اب اِدھر کو جو آ نکلتا ہے۔ برائے اصلاح

محمد عبدالرؤوف — جون 14، 2023 6:42 صبح
الف عین ، سرور عالم راز ، یاسر شاہ ، ظہیراحمدظہیر
اب اِدھر کو جو آ نکلتا ہے
کوئی بھٹکا ہوا نکلتا ہے
میرے گھر کو جو راہ جاتا تھا
اب وہ جنگل کو جا نکلتا ہے
(کیا راہ کو مذکر باندھا جا سکتا ہے؟ میں نے کچھ اپنی طرف سے تحقیق کی تو مجھے غالب کا ایک شعر ملا۔
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
)
باندھ لوں میں امید جس بت سے
یا
باندھ لیتا ہوں جس سے امیدیں
ایک دن وہ خدا نکلتا ہے
میرے جیسے ہزاروں لوگوں میں
کوئی ایک آپ سا نکلتا ہے
کب اسے میری یاد آتی ہے
دل دکھانے کو آ نکلتا ہے
تیرے لب کا ہر ایک لفظ، مرے
اک مرض کی دوا نکلتا ہے
کس لیے اب کریدتے ہو تم
پیاسی دھرتی سے کیا نکلتا ہے
درد/زخم، تیری لگائی چوٹوں کا
دوسروں سے جدا/سوا نکلتا ہے
میں نے چھلکا دیا ہے ظرف اس کا
دیکھیے اب کہ کیا نکلتا ہے
کون اے عندلیبِ باغِ حجاز
تجھ سا نغمہ سرا نکلتا ہے​
اکمل زیدی — جون 14، 2023 7:32 صبح
عمدہ کہی بھائی صاحب۔۔۔مقطع مسنگ ؟
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 10:54 صبح
باوجود اِس کے کہ اُردُو محفل میں اِصلاحِ غزل کے عنوان سے نئے اِصلاح کاروں پر خاصی لے دے ہورہی ہے ۔میں صرف اُردُو زبان و بیان کے حوالے سے محض اپنی آراء پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔جیسا کہ عبدالروؤف بھائی نے خود کہا کہ کیا راہ کو مذکر باندھا جاسکتا ہے ؟ پھر آپ نے اپنی تحقیق کا نتیجہ غالب کا یہ شعر کیوں تیرا راہ گزر یاد آیا کو بنیاد بنالیا۔۔۔۔۔۔ایسے مواقع پر ذخیرۂ الفاظ یا زبان وبیان کے اختیارات کام آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں بس اِسی نقطۂ نظر سے محض اپنی آراء پیش کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اب اِدھر کو جو آ نکلتا ہے
کوئی بھٹکا ہوا نکلتا ہے
میرے گھر کو جو راہ جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راستہ گھر جو میرے جاتا تھا
اب وہ جنگل کو جا نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ جنگل میں آ نکلتا ہے
(۔۔کیا راہ کو مذکر باندھا جا سکتا ہے؟ میں نے کچھ اپنی طرف سے تحقیق کی تو مجھے غالب کا ایک شعر ملا۔
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا۔۔)
باندھ لوں میں امید جس بت سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں بت کے بجائے پتھر کا محل تھادونوں محبوب کا کنایہ ہوسکتے ہیں کیوں کہ پتھر پھر بت پھر خُدا
ایک دن وہ خدا نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باندھیے تو اُمید پتھر سے۔۔۔۔دیکھیے پھر وہ کیا نکلتا ہے
میرے جیسے ہزاروں لوگوں میں
کوئی ایک آپ سا نکلتا ہے
کب اسے میری یاد آتی ہے
دل دکھانے کو آ نکلتا ہے
تیرے لب کا ہر ایک لفظ، مرے
اک مرض کی دوا نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دردِ د ل کی دوا نکلتا ہے
کس لیے اب کریدتے ہو تم
پیاسی دھرتی سے کیا نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بانجھ دھرتی سے کیا نکلتا ہے
درد، تیری لگائی چوٹوں کا
دوسروں سے جدا نکلتا ہے
