ہے کون کون اہل وفا دیکھتے رہو

امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 11:10 صبح
ہے کون کون اہلِ وفا دیکھتے رہو​
دیتا ہے کون کون دغا دیکھتے رہو​
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور​
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو​
رکھا کسی نے بام پہ ٹوٹا ہوا چراغ​
اور ہے غضب کی تیز ہوا، دیکھتے رہو​
اٹکی ہوئی ہے جان مرے لب پہ چارہ گر​
شاید وہ آہی جائے ذرا دیکھتے رہو​
انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور​
ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو​
عریاں ہوا ہے حسن نمائش کے شوق میں​
نایاب ہو گئی ہے حیا، دیکھتے رہو​
کرتے ہو حق کی بات ستمگر کے روبرو​
راجا تمہیں ملے گی سزا دیکھتے رہو​
افلاطون الشفاء الف عین الف نظامی امجد میانداد امر شہزاد باباجی ذوالقرنین شمشاد شوکت پرویز شہزاد احمد شیزان عمر اعظم عینی شاہ محسن وقار علی سید زبیر محمد اسامہ سَرسَری محمد بلال اعظم محمد حفیظ الرحمٰن محمد وارث محمد یعقوب آسی محمد احمد مقدس مہ جبین نیرنگ خیال نیلم کاشف عمران یوسف-2
محمد بلال اعظم — مارچ 6، 2013 11:17 صبح
بہت عمدہ غزل
بہت خوبصور مضامین تمام اشعار میں ہیں۔
شاد باد رہیے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2013 11:23 صبح
عمدہ ہے جناب راجا صاحب۔
ایک دو مقامات پر معمولی سی مزید توجہ دے لیجئے گا۔
عریاں ہوا ہے حسن نمائش کے شوق میں
نون کی صوتیت میں کچھ ثقالت ہے، اگر کسی طور دور ہو سکے۔
انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور
ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو
تکبر اور غرور قریب قریب ایک ہی بات ہے۔ ’’بن رہا ہے خدا‘‘ اگر اچھا لگے۔
اٹکی ہوئی ہے جان مرے لب پہ چارہ گر
شاید وہ آہی جائے ذرا دیکھتے رہو
ردیف جدا رہ گئی سی لگتی ہے۔
رکھا کسی نے بام پہ ٹوٹا ہوا چراغ
اور ہے غضب کی تیز ہوا، دیکھتے رہو
اگر یہاں ٹوٹا ہوا کی بجائے جلتا ہوا ہو؟
بہ ایں ہمہ اس کاوش کی داد کا دینا زیادتی ہو گی۔
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو
بہت خوب جناب، راجا صاحب!
مہ جبین — مارچ 6، 2013 11:24 صبح
رکھا کسی نے بام پہ ٹوٹا ہوا چراغ
اور ہے غضب کی تیز ہوا، دیکھتے رہو
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو
بہت عمدہ
محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2013 11:26 صبح
کرتے ہو حق کی بات ستمگر کے روبرو
راجا تمہیں ملے گی سزا دیکھتے رہو

بہت عمدہ !!!!!!!!
شوکت پرویز — مارچ 6، 2013 11:37 صبح
بہت عمدہ ہے جناب، خاص طور پر یہ شعر
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو
کمال کا ہے۔ شکریہ!!​
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 6، 2013 12:05 شام
:a6: راجا بنائے باغِ ادب کا تمھیں خدا:a6:
:a6:ہوگی قبول میری دعا دیکھتے رہو:a6:
باباجی — مارچ 6، 2013 12:36 شام
بہت خوب کاوش راجا صاحب
جناب استاد یعقوب آسی صاحب نے جو اوپر لکھا ہے اس پر دھیان تو اثر و لطف دوبالا ہوجائے گا
یوسف-2 — مارچ 6، 2013 1:38 شام
ہے کون کون اہلِ وفا دیکھتے رہو​
دیتا ہے کون کون دغا دیکھتے رہو​
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور​
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو​
رکھا کسی نے بام پہ ٹوٹا ہوا چراغ​
اور ہے غضب کی تیز ہوا، دیکھتے رہو​
اٹکی ہوئی ہے جان مرے لب پہ چارہ گر​
شاید وہ آہی جائے ذرا دیکھتے رہو​
انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور​
ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو​
عریاں ہوا ہے حسن نمائش کے شوق میں​
نایاب ہو گئی ہے حیا، دیکھتے رہو​
کرتے ہو حق کی بات ستمگر کے روبرو​
راجا تمہیں ملے گی سزا دیکھتے رہو​
