ہم جسے اَن کہی سمجھتے تھے

ظہیراحمدظہیر — نومبر 8، 2022 2:21 شام
ایک نسبتاً تازہ غزل احبابِ کرام کے پیش خدمت ہے ۔ امید ہے کچھ اشعار آپ کے ذوقِ عالی تک باریاب ہوں گے۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!

***
ہم جسے اَن کہی سمجھتے تھے
بات وہ تو سبھی سمجھتے تھے
جیت کر ہم اُنہیں زمانے سے
جنگ جیتی ہوئی سمجھتے تھے
کتنے سادہ تھے ہم بچھڑتے وقت
ہجر کو عارضی سمجھتے تھے
ہم تھے آدابِ غم سے ناواقف
ہر ہنسی کو ہنسی سمجھتے تھے
گھر کے جلنے سے پہلے گھر والے
آگ کو روشنی سمجھتے تھے
-ق-
اپنے جذب و جنوں میں ہم وہ بات
جو نہ سمجھا کوئی ، سمجھتے تھے
جب تک ادراکِ ہست و بود نہ تھا
چیز خود کو بڑی سمجھتے تھے
لفظ و معنی پہ لڑ رہے تھے ہم
علم کو آگہی سمجھتے تھے
زندگی کا وہ پیش خیمہ تھا
ہم جسے زندگی سمجھتے تھے
۔
وقت الجھا گیا ہمیں ورنہ
ہم بھی خود کو کبھی سمجھتے تھے
تم سمجھتے ہو سادگی کو سہل
ہم بھی پہلے یہی سمجھتے تھے
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱
یاسر شاہ — نومبر 9، 2022 2:40 صبح
ظہیر بھائی ماشاء اللہ پیاری اور نفیس غزل ہے ۔ہر شعر عمدہ ۔
کیا اجازت ہے ایک بات کہوں
وہ مگر خیر کوئی بات نہیں
سید عاطف علی — نومبر 9، 2022 4:16 صبح
ہم بھی پہلے یہی سمجھتے تھے
واہ ظہیر بھائی واہ ۔ خوب کہا ہے ۔ خوب ۔
الف عین — نومبر 9، 2022 1:59 شام
واہ واہ، اچھی غزل ہے ظہیراحمدظہیر
ایس ایس ساگر — نومبر 9، 2022 3:49 شام
ماشاءاللہ ۔ عمدہ غزل ہے ظہیر بھائی۔
سلامت رہئیے۔( آمین)۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 9، 2022 4:28 شام
یہ غزل آپ کے عمومی اسلوب سے ہٹ کر لگی ... کلام کی سادگی اور بے ساختہ پن بہت بھلا معلوم ہوتا ہے. ماشاء اللہ
ظہیراحمدظہیر — نومبر 9، 2022 4:48 شام
ظہیر بھائی ماشاء اللہ پیاری اور نفیس غزل ہے ۔ہر شعر عمدہ ۔
کیا اجازت ہے ایک بات کہوں
وہ مگر خیر کوئی بات نہیں
آداب ، آداب ! نوازش ہے ، یاسر بھائی ! اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ۔
کیا بات ہے جون ایلیا کے شعر کی!
وہ شرم ، دہشت ، جھجک ، پریشانی والا قطعہ آخری مصرع تک یاد آگیا ۔:D
ظہیراحمدظہیر — نومبر 9، 2022 4:49 شام
واہ ظہیر بھائی واہ ۔ خوب کہا ہے ۔ خوب ۔
آداب ، تسلیمات ! نوازش ہے عاطف بھائی ! اللّٰہ کریم سلامت رکھے !
ظہیراحمدظہیر — نومبر 9، 2022 4:51 شام
بہت شکریہ ! ذرہ نوازی ہے ، اعجاز بھائی ! آپ کی تحسین سے دلی خوشی ہوتی ہے ۔
اللّٰہ کریم آپ کا سایہ تادیر سلامت رکھے !
ظہیراحمدظہیر — نومبر 9، 2022 4:53 شام
ماشاءاللہ ۔ عمدہ غزل ہے ظہیر بھائی۔
سلامت رہئیے۔( آمین)۔
بہت شکریہ ، بہت نوازش ، ساگر بھائی!
اللّٰہ کریم آپ کو سلامت رکھے، شاد و آباد رکھے !
سیما علی — نومبر 9، 2022 5:06 شام
وقت الجھا گیا ہمیں ورنہ
ہم بھی خود کو کبھی سمجھتے تھے
تم سمجھتے ہو سادگی کو سہل
ہم بھی پہلے یہی سمجھتے تھے
ماشاء اللہ
بہت بہترین
ہر شعر خوبصورت
سلامت رہیے آمین ۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 9، 2022 5:07 شام
یہ غزل آپ کے عمومی اسلوب سے ہٹ کر لگی ... کلام کی سادگی اور بے ساختہ پن بہت بھلا معلوم ہوتا ہے. ماشاء اللہ
آداب ، آداب ! بہت نوازش ، شکریہ راحل بھائی !
آپ کا تجزیہ بالکل درست ہے ۔ میرا بھی یہی مشاہدہ ہے کہ بحرِ خفیف کے اس وزن میں مصرعے عموماً آورد سے پاک ہوتے ہیں ۔ پچھلے دو تین سالوں میں کئی غزلیں اسی بحر میں لکھی ہیں ۔ یہ وزن میری طبع کو راس بھی آتا ہے ۔ ایک دو غزلیں اور پوسٹ کروں گا ، ان شاء اللّٰہ۔
راحل بھائی ، بڑی بحر میں مشکل مضامین تو خوب سماتے ہیں لیکن آورد سے دامن بچانا ذرا مشکل ہوجاتا ہے ۔ اب یہ خاکسار "فُل ٹائم" شاعر تو ہے نہیں کہ صبح و شام ٹُن ہو کر فکرِ سخن ہی میں پڑا رہے ۔ چلتے پھرتے کام کے دوران کچھ جیسا تیسا گھڑ لیتا ہوں ۔ آپ صاحبانِ سخن کے حرفِ قبولیت کی حرص یہاں لے آتی ہے ۔آپ لوگ حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ اللّٰہ کریم آپ لوگوں کو خوش رکھے !شاد و آباد رکھے!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 9، 2022 5:08 شام
ماشاء اللہ
بہت بہترین
ہر شعر خوبصورت
سلامت رہیے آمین ۔
بہت شکریہ ، بہت نوازش، سیما آپا! بہت ممنون ہوں ۔
سیما علی — نومبر 10، 2022 1:10 صبح
بہت شکریہ ، بہت نوازش، سیما آپا! بہت ممنون ہوں ۔
جیتے رہیے
شاد و آباد رہیے آمین
محمد وارث — نومبر 10، 2022 7:19 صبح
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب۔ کچھ اشعار تو بہت پسند آئے اور یہ تو خیر کمال ہی کر گیا!
تم سمجھتے ہو سادگی کو سہل
ہم بھی پہلے یہی سمجھتے تھے
محمداحمد — نومبر 11، 2022 1:42 شام
ماشاء اللہ ماشاء اللہ
بہت خوبصورت غزل ہے ظہیر بھائی!
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
جاسمن — نومبر 11، 2022 2:08 شام
خوب۔ بہت خوب۔ گویا کہ بہت ہی خوب۔
کمال غزل۔ لاجواب اشعار۔
سادگی والا شعر بہت پیارا لگا۔
قرۃالعین اعوان — نومبر 11، 2022 8:57 شام
کس قدر خوبصورت غزل ہے
عرفان علوی — نومبر 12، 2022 5:05 صبح
ایک نسبتاً تازہ غزل احبابِ کرام کے پیش خدمت ہے ۔ امید ہے کچھ اشعار آپ کے ذوقِ عالی تک باریاب ہوں گے۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!

