ہماری تک بندیاں

منیب الف — فروری 17، 2018 8:27 صبح
نہایت خوب صورت! تک بندیاں کہہ کر اتنے اچھے شعر سنائیں گے تو شعر کہہ کر کیا سنائیں گے؟
ابن سعید — فروری 17، 2018 10:12 شام
اور ایک نیا لفظ آپ سے سیکھنے کو ملا ۔ ۔۔۔ خواب سنجوئے ہوئے ۔۔۔۔ سنجونے کا کیا مطلب ہے ؟ ہندی لفظ لگ رہا ہے ۔
جی ہاں، "سنجونا" ہندی الاصل لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو سجانا سنوارنا، بہت دلار اور پیار سے پالنا، یکجا کرنا یا جمع کرنا، احتیاط سے مرتب کرنا۔ اس سے ملتا جلتا ایک اور لفظ ہے "سینتنا" یعنی حفاظت سے رکھنا، سنبھال کر ذخیرہ کرنا، بعد کے لیے بچا کر رکھنا۔ البتہ سینت یا سینتی کا ایک اور مفہوم بھی ہوتا ہے جسے مال مفت کہا جا سکتا ہے۔ :) :) :)
ابن سعید — فروری 17، 2018 11:04 شام
بس ایک نظر پہلے بند کو دیکھ لیجئے ۔ لفظ پیالہ وزن میں نہیں آرہا ۔
پیالے کا یہ جرم تو سن 2007 کا ہے جب ہم محفل کا حصہ بھی نہیں بنے تھے۔ اس کے دو برس بعد فی البدیہ شاعری کی لڑی میں جرم مکرر پر ہماری گرفتاری عمل میں آئی۔ ہم نے بطور رشوت صفائی دینے کی کوشش کی تو وزن کے وزن کو لے کر ایک اور سنگین جرم بے عمد سرزد ہو گیا۔ اس قضیے کا مکمل احوال اس ربط پر جا کر چند مراسلات ما بعد میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ :) :) :)
ویسے دکتور فاتح کا ماننا ہے کہ پیالہ بر وزن چھالا "بھی" درست ہے اور قدیم کلاموں میں گاہے گاہے مستعمل ملتا ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ کا کلام، "پیا باج پیالہ پیا جائے نہ"۔ موصوف نے خود بھی اپنے ایک کلام، "اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا" میں اسے ایسے باندھا ہے (محفل میں اس کی پیروڈی بھی موجود ہے)۔ خیر یہ تو اتفاقیہ صفائی کہی جا سکتی ہے ورنہ ہم سچ میں پیالہ کو اسی طرح پڑھتے رہے ہیں جیسے اپنی تک بندی میں استعمال کیا ہے جو کہ یقیناً عادت بد میں شمار کی جانی چاہیے۔ اگر یہ واقعی درست نہیں تو مذکورہ مصرعہ تبدیل کرنے کے بارے میں یقیناً سوچیں گے۔ :) :) :)
ظہیراحمدظہیر — فروری 19، 2018 7:46 شام
جی ہاں، "سنجونا" ہندی الاصل لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو سجانا سنوارنا، بہت دلار اور پیار سے پالنا، یکجا کرنا یا جمع کرنا، احتیاط سے مرتب کرنا۔ اس سے ملتا جلتا ایک اور لفظ ہے "سینتنا" یعنی حفاظت سے رکھنا، سنبھال کر ذخیرہ کرنا، بعد کے لیے بچا کر رکھنا۔ البتہ سینت یا سینتی کا ایک اور مفہوم بھی ہوتا ہے جسے مال مفت کہا جا سکتا ہے۔ :) :) :)

بہت شکریہ سعود بھائی ! سیاق و سباق سے اندازہ ہورہا تھا کہ سنجونا کے معنی کچھ اسی قبیل کے ہونگے۔
سینتنا تو اردو میں عام مستعمل ہے اور ہمارے خاندان میں بھی بولا جاتا ہے ۔
ایک نیا لفظ دینے کے لئے بہت شکریہ ۔ ہم اسے سینت سینت کر رکھیں گے ۔ :):):)