میں نے چھلکا دیا ہے ظرف اس کا
دیکھیے اب کہ کیا نکلتا ہے
کون اے عندلیبِ باغِ حجاز
تجھ سا نغمہ سرا نکلتا ہے
سیما علی — جون 14، 2023 11:25 صبح
کون اے عندلیبِ باغِ حجاز
تجھ سا نغمہ سرا نکلتا ہے
بہت عمدہ روفی بھیا
La Alma — جون 14، 2023 12:01 شام
اصلاح، صلاح سے قطع نظر مجموعی طور پر اچھی غزل ہے۔
علی وقار — جون 14، 2023 12:22 شام
باوجود اِس کے کہ اُردُو محفل میں اِصلاحِ غزل کے عنوان سے نئے اِصلاح کاروں پر خاصی لے دے ہورہی ہے ۔میں صرف اُردُو زبان و بیان کے حوالے سے محض اپنی آراء پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔جیسا کہ عبدالروؤف بھائی نے خود کہا کہ کیا راہ کو مذکر باندھا جاسکتا ہے ؟ پھر آپ نے اپنی تحقیق کا نتیجہ غالب کا یہ شعر کیوں تیرا راہ گزر یاد آیا کو بنیاد بنالیا۔۔۔۔۔۔ایسے مواقع پر ذخیرۂ الفاظ یا زبان وبیان کے اختیارات کام آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں بس اِسی نقطۂ نظر سے محض اپنی آراء پیش کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اب اِدھر کو جو آ نکلتا ہے
کوئی بھٹکا ہوا نکلتا ہے
میرے گھر کو جو راہ جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راستہ گھر جو میرے جاتا تھا
اب وہ جنگل کو جا نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ جنگل میں آ نکلتا ہے
(۔۔کیا راہ کو مذکر باندھا جا سکتا ہے؟ میں نے کچھ اپنی طرف سے تحقیق کی تو مجھے غالب کا ایک شعر ملا۔
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا۔۔)
باندھ لوں میں امید جس بت سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں بت کے بجائے پتھر کا محل تھادونوں محبوب کا کنایہ ہوسکتے ہیں کیوں کہ پتھر پھر بت پھر خُدا
ایک دن وہ خدا نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باندھیے تو اُمید پتھر سے۔۔۔۔دیکھیے پھر وہ کیا نکلتا ہے
میرے جیسے ہزاروں لوگوں میں
کوئی ایک آپ سا نکلتا ہے
کب اسے میری یاد آتی ہے
دل دکھانے کو آ نکلتا ہے
تیرے لب کا ہر ایک لفظ، مرے
اک مرض کی دوا نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دردِ د ل کی دوا نکلتا ہے
کس لیے اب کریدتے ہو تم
پیاسی دھرتی سے کیا نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بانجھ دھرتی سے کیا نکلتا ہے
درد، تیری لگائی چوٹوں کا
دوسروں سے جدا نکلتا ہے
میں نے چھلکا دیا ہے ظرف اس کا
دیکھیے اب کہ کیا نکلتا ہے
کون اے عندلیبِ باغِ حجاز
تجھ سا نغمہ سرا نکلتا ہے
شکیل بھائی! آپ اگر اقتباس لے کر کچھ لکھیں گے تو آپ کی بات زیادہ آسانی سے سمجھ آئے گی۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کسی مراسلے کے مخصوص الفاظ کو ہائی لائیٹ کریں گے تو ان الفاظ کا اقتباس لے پائیں گے اور اس کے نیچے اپنی رائے دے سکیں گے۔ ابھی مجھے تو سمجھ نہیں آتی ہے کہ آپ کی بات کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم۔ امید ہے توجہ فرمائیں گے۔ شکریہ۔
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 1:12 شام
شکیل بھائی! آپ اگر اقتباس لے کر کچھ لکھیں گے تو آپ کی بات زیادہ آسانی سے سمجھ آئے گی
محترم وقار بھائی !
