ہے مشغلہ جسے مرا کردار دیکھنا ۔ فاتح الدین بشیر

باباجی — اپریل 15، 2013 12:30 شام
واہ واہ بہت ہی خوب غزل
بہت داد قبول کیجیئے استاد محترم
جب بھی ترے خدا کو لہو کی ہو احتیاج
ہم کافروں کو بر سرِ پیکار دیکھنا
محسن وقار علی — اپریل 15، 2013 12:59 شام
بہت ہی خوبصورت غزل ہے فاتح بھائی:love:
ہر شعر کو میری طرف سے "زبردست" کی ریٹنگ:battingeyelashes:
ہے مشغلہ جسے مرا کردار دیکھنا
وہ شخص بھی کہاں کا ہے اوتار، دیکھنا
اٹھّے گا حشر، شام کا بازار دیکھنا
گرتی ہے کس کے ہاتھ سے تلوار، دیکھنا
دیکھے تھے خواب راحتِ وصلت قرار کے
لازم ہوا ہے ہم کو بھی آزار دیکھنا
خوش ہو نہ جان کر ہمیں غرقاب، موجِ دہر!
ابھریں گے سطحِ آب سے اک بار، دیکھنا
ہونے دو بے لباس انھیں رختِ خواب پر
گُل پیرہن ہیں کتنے یہاں خار، دیکھنا
جب بھی ترے خدا کو لہو کی ہو احتیاج
ہم کافروں کو بر سرِ پیکار دیکھنا
انیس الرحمن — اپریل 15، 2013 1:05 شام
بہت عمدہ فاتح بھائی۔۔
سارے ہی شعر لاجواب ہیں۔۔
مگر یہ شعر ایسا ہے جیسے سپر اسٹاروں میں سپر اسٹار
دیکھے تھے خواب راحتِ وصلت قرار کے
لازم ہوا ہے ہم کو بھی آزار دیکھنا
فاتح بھائی کی خاموشی ہمیشہ غضب ڈھاتی ہے۔۔۔
جبھی میں ان کو یہی مشورہ دیتا ہوں۔۔:D
فاتح — اپریل 16، 2013 2:00 صبح
عمدہ و لاجواب۔ بہت خوب۔
خوش ہو نہ جان کر ہمیں غرقاب، موجِ دہر!​
ابھریں گے سطحِ آب سے اک بار، دیکھنا​
فاتح الدین بشیرؔ​

عمدہ و لاجواب۔ بہت خوب۔
کاشفی بھائی یہ سراسر آپ کی محبت ہے۔
فاتح — اپریل 16، 2013 2:05 صبح
بہت خوب فاتح ، لطف آ گیا پڑھ کر ۔
بعد مدت کسی کلام میں "کافروں" کو اتنی خوبصورتی سے جگہ ملتے دیکھ کر خوشگوار احساس ہوا۔ :)
شکریہ محب۔
گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں۔۔۔
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی :)
فاتح — اپریل 16، 2013 2:06 صبح
سبحان اللہ، داد قبول فرمائیں فاتح بھیا! لطف آگیا۔
بہت شکریہ امجد علی راجا صاحب۔ متشکر
فاتح — اپریل 16، 2013 2:07 صبح
واہ واہ بہت ہی خوب غزل
بہت داد قبول کیجیئے استاد محترم
جب بھی ترے خدا کو لہو کی ہو احتیاج
ہم کافروں کو بر سرِ پیکار دیکھنا
جیتے رہو فراز۔ شکریہ۔
فاتح — اپریل 16، 2013 2:08 صبح
بہت ہی خوبصورت غزل ہے فاتح بھائی:love:
ہر شعر کو میری طرف سے "زبردست" کی ریٹنگ:battingeyelashes:
بہت شکریہ برادرم
تہ دل سے ممنون ہوں
فاتح — اپریل 16، 2013 2:09 صبح
بہت عمدہ فاتح بھائی۔۔
سارے ہی شعر لاجواب ہیں۔۔
مگر یہ شعر ایسا ہے جیسے سپر اسٹاروں میں سپر اسٹار
دیکھے تھے خواب راحتِ وصلت قرار کے
لازم ہوا ہے ہم کو بھی آزار دیکھنا
فاتح بھائی کی خاموشی ہمیشہ غضب ڈھاتی ہے۔۔۔
جبھی میں ان کو یہی مشورہ دیتا ہوں۔۔:D
شکریہ برادرم
خاموش تو ہم ہوتے ہی نہیں۔۔۔ بقول جون ایلیا "مستقل بولتا ہی رہتا ہوں" :)
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 16، 2013 2:16 صبح
واہ وا۔ بہت خوبصورت۔ بہت ہی خوبصورت ۔ کیا کہنے ہیں جناب۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے
محب علوی — اپریل 16، 2013 7:38 صبح
شکریہ محب۔
گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں۔۔۔
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی :)

