پیالے کا یہ جرم تو سن 2007 کا ہے جب ہم محفل کا حصہ بھی نہیں بنے تھے۔ اس کے دو برس بعد فی البدیہ شاعری کی لڑی میں جرم مکرر پر ہماری گرفتاری عمل میں آئی۔ ہم نے بطور رشوت صفائی دینے کی کوشش کی تو وزن کے وزن کو لے کر ایک اور سنگین جرم بے عمد سرزد ہو گیا۔ اس قضیے کا مکمل احوال
اس ربط پر جا کر چند مراسلات ما بعد میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

ویسے دکتور
فاتح کا ماننا ہے کہ پیالہ بر وزن چھالا "بھی" درست ہے اور قدیم کلاموں میں گاہے گاہے مستعمل ملتا ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ کا کلام، "
پیا باج پیالہ پیا جائے نہ"۔ موصوف نے خود بھی اپنے ایک کلام، "
اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا" میں اسے ایسے باندھا ہے (محفل میں
اس کی پیروڈی بھی موجود ہے)۔ خیر یہ تو اتفاقیہ صفائی کہی جا سکتی ہے ورنہ ہم سچ میں پیالہ کو اسی طرح پڑھتے رہے ہیں جیسے اپنی تک بندی میں استعمال کیا ہے جو کہ یقیناً عادت بد میں شمار کی جانی چاہیے۔ اگر یہ واقعی درست نہیں تو مذکورہ مصرعہ تبدیل کرنے کے بارے میں یقیناً سوچیں گے۔
سعود بھائی جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ الفاظ کا معاملہ چلن اور رواج سے متعلق ہے ۔ کسی لفظ کا تلفظ ، املا ، محلِ استعمال ، معنی وغیرہ اس بات پر منحصر ہیں کہ اہلِ زبان ( کے مستند ادبا ء و شعراء) نے اسے کس طرح برتا ہے ۔ بے شک ہم لوگ پیالہ کا تلفظ ہندی الفاظ کے طرز پر مختصر اور مخلوط ’’ی‘‘ کے ساتھ کرتے ہیں لیکن دستور کے مطابق لکھنے میں اس کے اصل فارسی تلفظ ہی کا اعتبار کیا جائے گا ۔ درجنوں دیگر الفاظ کے ساتھ بھی ہم سب یہی سلوک کرتے ہیں ۔ مثلا گرم ، شرم ، شمع، شرح ، صبر ، وزن وغیرہ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وزن کو وَزَن کہے بغیر بات میں وزن ہی پیدا نہیں ہوتا ۔



رہی بات قلی قطب شاہ کی تو ان کو اردو کا اولین صاحبِ کتاب شاعر مانا جاتا ہے اور ان کا دور سولہویں صدی کے آخر کا ہے ۔ اس زمانے میں گیسوئے اردو تو ابھی شانوں تک بھی نہیں پہنچے تھے بلکہ یوں کہئے کہ ابھی اُگنا شروع ہوئے تھے ۔



قلی قطب کی شاعری کی تاریخی حیثیت ضرور ہے لیکن اسے کسی طور بھی مستند نہیں کہا جاسکتا ۔ ان کی شاعری میں بے شمار الفاظ کو ان کے اصل تلفظ سے ہٹ کر باندھا گیا ہے ۔ ان کی جس غزل کا حوالہ آپ نے دیا ہے اسی کے ایک شعر میں انہوں نے پند کو دو حرفی یعنی بروزن پن باندھا ہے ۔ ان کی کوئی غزل ایسی نہیں کہ جس میں غلط اوزان کی ایسی مثالیں نہ ہوں ۔ دراصل اس میں قصور ان کا نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ اول اول جب اردو زبان بننا شروع ہوئی تو اس وقت عربی فارسی اور ہندی کی ایسی کھچڑی پکنا شروع ہوئی کہ اس میں دال اور چاول کی تمیز ممکن نہ تھی ۔ لوگ جیسا بولتے تھے ویسا ہی لکھا جاتا تھا ۔ یہ تو مرزا مظہر جانجاناں اور حاتم شاہ وغیرہ کے دور میں جا کر فارسی ، عربی اور مقامی الفاظ کے تفرقے کی تحریک شروع ہوئی اور پھر اس کی کوکھ سے بعد ازاں فصیح و غیر فصیح کے مسائل پیدا ہوئے ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ اس مزاج اور رویے نے اردو کے ارتقا کو روک دیا اور بجائے آسانی کے لسانی مشکلات پیدا کی ہیں ۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے ۔
حاصلِ کلام یہ کہ پیالہ کا وزن فعولن ہے اور اسی وزن پر تمام اساتذہ نے اسے باندھا ہے ۔ اگر ایک آدھ قدیم شاعر نے اسے کہیں فعلن کے وزن پر باندھا ہے تو اسے استثناء کا درجہ دیا جائے گا نہ کہ اصول کا ۔ اصول وہی ہے کہ جس پر شعراء اور ادباء کی اکثریت عملی طور پر متفق ہے ۔