ہے مشغلہ جسے مرا کردار دیکھنا ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — فروری 11، 2016 5:12 شام
عمدہ ۔۔۔۔۔۔ماشاءاللہ
شکریہ۔
یہ عمدہ اور ماشاء اللہ صرف اسی شعر پر ہے نا؟
نور وجدان — فروری 11، 2016 5:15 شام
شکریہ۔
یہ عمدہ اور ماشاء اللہ صرف اسی شعر پر ہے نا؟
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔شعر سبھی عمدہ ہے۔ویسے سب کیف و مستی والے ہوتے ہیں۔ آپ دور حاضر کے ان چیدہ شعراء میں سے ہوں جو غالب و داغ کے بعد روایت کو جدت سے ملا رہے ہیں مگر آپ کی شاعری ساری پرانی ہے کچھ نیا نہیں لکھا ہے ۔
سیدہ شگفتہ — فروری 11، 2016 5:32 شام
گلا کیوں گھونٹ دیا؟ آنے دیتیں۔۔۔
آپ نے پھر کلام کو پار لگانے کا سوچ لینا تھا :)
فاتح — فروری 11، 2016 6:17 شام
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔شعر سبھی عمدہ ہے۔ویسے سب کیف و مستی والے ہوتے ہیں۔ آپ دور حاضر کے ان چیدہ شعراء میں سے ہوں جو غالب و داغ کے بعد روایت کو جدت سے ملا رہے ہیں
یہ تو آپ نے جس مقام پر فائز کر دیا ہے میں ہرگز اس کے قابل نہیں۔
مگر آپ کی شاعری ساری پرانی ہے کچھ نیا نہیں لکھا ہے ۔
کچھ ہیں غزلیں لیکن ادھوری ہیں۔
محمد امین صدیق — فروری 11، 2016 6:47 شام
آج پھر "چماٹ" پڑنے والی ہے
"چماٹ "
"طماچہ"
"تھپڑ" یا
"تماچہ"۔
محمد امین صدیق — فروری 11، 2016 6:51 شام
"تمہیں "
محمد امین صدیق — فروری 11، 2016 7:07 شام
بہت شکریہ
میں بشیر بھی تخلص کرتا ہوں اور فاتح بھی
(اشتہار )
" ضرورت ہے ایک شاعر کا تازہ کلام اور غزلیں سننے والے سامع کی
روزانہ بیس غزلیں اور تیس تازہ کلام سننے والے کو ترجیح دی جائیگی ۔
تنخواہ حسب داد "
(ازراہ مذاق ۔۔۔۔So No hard feelings.Please فاتح بھائی).شکریہ
فاتح — فروری 11، 2016 7:08 شام
کبھی ذیل کی فہرست میں شامل ناموں کے متعلق سنا یا پڑھا ہے؟
حمیرا عدنان — فروری 11، 2016 7:16 شام
بہت خوب فاتح بھائی ماشاءاللہ
سید عاطف علی — فروری 11، 2016 7:19 شام
اٹھّے گا حشر، شام کا بازار دیکھنا
گرتی ہے کس کے ہاتھ سے تلوار، دیکھنا
جب بھی ترے خدا کو لہو کی ہو احتیاج
ہم کافروں کو بر سرِ پیکار دیکھنا
۔واہ کمال بیان ہے ۔ خصوصا دو شعر چوٹی کے لگے۔
سارہ خان — فروری 11، 2016 7:20 شام
یہ 2013 والی شاعری یہاں میری نظر سے نہیں گذری ہوئی۔۔ لیکن پڑھی ہوئی بھی ہے۔۔ شاید فیس بک پر پڑھی ہو۔۔
دوبارہ پڑھ کے بھی اتنی ہی زبردست لگی جتنی پہلے :)
فاتح — فروری 11، 2016 7:21 شام
بہت خوب فاتح بھائی ماشاءاللہ
بہت شکریہ حمیرا۔
فاتح — فروری 11، 2016 7:21 شام
اٹھّے گا حشر، شام کا بازار دیکھنا
گرتی ہے کس کے ہاتھ سے تلوار، دیکھنا
جب بھی ترے خدا کو لہو کی ہو احتیاج
ہم کافروں کو بر سرِ پیکار دیکھنا
۔واہ کمال بیان ہے ۔ خصوصا دو شعر چوٹی کے لگے۔
محبت ہے آپ کی۔ آپ جیسے صاحب علم و ہنر سے داد ملنا اعزاز ہے۔
فاتح — فروری 11، 2016 7:22 شام
یہ 2013 والی شاعری یہاں میری نظر سے نہیں گذری ہوئی۔۔ لیکن پڑھی ہوئی بھی ہے۔۔ شاید فیس بک پر پڑھی ہو۔۔
دوبارہ پڑھ کے بھی اتنی ہی زبردست لگی جتنی پہلے :)
شکریہ۔ ہاں شاید فیس بک پر پڑھی ہو گی۔
فاتح — فروری 11، 2016 7:23 شام
"چماٹ "
"طماچہ"
"تھپڑ" یا
"تماچہ"۔
اگر لکھنے والے نے اتنے لمبے جملے میں کسی ایک لفظ کو واوین میں قید کرنے کا اہتمام کیا تھا تو اس میں یقیناً کوئی مصلحت پوشیدہ تھی۔ :)
اوشو — فروری 11، 2016 8:40 شام
خوب کہا فاتح! داد قبول فرمایے
محمد امین صدیق — فروری 11، 2016 9:00 شام

"فرمائیے"
حمیرا عدنان — فروری 11، 2016 9:06 شام
بھائی لگتا ہے آپ سب کی املاء درست کروا کر رہیں گے
مقدس — فروری 11، 2016 9:13 شام
فاتح بھیا یہ بھی میرے والی ہے ناں؟
محمد امین صدیق — فروری 11، 2016 9:43 شام
بھائی لگتا ہے آپ سب کی املاء درست کروا کر رہیں گے
ارادے کچھ ایسےہی ہیں ،محترم سسٹر !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%DB%92-%D9%85%D8%B4%D8%BA%D9%84%DB%81-%D8%AC%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.62561/page-6