سچ اور حق پر زور آزمائی اسی لیے کی تھی کیونکہ سچائی اور حقیقت جیسے الفاظ کے استعمال سے مصرع بے وزن ہو رہا تھا (البتہ اس بحر میں ایسی کوئی اجازت موجود ہو تو الگ بات ہے)۔ فی الحال ہم نے وہ مصرع یکسر تبدیل کر دیا ہے اور اب پھر سے وہی سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کہیں دونوں مصرعے غیر مربوط تو نہیں ہو گئے۔
ایسی کوئی اجازت تو نہیں اس بحر میں ، سعود بھائی۔ سچائی والی تجویز کھانا کھانے سے پہلے کی تھی۔

اب ڈنر کرلیا ہے تو ایک باوزن تجویز ذہن میں آرہی ہے:
دن بھر افواہوں کے تیر برسا کیے
زخم سچائی کھاتی رہی رات بھر
یہ مصرعے مربوط ہیں اورشعر کا بنیادی خیال مجروح نہیں ہورہا۔ اسے دیکھ لیجیے۔