ماشا ء اللہ۔ کیا خوبصورت غزل ہے۔ امجد بھائی آپ تو کمال کرتے جارہے ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور​
ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو​
نیلم — مارچ 6، 2013 4:56 شام
بہت خُوب
شیزان — مارچ 6، 2013 7:35 شام
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو
واہ واہ۔۔ بہت خوب امجد میاں
خوش رہو
امجد علی راجا — مارچ 7، 2013 9:54 صبح
بہت عمدہ غزل
بہت خوبصور مضامین تمام اشعار میں ہیں۔
شاد باد رہیے۔
شکریہ بلال بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 7، 2013 10:04 صبح
عمدہ ہے جناب راجا صاحب۔
ایک دو مقامات پر معمولی سی مزید توجہ دے لیجئے گا۔
عریاں ہوا ہے حسن نمائش کے شوق میں
نون کی صوتیت میں کچھ ثقالت ہے، اگر کسی طور دور ہو سکے۔
انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور
ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو
تکبر اور غرور قریب قریب ایک ہی بات ہے۔ ’’بن رہا ہے خدا‘‘ اگر اچھا لگے۔
اٹکی ہوئی ہے جان مرے لب پہ چارہ گر
شاید وہ آہی جائے ذرا دیکھتے رہو
ردیف جدا رہ گئی سی لگتی ہے۔
رکھا کسی نے بام پہ ٹوٹا ہوا چراغ
اور ہے غضب کی تیز ہوا، دیکھتے رہو
اگر یہاں ٹوٹا ہوا کی بجائے جلتا ہوا ہو؟
بہ ایں ہمہ اس کاوش کی داد کا دینا زیادتی ہو گی۔
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو
بہت خوب جناب، راجا صاحب!
بہت شکر گزار ہوں استادِ محترم
نون کی صوتیت میں کچھ ثقالت ہے؟ پہلے مجھے "صوتیت" اور "ثقالت" تو سمجھا دیں پھر دور کرنے کی کوشش کروں گا۔ :)
"بن رہا ہے خدا" اور "جلتا ہوا چراغ" بہت خوب، اشعار میں جان آگئی۔ جزاک اللہ
امجد علی راجا — مارچ 7، 2013 10:04 صبح
رکھا کسی نے بام پہ ٹوٹا ہوا چراغ
اور ہے غضب کی تیز ہوا، دیکھتے رہو
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو
بہت عمدہ
شکریہ باجی
امجد علی راجا — مارچ 7، 2013 10:05 صبح
شکریہ استادِ محترم
امجد علی راجا — مارچ 7، 2013 10:05 صبح
بہت عمدہ ہے جناب، خاص طور پر یہ شعر
پوچھا جو زندگی سے کہ کتنے ستم ہیں اور
بس مسکرا کر اس نے کہا، دیکھتے رہو
کمال کا ہے۔ شکریہ!!​
شکریہ شوکت بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 7، 2013 10:07 صبح
:a6: راجا بنائے باغِ ادب کا تمھیں خدا:a6:
:a6:ہوگی قبول میری دعا دیکھتے رہو:a6:
اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔ خوش رہیں، آباد رہیں، سلامت رہیں۔
بہت عمدہ اور شاعرانہ دعا ارشاد فرمائی آپ نے۔ جزاک اللہ
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 7، 2013 10:08 صبح
اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔ خوش رہیں، آباد رہیں، سلامت رہیں۔
بہت عمدہ اور شاعرانہ دعا ارشاد فرمائی آپ نے۔ جزاک اللہ
ولک مثل ذلک۔
امجد علی راجا — مارچ 7، 2013 10:08 صبح
بہت خوب کاوش راجا صاحب
جناب استاد یعقوب آسی صاحب نے جو اوپر لکھا ہے اس پر دھیان تو اثر و لطف دوبالا ہوجائے گا
شکریہ باباجی۔ استادِ محترم محمد یعقوب آسی نے جو لکھا اس پر پورا دھیان ہے۔
امجد علی راجا — مارچ 7، 2013 10:10 صبح
ماشا ء اللہ۔ کیا خوبصورت غزل ہے۔ امجد بھائی آپ تو کمال کرتے جارہے ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور​
ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو​
شکریہ یوسف بھیا! تعریف اور دعا دونوں کے لئے
جب کوئی کہتا ہے کہ "اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ" تو تھوڑا سا ڈر سا جاتا ہوں بھیا ;)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%DB%92-%DA%A9%D9%88%D9%86-%DA%A9%D9%88%D9%86-%D8%A7%DB%81%D9%84-%D9%88%D9%81%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92-%D8%B1%DB%81%D9%88.60734/