ظہیراحمدظہیر — فروری 19، 2018 7:51 شام
پیالے کا یہ جرم تو سن 2007 کا ہے جب ہم محفل کا حصہ بھی نہیں بنے تھے۔ اس کے دو برس بعد فی البدیہ شاعری کی لڑی میں جرم مکرر پر ہماری گرفتاری عمل میں آئی۔ ہم نے بطور رشوت صفائی دینے کی کوشش کی تو وزن کے وزن کو لے کر ایک اور سنگین جرم بے عمد سرزد ہو گیا۔ اس قضیے کا مکمل احوال اس ربط پر جا کر چند مراسلات ما بعد میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ :) :) :)
ویسے دکتور فاتح کا ماننا ہے کہ پیالہ بر وزن چھالا "بھی" درست ہے اور قدیم کلاموں میں گاہے گاہے مستعمل ملتا ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ کا کلام، "پیا باج پیالہ پیا جائے نہ"۔ موصوف نے خود بھی اپنے ایک کلام، "اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا" میں اسے ایسے باندھا ہے (محفل میں اس کی پیروڈی بھی موجود ہے)۔ خیر یہ تو اتفاقیہ صفائی کہی جا سکتی ہے ورنہ ہم سچ میں پیالہ کو اسی طرح پڑھتے رہے ہیں جیسے اپنی تک بندی میں استعمال کیا ہے جو کہ یقیناً عادت بد میں شمار کی جانی چاہیے۔ اگر یہ واقعی درست نہیں تو مذکورہ مصرعہ تبدیل کرنے کے بارے میں یقیناً سوچیں گے۔ :) :) :)

سعود بھائی جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ الفاظ کا معاملہ چلن اور رواج سے متعلق ہے ۔ کسی لفظ کا تلفظ ، املا ، محلِ استعمال ، معنی وغیرہ اس بات پر منحصر ہیں کہ اہلِ زبان ( کے مستند ادبا ء و شعراء) نے اسے کس طرح برتا ہے ۔ بے شک ہم لوگ پیالہ کا تلفظ ہندی الفاظ کے طرز پر مختصر اور مخلوط ’’ی‘‘ کے ساتھ کرتے ہیں لیکن دستور کے مطابق لکھنے میں اس کے اصل فارسی تلفظ ہی کا اعتبار کیا جائے گا ۔ درجنوں دیگر الفاظ کے ساتھ بھی ہم سب یہی سلوک کرتے ہیں ۔ مثلا گرم ، شرم ، شمع، شرح ، صبر ، وزن وغیرہ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وزن کو وَزَن کہے بغیر بات میں وزن ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ :):):)
رہی بات قلی قطب شاہ کی تو ان کو اردو کا اولین صاحبِ کتاب شاعر مانا جاتا ہے اور ان کا دور سولہویں صدی کے آخر کا ہے ۔ اس زمانے میں گیسوئے اردو تو ابھی شانوں تک بھی نہیں پہنچے تھے بلکہ یوں کہئے کہ ابھی اُگنا شروع ہوئے تھے ۔ :):):) قلی قطب کی شاعری کی تاریخی حیثیت ضرور ہے لیکن اسے کسی طور بھی مستند نہیں کہا جاسکتا ۔ ان کی شاعری میں بے شمار الفاظ کو ان کے اصل تلفظ سے ہٹ کر باندھا گیا ہے ۔ ان کی جس غزل کا حوالہ آپ نے دیا ہے اسی کے ایک شعر میں انہوں نے پند کو دو حرفی یعنی بروزن پن باندھا ہے ۔ ان کی کوئی غزل ایسی نہیں کہ جس میں غلط اوزان کی ایسی مثالیں نہ ہوں ۔ دراصل اس میں قصور ان کا نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ اول اول جب اردو زبان بننا شروع ہوئی تو اس وقت عربی فارسی اور ہندی کی ایسی کھچڑی پکنا شروع ہوئی کہ اس میں دال اور چاول کی تمیز ممکن نہ تھی ۔ لوگ جیسا بولتے تھے ویسا ہی لکھا جاتا تھا ۔ یہ تو مرزا مظہر جانجاناں اور حاتم شاہ وغیرہ کے دور میں جا کر فارسی ، عربی اور مقامی الفاظ کے تفرقے کی تحریک شروع ہوئی اور پھر اس کی کوکھ سے بعد ازاں فصیح و غیر فصیح کے مسائل پیدا ہوئے ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ اس مزاج اور رویے نے اردو کے ارتقا کو روک دیا اور بجائے آسانی کے لسانی مشکلات پیدا کی ہیں ۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے ۔
حاصلِ کلام یہ کہ پیالہ کا وزن فعولن ہے اور اسی وزن پر تمام اساتذہ نے اسے باندھا ہے ۔ اگر ایک آدھ قدیم شاعر نے اسے کہیں فعلن کے وزن پر باندھا ہے تو اسے استثناء کا درجہ دیا جائے گا نہ کہ اصول کا ۔ اصول وہی ہے کہ جس پر شعراء اور ادباء کی اکثریت عملی طور پر متفق ہے ۔
ابن سعید — فروری 20، 2018 2:43 صبح
ایک نیا لفظ دینے کے لئے بہت شکریہ ۔ ہم اسے سینت سینت کر رکھیں گے ۔ :):):)
سینتی کا مال ہے سینت لیں! :) :) :)
ظہیراحمدظہیر — فروری 20، 2018 4:03 صبح
سینتی کا مال ہے سینت لیں! :) :) :)
مال ایسا ہے کہ جلدی سے اٹھائے نہ بنے
:):):)
سفیر آفریدی — دسمبر 31، 2018 12:10 صبح
ہاہا
سفیر آفریدی — دسمبر 31، 2018 12:14 صبح
تمام نہیں پڑهی جیسے پسندیدہ کلام میں ہر شاعر کے عزل اور کلام ہے اگر آپکے پاس مجموعہ ہے غزلوں کی تو بہتر ہے وہاں اپنے نام کی پہچان رکهتے
سفیر آفریدی — جنوری 1، 2019 4:15 صبح
جی بنیادی طور جب تحریک چلائی گئی ایسے ایک اهم زبان دینے کی اور کوشش کی گئ اب چاهئیے ایسے بنیادی سیکها اور بولا جائے غزل کی اصلاح بحر ردیف اور قافیے چهوڑ کر
صرف مذکر اور مونث
روزمرہ کی بول چال میں اس کی پیر توڑے جاتے ہیں میرا کہنا ہے غزل پر اس حوالے سے تنقید درست ہوگا نہیں
مگر ضروری ہے عام لوگوں کی سمجهہ کے مطابق عام لفظ میں احساس ڈهالا جائے
محمد علم اللہ — نومبر 22، 2019 11:59 صبح
ابن سعید بھیا کہیں نظر آئیں تو بتائیے گا ۔۔
ابن سعید — نومبر 22، 2019 1:06 شام
ابن سعید بھیا کہیں نظر آئیں تو بتائیے گا ۔۔
:) :) :)
جاسمن — نومبر 22، 2019 1:20 شام
ابن سعید ہمیشہ کی طرح تین مسکراہٹیں لیے:):):)
سیما علی — جولائی 27، 2020 7:08 شام
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
آج قدموں میں ہمارے بھی کنارہ ہوتا
کسی گمراہ مسافر کے ہی کام آ جاتا
ماہِ تاباں نہ سہی بھور کا تارا ہوتا
آج کس منھ سے میں امیدِ شفاعت رکھوں
اسمِ وحدت جو کبھی لب سے گزارا ہوتا
رہگزر زیست کی لمبی سہی دشوار سہی
سہل ہو جاتی اگر تیرا سہارا ہوتا
کپکپاتی ہوئی شمع نے بھی دم توڑ دیا
صبح‌ نو خیز نے ٹک سر تو ابھارا ہوتا

سعود عالم ابنِ سعید
کتبہ: 12 مارچ، 2008
واہ واہ کیا کہنے!!!!؟!!
