پہلی بات تو یہ کہ مل کے م پر زبر ہے۔ جس کا مطلب مالش کرنا، رگڑنا وغیرہ۔ خوشبو ملنا، تیل ملنا، ابٹن ملنا وغیرہ مستعمل ہیں۔ باقی تو آپ نے تعریفیں ہی کیں ہیں اس لئے کہنے کو کچھ رہتا نہیں سوائے شکریہ کے جو کہ میں کہوں گا نہیں۔
اوہ تو آپ کی یہ مراد تھی۔ اصل میں یہ چیز ایک جگہ نہیں اور بھی مقامات پر ملی ہوگی۔ اصل میں میری عادت ہے احتراماً جمع کا صیغہ استعمال کرنے کی اس لئے عام بول چال میں بھی ایسا ہی بولتا ہوں۔ مزے کی بات یہ کہ جب میں اسے ترتیب دے رہا تھا تبھی خیال گذرا تھا کہ کم از کم مغل بھیا اس بات کو ضرور سامنے لائیں گے۔
اوہ تو آپ کی یہ مراد تھی۔ اصل میں یہ چیز ایک جگہ نہیں اور بھی مقامات پر ملی ہوگی۔ اصل میں میری عادت ہے احتراماً جمع کا صیغہ استعمال کرنے کی اس لئے عام بول چال میں بھی ایسا ہی بولتا ہوں۔ مزے کی بات یہ کہ جب میں اسے ترتیب دے رہا تھا تبھی خیال گذرا تھا کہ کم از کم مغل بھیا اس بات کو ضرور سامنے لائیں گے۔
اچھی غزل ہے سعود صاحب، سبھی اشعار اچھے ہیں لیکن یہ بہت اچھا لگا مجھے۔ ہے بہت آساں مسائل کا بکھان آؤ سوچیں ہم نے کتنے حل دیے لیکن یہ شعر میری نظر میں بیت الغزل ہے، بلیغ ہے، خوبصورت ہے، لا جواب ہے، واہ واہ واہ ہیں ازل سے جنگ میں آندھی، شمع اور مسافر آئے، ٹھہرے، چل دیے
الف عین — فروری 17، 2009 4:36 شام
اچھی غزل ہے سعود۔ لیکن یہ شمع ’کھٹا‘ (تمہارے ’شٹائل‘ میں) کے وزن پر نظم کیا ہے۔ میں اس کو شمع بسکون م اور ع درست سمجھتا ہوں۔یعنی بر وزن ‘’کھاٹ‘۔
اچھی غزل ہے سعود صاحب، سبھی اشعار اچھے ہیں لیکن یہ بہت اچھا لگا مجھے۔ ہے بہت آساں مسائل کا بکھان آؤ سوچیں ہم نے کتنے حل دیے لیکن یہ شعر میری نظر میں بیت الغزل ہے، بلیغ ہے، خوبصورت ہے، لا جواب ہے، واہ واہ واہ ہیں ازل سے جنگ میں آندھی، شمع اور مسافر آئے، ٹھہرے، چل دیے
چاچو اس شمع کو چراغ نہ کر لوں؟ ایسا کرنے سے وزن سے خارج تو نہیں ہو جائے گا؟ اصل میں پچھلی بار جب شمع کے م کو مشدد کیا تھا تو فیڈ بیک میں اس کے دو تلفظ ملے تھے جن میں سے ایک بر وزن فعل تھا یعنی م مفتوح ع ساکن۔
ارے نہیں بھئی میں اس کام کے قابل نہیں ہوں۔ شمعِ محفل ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئی ہے اور یہی بحث اس تھریڈ کے پہلے صفحے پر ہے! وہاں جو عرض کیا تھا اور پھر دہراتا ہوں کہ شمع تشدید کے ساتھ تو ضرور غلط ہے لیکن فرہنگِ آصفیہ (جلد سوم) اور لغاتِ کشوری دونوں میں لکھا ہے کہ شمع کا صحیح عربی تلفظ شَمَع ہے لیکن فارسی اردو میں یہ میم ساکن کے ساتھ شمع (شم، ع) ہے۔ سو میرے نزدیک تو دونوں تلفظ صحیح ہیں! 'چراغ' آپ نے خوب سوچا، اور وزن تو آپ کی 'ابے کھٹ کھٹ' کا صحیح ہوتا ہی ہے، برسبیلِ تذکرہ، انشاء اللہ خان انشاء، 'ابے کھٹ کھٹ' یا مفاعیلن کو 'پری خانم' کے قبیل کے الفاظ سے لکھتے تھے
ابن سعید — فروری 18، 2009 1:36 صبح
جزاک اللہ وارث بھائی! پری خانم بھی خوب رہی۔ اور لگے ہاتھوں اس بارے میں بھی کچھ بتا دیتے جو زہرا بٹیا نے نکتہ اٹھایا ہے۔ میں نے جس طرح استعمال کیا ہے کیا اس کے جواز کی گنجائش ہے؟ ظاہر ہے "مل دیے" لکھنا یہاں ضرورتِ تک بندی کے تحت تھا۔
محمد وارث — فروری 18، 2009 5:44 صبح
بھئی شعر میں محل تو جمع کے صیغے کا ہی ہے لہذا اسطرح تو درست ہے، یہ مگر دوسری بات ہے کہ قافیہ 'مل' مجھے اچھا نہیں لگا۔
ابن سعید — فروری 18، 2009 6:11 صبح
جزاک اللہ خیر وارث بھائی۔ ویسے بھی میری تک بندیاں محفل سے باہر کم ہی جاتی ہیں۔ بس اسی دھاگے تک محدود ہوتی ہیں۔
ابن سعید — فروری 19، 2009 5:39 صبح
بھئ ایک شعر تو لکھنے سے رہ ہی گیا تھا جسے ابھی نو ٹس کیا۔
قدر کھو بیٹھا ہے وہ بوڑھا شجر
جس نے اب تک جانے کتنے پھل دئے
پیش ہے بغیر مطلع و مقطع کی ایک اور تک بندی رنگ اور خوشبو نزاکت تازگی
پھول پر فطرت نے کیا کچھ مل دیے ناتواں کے حوصلے کی اک مثال
تیرگی سے جوجھتے کومل دیے ہیں ازل سے جنگ میں آندھی چراغ
اور مسافر آئے ٹھہرے چل دیے ہے بہت آساں مسائل کا بکھان
آؤ سوچیں ہم نے کتنے حل دئے جل گئی لیکن نہ سیدھی ہو سکی
کس نے اس رسی کو اتنے بل دیے قدر کھو بیٹھا ہے وہ بوڑھا شجر
جس نے اب تک جانے کتنے پھل دئے حال دیکھو حال کا بے حال ہے
کس لئے قدرت نے دو دو کل دیے شادی یعنی فیصلہ اک نسل کا
سوچنے کو ایک پل دو پل دیے سعود ابن سعید
17/02/2009