عباد اللہ — اگست 14، 2016 7:55 صبح
خامہ انگشت بہ دنداں۔۔۔!!!
بھلکڑ — اگست 14، 2016 7:59 صبح
یہ اہتمام، یہ جشن ِ گُمان ِ آزادی!

واہ ۔ لاجواب!

عباد اللہ — اگست 14، 2016 8:26 صبح
بے ساختہ
رہینِ دستِ عدو، اہتمامِ آزادی
ہمیں ہے ننگ یہ سودائے خامِ آزادی
اس ایک لفظ میں پنہاں ہیں لاکھ زنجیریں
سو کم طلب ہیں اسیرِ نظامِ آزادی
زمیں پکارے حذر آسماں پکارے حذر
یہ کون لوگ ہیں محبوسِ دامِ آزادی
مریم افتخار — اگست 14، 2016 8:42 صبح
بے ساختہ
رہینِ دستِ عدو، اہتمامِ آزادی
ہمیں ہے ننگ یہ سودائے خامِ آزادی
اس ایک لفظ میں پنہاں ہیں لاکھ زنجیریں
سو کم طلب ہیں اسیرِ نظامِ آزادی
زمیں پکارے حذر آسماں پکارے حذر
یہ کون لوگ ہیں محبوسِ دامِ آزادی
زبردست عباد اللہ بھائی! بہت اعلٰی!!
یوسف سلطان — اگست 14، 2016 1:56 شام
بہت اعلی
شزہ مغل — اگست 14، 2016 8:25 شام
تمہیں یہ گماں کہ بہت خوش ہیں ہم
چلو پھر گماں کو گماں ہی رہنے دو
سنا ہے اچھا سوچنے سے اچھا ہوتا ہے
چلو یہ سوچ لیتے ہیں
کہ ہم تم خوش بہت خوش ہیں
مگر جو خوش نہیں دل سے
کون دے گا خوشی اس کو؟
کیا کوئی اور آئے گا؟
ہمارا بوجھ اٹھانے کو
ہمیں پھر سے جگانے کو
ہماری سوچ سجانے کو
ہمارا لہو گرمانے کو
چلو یہ بھی مان لیا
کہ کوئی اور آئے گا
مگر کیوں کوئی اور آئے گا؟؟؟
کیا ہم ذندہ نہیں ہیں؟؟؟
حسن محمود جماعتی — اگست 15، 2016 6:16 صبح
واہ واہ واہ۔۔۔۔ آپی بہت خوب کلام۔۔۔ بہت ہی زبردست۔۔۔۔ کیا قافیہ اور ردیف لگائي ہے۔۔۔۔ بہت ہی عمدہ۔۔۔!! عمدہ کلام ہے۔۔۔۔
عائشہ عزیز — اگست 18، 2016 3:58 صبح
بہت ہی زبردست! کتنا سچ ہے اس میں۔۔ مریم آپ تو بہت اچھی شاعرہ ہیں۔

مریم افتخار — اگست 18، 2016 4:21 صبح
بہت ہی زبردست! کتنا سچ ہے اس میں۔۔ مریم آپ تو بہت اچھی شاعرہ ہیں۔
بہت شکریہ عائشے!

مجھے شرم سی آگئی

عائشہ عزیز — اگست 18، 2016 5:33 شام
بہت شکریہ عائشے!

مجھے شرم سی آگئی
کیوں بھلا

بتاؤں میں آج کالج میں بھی اپنی کولیگ کو پڑھ کر سنا رہی تھی آپ کی یہ غزل۔
مریم افتخار — اگست 14، 2017 4:59 صبح
ایک اور سال۔۔۔
ایک اور یومِ آزادی
اور
یہ اہتمام، یہ جشنِ گمانِ آزادی۔۔۔۔۔۔!!

جاسمن — اگست 14، 2017 5:11 صبح
مریم۔
زبردست پہ لاکھوں زبریں۔
ہمارے دل کی باتوں کو بہت ہی خوبصورت انداز سے اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے۔
خوبصوووووورت شاعری۔
لئیق احمد — اگست 14، 2017 5:36 صبح
بہت ہی کمال غزل ہے ۔ زبردست
عائشہ صدیقہ — اگست 14، 2017 6:35 صبح
واہ۔۔۔بہت خوب
قاضی واجد الدائم — اگست 14، 2017 7:43 صبح
یہ میرے گِرد ہے کیسا جہانِ آزادی
جہاں نہیں کوئی نام و نشانِ آزادی
لہُو غریب کا ارزاں ہے اِس قدر کہ یہاں
اِسی سے جاتے ہیں دھوئے بُتانِ آزادی
مِرے وطن تِرے یہ لعل کَٹ رہے ہیں روز
لہُو سے تَر ہے تِرا بادبانِ آزادی
دیارِ غیر میں کشکول پکڑے پِھرتے ہیں
مرے وطن! ترے سب ترجمانِ آزادی
نہیں ہے تاب کہ دیکھوں ترا بدن مقرُوض
بتاؤ کِتنا بھروں مَیں لگانِ آزادی؟
مِرے خُدا ! نہ دِکھانا ہمارا حال اُسے
وہ ایک شخص جو تھا باغبانِ آزادی
اِسی میں خوش ہو اگر , تو تمہیں مبارک ہو!
یہ اہتمام , یہ جشنِ گمانِ آزادی
(مریم افتخار)
زبردست، بہت اعلیٰ
مریم افتخار — اگست 13، 2018 8:08 شام
اِسی میں خوش ہو اگر , تو تمہیں مبارک ہو!
یہ اہتمام , یہ جشنِ گمانِ آزادی
فاخر رضا — اگست 14، 2018 2:13 صبح
جشن آزادی مبارک
فاخر رضا — اگست 14، 2018 2:21 صبح
یہ میرے گِرد ہے کیسا جہانِ آزادی
جہاں نہیں کوئی نام و نشانِ آزادی
لہُو غریب کا ارزاں ہے اِس قدر کہ یہاں
اِسی سے جاتے ہیں دھوئے بُتانِ آزادی
مِرے وطن تِرے یہ لعل کَٹ رہے ہیں روز
لہُو سے تَر ہے تِرا بادبانِ آزادی
دیارِ غیر میں کشکول پکڑے پِھرتے ہیں
مرے وطن! ترے سب ترجمانِ آزادی
نہیں ہے تاب کہ دیکھوں ترا بدن مقرُوض
بتاؤ کِتنا بھروں مَیں لگانِ آزادی؟
مِرے خُدا ! نہ دِکھانا ہمارا حال اُسے
وہ ایک شخص جو تھا باغبانِ آزادی
اِسی میں خوش ہو اگر , تو تمہیں مبارک ہو!
یہ اہتمام , یہ جشنِ گمانِ آزادی
(مریم افتخار)
Worried but not hopeless. Jashn e aazadi Mubarak
فاخر رضا — اگست 14، 2018 2:23 صبح
بے ساختہ
رہینِ دستِ عدو، اہتمامِ آزادی
ہمیں ہے ننگ یہ سودائے خامِ آزادی
اس ایک لفظ میں پنہاں ہیں لاکھ زنجیریں
سو کم طلب ہیں اسیرِ نظامِ آزادی
زمیں پکارے حذر آسماں پکارے حذر
یہ کون لوگ ہیں محبوسِ دامِ آزادی
ایسا کیا ہوگیا بھائی آپ کے ساتھ
عبید انصاری — اگست 14، 2018 4:42 صبح
جشن گمان آزادی
زبردست
لا جواب
پر لطف