ابن سعید — مئی 9، 2025 4:41 شام
جنگ کی آنچ آتی رہی رات بھر
امن کی جان جاتی رہی رات بھر
روشنی ڈر کے مارے کہیں چھپ گئی
تیرگی مسکراتی رہی رات بھر
اپنے ہمسائے مشکوک لگتے رہے
دوستی خوف کھاتی رہی رات بھر
بن کے اولے برستی رہیں گولیاں
موت ملہار گاتی رہی رات بھر
توپیں دغتی رہیں لوگ مرتے رہے
زندگی تھرتھراتی رہی رات بھر
غم بھی تھا ہر طرف اور غصہ بھی تھا
عقل بھی مات کھاتی رہی رات بھر
خوف و دہشت کے بادل پریشاں رہے
نیند بھی کسمساتی رہی رات بھر
آنکھ کے بدلے آنکھیں نشانہ رہیں
اور بینائی جاتی رہی رات بھر
دن میں بازار افواہوں کے گرم تھے
منہ صداقت چھپاتی رہی رات بھر
جھوٹ کی آگ شب بھر بھڑکتی رہی
اور سچ کو جلاتی رہی رات بھر
--
سعود عالم ابنِ سعید
کتبہ: 9 مئی، 2025

نوٹ: مخدوم محی الدین کی مشہور زمانہ غزل، "آپ کی یاد آتی رہی رات بھر"، کی زمین میں۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 9، 2025 4:49 شام
بہت خوب ، سعود بھائی ! بالکل درست عکاسی کی ہے کیفیات کی! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
انتہائی تشویشناک صورتحال ہے ۔میری تو زبان اور قلم دونوں گنگ ہیں۔ اللہ کریم اپنا فضل فرمائے اور امن قائم کردے ۔آمین!
سکون ، نرخ اورسچ آپ نے مؤنث استعمال کیے؟!
ابن سعید — مئی 9، 2025 5:01 شام
سکون ، نرخ اورسچ آپ نے مؤنث استعمال کیے؟!
پہلی ڈرافٹ میں تو اور بھی ایسے کئی مسائل تھے، ان کو درست کر دیا تھا، لیکن یہ رہ گئے تھے۔ نشاندہی کا شکریہ، ہم ان کا کچھ کرتے ہیں۔
جاسمن — مئی 9، 2025 5:19 شام
درست عکاسی کرتی ہوئی غزل۔ بہت خوب!
ایسا ہی ہے۔ :)
ابن سعید — مئی 9، 2025 5:28 شام
ظہیراحمدظہیر بھائی، ہم نے فوری طور پر کچھ پیوند کاری کر دی ہے۔ کچھ الفاظ بھرتی کے لگ رہے ہیں اور کچھ ترکیبیں بھی مشکوک ہیں۔ رہنمائی درکار ہے۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 9، 2025 5:52 شام
بہت خوب !
رات بھر جھوٹ کی آگ جلتی رہی
روح حق بلبلاتی رہی رات بھر
اگر بلبلاتی کے بجائے کپکپاتی کہیں تو جھوٹ اور سچ کے تضاد کی کیفیت اور نمایاں ہوجائے گی۔ آگ اور کپکپانے کا تضاد نظر آئے گا۔
دن میں بازار افواہ کے گرم تھے
قدر جاں نیچے جاتی رہی رات بھر
قدرِ جاں اور افواہ غیر مربوط سے معلوم ہوتے ہیں ۔افواہ کی نسبت سے دوسرے مصرع میں حقیقت یا صداقت کا ذکر میری ناقص رائے میں زیادہ بہتر ہوگا۔
بقیہ جمعے کے بعد دیکھتا ہوں ، سعود بھائی ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA.11204/page-27