اچھا مطلع ہے
صبا سبک خرام ہے، کہ شب شبینہ کام ہے
رگوں میں راگ و رنگ کا رواں یہ دورِ جام ہے
افف خدایا! منصور بھائی آپ کے یہ الفاظ۔۔۔ ان کو کہاں برتیں ہم؟ :) :) :)
قرۃالعین اعوان — اگست 23، 2013 11:10 شام
صبا سبک خرام ہے، کہ شب شبینہ کام ہے
رگوں میں راگ و رنگ کا رواں یہ دورِ جام ہے
خلش خلش ہے چار سو، جنوں جنوں گلی گلی
نویدِ نیشِ دائمی، کہ عشقِ نا تمام ہے
گئے دنوں کی یاد بھی، رلاتی ہے، ہنساتی ہے
کہیں پہ غم، کہیں خوشی، حیات اسی کا نام ہے
یہ آ کے جاتی روشنی، یہ جا کے آتی تیرگی
کسے یہاں ثبات ہے، کسے یہاں دوام ہے
اصول فاصلے جنے، مفاہمت وصال ہے
حصول قاتلِ طلب، ادائے بے مرام ہے
لبوں سے گویا چھو لیا، شرار سا اڑا دیا
وہ عارضِ شفق نما، نگاہِ رنگِ شام ہے
--
ابنِ سعید

:musical-note: آڈیو ریکارڈنگ! :) :) :)

لاجواب بھیا!
کیا ہی روانی ہے تمام اشعار نہایت خوبصورتی سے پروئے گئے ہین۔۔!
بہت خوب!
:):)
منصور آفاق — اگست 28، 2013 12:28 صبح
یاسمین حبیب صاحبہ نے آپ کی غزل کو بہت پسند کیا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA.11204/page-22