***
ہم جسے اَن کہی سمجھتے تھے
بات وہ تو سبھی سمجھتے تھے
جیت کر ہم اُنہیں زمانے سے
جنگ جیتی ہوئی سمجھتے تھے
کتنے سادہ تھے ہم بچھڑتے وقت
ہجر کو عارضی سمجھتے تھے
ہم تھے آدابِ غم سے ناواقف
ہر ہنسی کو ہنسی سمجھتے تھے
گھر کے جلنے سے پہلے گھر والے
آگ کو روشنی سمجھتے تھے
-ق-
اپنے جذب و جنوں میں ہم وہ بات
جو نہ سمجھا کوئی ، سمجھتے تھے
جب تک ادراکِ ہست و بود نہ تھا
چیز خود کو بڑی سمجھتے تھے
لفظ و معنی پہ لڑ رہے تھے ہم
علم کو آگہی سمجھتے تھے
زندگی کا وہ پیش خیمہ تھا
ہم جسے زندگی سمجھتے تھے
۔
وقت الجھا گیا ہمیں ورنہ
ہم بھی خود کو کبھی سمجھتے تھے
تم سمجھتے ہو سادگی کو سہل
ہم بھی پہلے یہی سمجھتے تھے
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱
واہ ، ظہیر بھائی ! کیا خوب اشعار ہیں . داد قبول فرمائیے .
ظہیراحمدظہیر — نومبر 12، 2022 5:27 صبح
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب۔ کچھ اشعار تو بہت پسند آئے اور یہ تو خیر کمال ہی کر گیا!
تم سمجھتے ہو سادگی کو سہل
ہم بھی پہلے یہی سمجھتے تھے
بہت شکریہ ، ذرہ نوازی ہے جناب ! بہت ممنون ہوں ۔ محنت وصول ہوئی !
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85-%D8%AC%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%8E%D9%86-%DA%A9%DB%81%DB%8C-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92-%D8%AA%DA%BE%DB%92.118995/