بہت شکریہ۔ اب جلدی سے ایک اور نظم ہو جائے اسی طرح کسی دوسری مساوات پر؟
جی، جلد ہی انشاءاللہ۔
جی، جلد ہی انشاءاللہ۔
آئن سٹائن کی تھیوری اور بگ بینگ تھیوری قطعی ایک دوسرے سے متصادم نہیں ، بلکہ دونوں نے ایک دوسرے کو تحقیق میں بہت تقویت دی ہے۔
محترم خلاء کی تو بات ہی نہیں ہو رہی۔ خلاء میں ایک دوسرے سے دور جاتی کہکشائیں جو ہیں، ان کی رفتار کی بات ہو رہی ہے
جناب ، وہ خلاء ہی پھیل رہا ہے جیسے چیونگم گرم سطح پر پھیلتا ہے۔ کہکشاؤں کا دور جانا خلاء کے پھیلنے کی بدولت ہے۔ آپ بنگ بینگ اور خاص طور پر آلان گتھ کی انفلیشن تھیوری میں یہ بنیادی ترین نقطہ مس کر گئے!
کہکشاں دوسری کہکشاں سے دور جا رہی ہے۔ اب خلاء پھیلے یا نہ پھیلے، آپ یہ دیکھیں کہ دو کہکشاؤں کا درمیانی فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور وہ روشنی کی رفتار سے تیز تر ہیں
کہکشاؤں کی رفتار تیز نہیں ، خلا کے پھیلنے کی رفتار تیز ہے۔ خلاء کا پھیلنا ان کے فاصلے میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ جو آئن سٹائن کی تھیوری سے متصادم ہر گز نہیں۔
ببل باتھ نظریہ میری نظر سے ابھی گذرا ہے۔ اس میں تو فرض ہی ملٹی ورس سے کر رہے ہیں۔ ابھی پہلے ایک یونیورس کو تو بھگت لیں
ملٹی ورس کے جتنے بھی نظریات ہیں ان میں ببل باتھ کا نظریہ کافی حد تک "قابل احترام" ہے۔ بے شک ابھی حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تحقیق تو جاری و ساری ہے۔
میں کافی کفنیوز ہو رہا ہوں۔ دریا میں پانی موجود ہے۔ خلاء میں تو اتنا کچھ بھی موجود نہیں۔ ببل باتھ تھیوری میں ببل بذات خود صابن سے بن رہا ہے، عدم سے وجود میں نہیں آ رہا۔ صابن، پانی اور ہوا مل کر اسے تشکیل دیتے ہیں۔
آپ کی بات بجا ہے لیکن مسئلہ وہی ہے کہ انڈہ پہلے پیدا ہوا کہ مرغی۔ یعنی ملٹی ورس کہاں سے آئیں؟ کیا ان کا کوئی نقطہ آغاز ہے یا کوئی نقطہ اختتام؟ اگر نہیں تو خدا کو ماننے اور اس کو ماننے میں محض الفاظ کا الٹ پھیر ہوا؟
کہنے کا مطلب ہے کہ جیسے پانی دریا کی مخلوقات کے لئے ایک میڈیم ہے ایسے ہی خلاء سائنس کی رو سے باقاعدہ ایک میڈیم ہے۔ ایک Entity ہے ، ایک وجود ہے۔ انفلیشن تھیوری کی رو سے یہ باقاعدہ پھیلتا ہے۔ قوانٹم مکینکس کی رو سے اس میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ انہیں تبدیلوں سے خلاء میں ببل باتھ کائناتوں کے لئے "بُڈز" وجود میں آ سکتے ہیں۔ جو انفلیشن کے رو سے از خود پھیلتے ہیں اور ایک نئی کائنات تشکیل دیتے ہیں۔
خیر مذہب اور سائنس کے ملاپ کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں۔ اور نہ ہی اس سے کچھ حاصل ہوگا۔
بڈز تو وجود میں آ گئے، فرض کر لیتے ہیں؟ کوانٹم مکینکس تو مائیکرو سکوپک لیول پر کام کرتی ہے۔ اتنے بڑے لیول پر کیسے کام کرے گی؟ نئی کائنات کی تشکیل میں انفلیشن کیسے کام کرے گی؟ اب ببل بنتے ہیں تو اس کے لئے جگہ موجود ہے۔ تاہم یہ جگہ محدود ہے لامحدود نہیں۔ اس طرح تو وہی بات ہوئی کہ خدا نے کہا کن فیکوں اور وہ ہو گیا۔ اس کی ابتداء اور اس کی انتہاء کیا ہوں گے؟ ملٹی ورس کا نظریہ شاید اس بات سے شروع ہوا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے جسم میں موجود ہر ایٹم کے اندر ایک پوری کائنات موجود ہو اور اس کے اندر بھی اسی طرح سے۔ اسی طرح ہماری کائنات کسی دوسری مخلوق کے جسم کا محض ایک ایٹم؟ ابھی تک ہم نظریاتی طور پر اپنی ایک کائنات کو واضح نہیں کر سک رہے کہ اس کی ابتداء کیسے ہوئی اور انتہا کیا ہوگی
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ادھر بھی ہمیں ابتداء اور انتہا جاننے کی اجازت نہیں تو دوسری طرف بھی ہمیں ابتداء اور انتہاء کے بارے یہ کہہ دیا گیا ہے کہ بس یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی
بڈ مائیکرو سکوپک لیول پر ہی وجود میں آئے گا۔ انفلیشن کی قوت اسے لا محدود کرے گی۔
ببل وجود میں آ کر ہماری کائنات اور ہمارے خلاء کا حصہ نہیں رہے گا بلکہ ایک متوازی خلا بن جائے گا۔ وہ خلاء لامحدود حد تک پھیل سکتا ہے۔
تحقیق کی تو کوئی حد نہیں۔ ایک انتہا کسی نئی چیز کا آغاز ہوتا ہے۔ مزا بھی تو اسی میں ہے۔
میرا خیال ہے کہ مجھے اس پر کافی کچھ پڑھنا پڑے گا کیونکہ میں نے ابھی تک ملٹی ورس پر "دست شفقت" نہیں پھیرا۔ چونکہ اس تھیوری میں عدم سے براہ راست کائناتیں وجود میں آ رہی ہیں، اس لئے فی الوقت یا مستقبل قریب میں میں اس پر بات نہیں کر سکوں گا کہ اسے پڑھتے ہوئے کافی وقت لگے گا اور ابھی میں اس یونیورس کے بارے طفل مکتب ہوں۔ یہ میری لاعلمی کا اعتراف ہے۔ البتہ ایک یونیورس تک محدود رہیں تو بات جاری رہے گی
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/e-mc2-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A7%D8%B2-%D8%B9%D8%A7%D8%B7%D9%81-%D8%A8%D9%B9.54804/page-5