بہت خوب! کیا اچھے اشعار ہیں۔
بہت نوازش ۔
کھٹکا کرنا درست نہیں۔ ایسا کوئی محاورہ اردو میں مستعمل نہیں ہے۔
مجھے صوتی اعتبار سے “کھٹکا” استعمال کرنے میں قدرے تامل تھا کہ سننے میں ایسا بھلا نہیں لگتا ہے لیکن اس وقت کوئی اور متبادل بھی نہیں سجھائی دے رہا تھا۔ معنوی لحاظ سے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ کوئی ایسا مبہم یا ان سُنا لفظ ہو گا۔
“کھٹکا “ میں نے تو نثر میں دو طرح سے مستعمل دیکھا ہے۔ ایک بمعنی تشویش یا اندیشہ ، جیسے دل میں کھٹکا پیدا ہونا۔ دوسرا بمعنی آہٹ یا آواز ، جیسے صحن میں کھٹکا ہوا۔
میری مراد آخر الذکر سے تھی۔
ارباب کے ساتھ ترکیب اضافی ہی بن سکتی ہے ، ترکیب توصیفی نہیں۔ اس لیے ارباب ناشناس درست نہیں۔ اسے دیکھ لیجیے ۔
تھوڑی وضاحت درکار ہے۔ یہ فقط ارباب کے ساتھ ہی مخصوص ہے یا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ جہاں اضافت آئے وہاں دوسرا اسم، اسم صفت نہیں ہو سکتا۔
اگر ایسا ہی ہے تو اضافت کے ساتھ کچھ ایسی تراکیب اکثر پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ مثلاً آبِ رواں، راہِ پرخار، عذابِ عظیم وغیرہ وغیرہ
اک روز پی لیا سبھی نے جامِ نیستی
اس مصرع میں سبھی کی "ی" بری طرح گر رہی ہے ۔
اس کا متبادل دیکھتی ہوں ۔
اک روز پی کے سو گئے سب ۔۔۔۔کیسا رہے گا؟
سر جامِ نیستی ہے کوئی اور مشروب تھوڑا ہے کہ سب پی کر سو جائیں۔ اب سوگئے کی جگہ “ مر گئے” بھی نہیں کہہ سکتے کہ اتنی دو ٹوک بات بھی کہاں کی جا سکتی ہے۔
امید ہے آپ ہمیشہ کی طرح اس تبصرے کو بھی مثبت انداز میں لیں گی۔
کیوں نہیں۔ مفید تبصروں کو مثبت ہی لیا جا سکتا ہے۔ بدون اسکے سیکھنے کا عمل آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ جزاک اللہ۔