سلیمان جاذب — جنوری 5، 2009 12:54 شام
جی بس ایسا ہی ھے ایک درامے کا ڈائلاگ یاد آ گیا
جی بس وہ suddenly suddenly ذہن میں آ گیا
نعمان بھای کیا آپ لاہور میں ہوتے ہیں
مغزل — جنوری 5، 2009 1:01 شام
بہت خوب سعدیہ صاحبہ
خوب نزاکت ِ احساس سے کہی گئی نظم (نثری ہی سہی) پیش کرنے پر مبارکباد قبول فرمائیں
تاخیر کی معذرت ۔۔ ویسے آپ خاصے عرصے سے غائب ہوں گی جبھی میں نے آپ کی شاعری پر پہلے رائے نہ دی ہوگی۔
والسلام
محمد نعمان — جنوری 5، 2009 1:48 شام
جی بس ایسا ہی ھے ایک درامے کا ڈائلاگ یاد آ گیا
جی بس وہ Suddenly Suddenly ذہن میں آ گیا
نعمان بھای کیا آپ لاہور میں ہوتے ہیں
آپ کی بات اوپر سے گزری ہے میرے۔
کیوں جی آپ کو یہ کیوں لگا کہ میں لاہور میں رہتا ہوں۔
اب تو نہیں رہتا مگر پہلے رہا کرتا تھا لاہور کے پڑوس میں۔
سلیمان جاذب — جنوری 5، 2009 2:44 شام
تو اب کس کے پڑوس میں ڈیرے ہیں
ارشد خان — جنوری 8، 2009 4:19 شام
۔۔۔۔۔ انسان کو ماضی میں نہیں جینا چاہیے ۔ حا ل میں جینا چاہیے ۔ ما ضی کو بھلا دینا چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔ وہی لوگ کامیاب رہتے ہیں ۔ دعاگو ارشد خان
ارشد خان — جنوری 8، 2009 4:22 شام
color="blue"]
۔۔۔۔۔ انسان کو ماضی میں نہیں جینا چاہیے ۔ حا ل میں جینا چاہیے ۔ ما ضی کو بھلا دینا چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔ وہی لوگ کامیاب رہتے ہیں ۔ دعاگو ارشد خان[/color]
ارشد خان — جنوری 8، 2009 4:24 شام
ارشد خان
color="blue"]
۔۔۔۔۔ انسان کو ماضی میں نہیں جینا چاہیے ۔ حا ل میں جینا چاہیے ۔ ما ضی کو بھلا دینا چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔ وہی لوگ کامیاب رہتے ہیں ۔ دعاگو ارشد خان[/color]
زین — جنوری 8، 2009 4:24 شام
بھائی آپ کی اس بات سے مجھے اختلاف ہے ۔ ماضی بھلانے والے کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں؟
sadia saher — جنوری 8، 2009 10:22 شام
شکریہ سب کا --------------------
زین میں اتفاق کرتی ھوں تم سے ۔۔۔۔ ماضی سے تعلق توڑ کر انسان ایسے ھی ھو سکتا ھے جیسے کوئ پودا یا درخت بنا جڑ کے ۔ ھر گزرنے والا دن کل ماضی بن جاتا ھے
مسلمانوں کا حال ایسا اس لیے ھو رھا ھے کہ وہ اپنا سنہرا ماضی بھول گئے ھیں صرف حال میں جی رھے ھیں۔۔
فاتح — جنوری 8، 2009 10:30 شام
شکریہ سب کا --------------------
زین میں اتفاق کرتی ھوں تم سے ۔۔۔۔ ماضی سے تعلق توڑ کر انسان ایسے ھی ھو سکتا ھے جیسے کوئ پودا یا درخت بنا جڑ کے ۔ ھر گزرنے والا دن کل ماضی بن جاتا ھے
مسلمانوں کا حال ایسا اس لیے ھو رھا ھے کہ وہ اپنا سنہرا ماضی بھول گئے ھیں صرف حال میں جی رھے ھیں۔۔
پہلے تو نثری نظم کی مبارک باد۔ دوسری بات یہ کہ میرے خیال میںمسلمان صرف اور صرف ماضی میں جی رہے ہیں پدرم سلطان بود کا نعرہ لگا کر۔
ظفری — جنوری 9، 2009 12:54 صبح
شکریہ سب کا --------------------
زین میں اتفاق کرتی ھوں تم سے ۔۔۔۔ ماضی سے تعلق توڑ کر انسان ایسے ھی ھو سکتا ھے جیسے کوئ پودا یا درخت بنا جڑ کے ۔ ھر گزرنے والا دن کل ماضی بن جاتا ھے
مسلمانوں کا حال ایسا اس لیے ھو رھا ھے کہ وہ اپنا سنہرا ماضی بھول گئے ھیں صرف حال میں جی رھے ھیں۔۔
ماضی صرف یاد رکھا جاسکتا ہے ۔ مگر اسے مستقبل بنانا کوئی دانشمندی نہیں ہے ۔ کیونکہ مستقبل کے اپنے الگ تقاضے ہوتے ہیں ۔ الگ ترجیحات ہوتیں ہیں ، الگ ضروریات ہوتیں ہیں ۔ آج ہم گھوڑوں کے لشکروں کو آج کی جدید ٹیکنالوجی کی عسکری قوتوں کے برابر لاکر نہیں کھڑا کرسکتے ۔ اور ہمارا ماضی اس لیئے آج ماضی بن گیا ہے کہ ہم نے کبھی مستبقل کا سوچا ہی نہیں ۔ اس لیئے ہمارا جو "حال " ہے ۔ وہ صرف ماضی یاد کرنے کے لیئے رہ گیا ہے ۔ جس میں مستقبل کی ایک ہلکی سی بھی جھلک نہیں ۔
ویسے آپ کی نظم بہت پسند آئی ۔ مبارکباد قبول کجیئے ۔

تیشہ — جنوری 9، 2009 1:43 صبح
محمد نعمان — جنوری 10، 2009 10:39 صبح
تو اب کس کے پڑوس میں ڈیرے ہیں
جناب اب تو اپنے پڑوس میں کوئی نہیں رہتا۔۔۔۔۔۔