بہت خوب ، کیا خوبصورت اور عمدہ نسبت بر محل نکالی ہے ۔ :)
فاتح — اپریل 16، 2013 8:14 صبح
بہت خوب ، کیا خوبصورت اور عمدہ نسبت بر محل نکالی ہے ۔ :)
بس یہ تم سے صحبت کا فیض ہے ;)
فاتح — اپریل 16، 2013 8:19 صبح
واہ وا۔ بہت خوبصورت۔ بہت ہی خوبصورت ۔ کیا کہنے ہیں جناب۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے
بہت شکریہ جناب۔ آپ کی محبت ہے۔
محب علوی — اپریل 16، 2013 8:25 صبح
بس یہ تم سے صحبت کا فیض ہے ;)

ہاہاہاہا ، میری صحبت پھر سے ملنے کا امکان تو ہے ، دیکھو اب کی بار تم نہیں ہوتے یا مجھے فراغت نہیں ملتی ۔ :ROFLMAO:
فاتح — اپریل 16، 2013 8:29 صبح
ہاہاہاہا ، میری صحبت پھر سے ملنے کا امکان تو ہے ، دیکھو اب کی بار تم نہیں ہوتے یا مجھے فراغت نہیں ملتی ۔ :ROFLMAO:
ہم ہوئے بھی تو تم کسی اور سے صحبت میں مصروف ہو گے اس بار کہاں ہاتھ آنے والے ہو تم دوستوں کے :ROFLMAO:
فارقلیط رحمانی — اپریل 16، 2013 9:09 صبح
بہت خوب! ڈھیروں داد قبول فرمائیے
فاتح — اپریل 16، 2013 9:13 صبح
بہت خوب! ڈھیروں داد قبول فرمائیے
بہت شکریہ ممنون ہوں
فارقلیط رحمانی — اپریل 16، 2013 9:17 صبح
بہت شکریہ ممنون ہوں

:aadab:
مدیحہ گیلانی — اپریل 16، 2013 3:01 شام
واہ بہت خوب ، لاجواب غزل ہے اور تمام اشعار ہی بہت خوبصورت ہیں ۔
دیکھے تھے خواب راحتِ وصلت قرار کے
لازم ہوا ہے ہم کو بھی آزار دیکھنا
خوش ہو نہ جان کر ہمیں غرقاب، موجِ دہر!
ابھریں گے سطحِ آب سے اک بار، دیکھنا
کیا کہنے ، سبحان اللہ۔ فیض کی زمین کا حق ادا تو کر چکے آپ مگر لیکن فیض نے اس غزل میں پانچ مطلعے کہے ہیں۔۔۔ آپ پر لازم ہے کہ کم از کم چھ تو کہیے۔۔۔ اُمید ہے کہ اس درخواست پر غور فرمایئے گا ۔
ہے مطلعوں کی اب ہمیں بھرمار دیکھنا۔ :)
ذرا جلدی کیجئے گا ایسا نہ ہو کہ اس میں بھی آپکو زمانے لگ جائیں:battingeyelashes:
خوبصورت غزل پر ڈھیروں داد قبول کیجئے۔
نیلم — اپریل 16، 2013 3:13 شام
بہت خُوب بھائی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%DB%92-%D9%85%D8%B4%D8%BA%D9%84%DB%81-%D8%AC%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.62561/page-2