عاطف بٹ بھائی کے دھاگے استادوں کی بحث کے نظر ہوجاتے ہیں۔۔۔۔
بھائی پسند آئی تو ان کی نظم کی تعریف کریں۔۔۔ نہیں تو جانے دیں۔۔۔
عاطف بٹ بھائی کے دھاگے استادوں کی بحث کے نظر ہوجاتے ہیں۔۔۔۔
پسند تو بلا شک وشبہ کی گئی ہے۔ نظم کی ریٹنگ اس بات کی غماز ہے۔
اگر اس کائنات کو خدا کی شاعری تصور کر لیں تو سائنس علم عروض کی مانند ہے مختلف اصناف سخن کی بحروں کی کھوج میں رہتی ہے۔ اس لئے یہ سب بحث یہاں مناسب ہے
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
ثابت شدہ سائنس کے مطابق مادہ روشنی یا نور کی رفتار کے 90 فیصد تک جا سکتا ہے اس سے زیادہ آگے نہیں کہ پر جل سکتے ہیں
یہ بات درست ہے ۔ آئنسٹائن نے ایسا ہی کہا ہے اور یہ نیچر میں ہوتا بھیہے
کوئی مثال دے سکتے ہیں؟
90 فی صد والی بات درست ہے ۔ گو کہ مادہ سو فیصد نور کی رفتا رنہیں پا سکتا لیکن مادہ کا نور میں تبدیل ہونا سب اٹامک لیول پر نیوکلئیر ری ایکشنز میں پایا جاتا ہے اور نور کا مادے میں تبدیل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی ہی نیوکلئیر ری ایککشنز کی بنیاد ہے۔
یہ شاید آپ اس حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ جب ایک بھاری عنصر ٹوٹ کر دو نسبتاً ہلکے عناصر بناتا ہے تو ان بچوں کے وزن اور بھاری عنصر کے وزن کے درمیان جو فرق ہوتا ہے وہ توانائی بنتا ہے؟
اچھا! پھر کیا ہوتا ہے۔ میں آپ کی بات سمجھ نہیں سکا۔ ویسے پروٹون بھی تو مادہ ہی ہے اور 99۔999 فیصدتقریبا سو 100 ہی ہوا۔
100 فی صد تک پہنچانے کے لئے اتنی توانائی چاہیے جتنی پوری کائنات میں موجود نہیں۔ 9۔999 اور سو فیصد میں لفظی طور پر زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ کچھ زرات آپس میں ٹکرانتے ہیں اور وہ نئے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن کچھ توانائی بھی پیدا ہوتی ہے کیونکہ ٹکرانے والے ذرات اور نئے بننے والے ذرات کی کثافت میں فرق ہوتا ہے اور وہ فرق توانائی سے پورا ہوتا ہے۔
میں بھی ابھی بیٹھا آسمان کی طرف منہ کر کے یہی کہہ رہا تھا کہ یا اللہ ایسا تو کوئی جرم اب تک نہیں کیا تھا جس کی پاداش میں میرے ساتھ یہ سب ہورہا ہے کہ میرے ہر "دھاگے" کو باقاعدہ "شلوار" بنا دیا جاتا ہے۔
تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں
ارے نہیں، نہیں، قیصرانی بھائی، میں تو بس مزاح کررہا تھا۔ یقین مانیں کہ مجھے آپ لوگوں کی بحث سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/e-mc2-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A7%D8%B2-%D8%B9%D8%A7%D8%B7%D9%81-%D8%A8%D9%B9.54804/page-4