آیندہ ایسا ہی کروں گا ۔رہنمائی کے لیے آپ کا شکرگزار ہوں۔
صابرہ امین — جون 14، 2023 1:31 شام
بہت خوبصورت غزل۔ ۔ ماشا اللہ محمد عبدالرؤوف
بہت عمدہ اصلاح ۔ ۔ شکریہ شکیل احمد خان23 بھائی
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 2:14 شام
درد، تیری لگائی چوٹوں کا
دوسروں سے جدا نکلتا ہے
درد تیری لگائی چوٹوں کا
درد سے بھی سوا نکلتا ہے
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 2:19 شام
بہت خوبصورت غزل۔ ۔ ماشا اللہ @محمد عبدالرؤوف
بہت عمدہ اصلاح ۔ ۔ شکریہ @شکیل احمد خان23 بھائی
شکریہ گڑیارانی مگر ابھی اساتذہ کرام قدرم رنجہ اور تشریف فرما نہیں ہوئے ۔اصل سند تو آپ حضرات کے ہی اِرشاد ات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 2:21 شام
کب اسے میری یاد آتی ہے
دل دکھانے کو آ نکلتا ہے
واہ! ماشاءاللہ ، بہت خوب ،جواب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 5:49 شام
میرے جیسے ہزاروں لوگوں میں
کوئی ایک آپ سا نکلتا ہے
میرے جیسے ہزاروں لوگوں میں
۔۔۔۔۔۔۔ایک آدھ آپ سا نکلتا ہے
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 5:58 شام
میں نے چھلکا دیا ہے ظرف اس کا
دیکھیے اب کہ کیا نکلتا ہے
لو چھلک اُٹھا اُس کا پیمانہ
۔۔۔۔۔دیکھیں شیشے سے کیا نکلتا ہے
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 6:23 شام
میں نے چھلکا دیا ہے ظرف اس کا
دیکھیے اب کہ کیا نکلتا ہے
ہے چھلکنے کو اُس کا پیمانہ
۔۔۔۔۔دیکھیں شیشے سے کیا نکلتا ہے
صابرہ امین — جون 14، 2023 6:45 شام
شکریہ گڑیارانی مگر ابھی اساتذہ کرام قدرم رنجہ اور تشریف فرما نہیں ہوئے ۔اصل سند تو آپ حضرات کے ہی اِرشاد ات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے گڑیا رانی کے صاحبزادے اس سال یونیورسٹی میں پہنچ چکے ہیں۔ :LOL:
شکیل احمد خان23 — جون 14، 2023 7:14 شام
ویسے گڑیا رانی کے صاحبزادے اس سال یونیورسٹی میں پہنچ چکے ہیں۔
ماشاءاللہ !
ارشد رشید — جون 15، 2023 12:15 صبح
میرے گھر کو جو راہ جاتا تھا
اب وہ جنگل کو جا نکلتا ہے
(کیا راہ کو مذکر باندھا جا سکتا ہے؟ میں نے کچھ اپنی طرف سے تحقیق کی تو مجھے غالب کا ایک شعر ملا۔
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
)
حضرت - راہ اور راہگزر دو علٰحدہ الفاط ہیں - راہ مؤنث ہے اور راہ گزر مذکر ہے - غالب نے مذکر اس لیئے باندھا ہے کہ انہوں نے راہ گز را ستعمال کیا ہے صرف راہ نہیں -
آپ کو اسے مؤنث باندھنا ہوگا کیونکہ آپ نے صرف راہ استعمال کیا ہے - میرے گھر کو جو راہ جاتی تھی - لہذا یہ شعر آپ کی ردیف میں نہیں آئیگا -
صریر — جون 15، 2023 2:25 صبح
زبردست محمد عبدالرؤوف بھائی! 🌟
محمد عبدالرؤوف — جون 15، 2023 1:50 شام
عمدہ کہی بھائی صاحب۔۔۔مقطع مسنگ ؟
اصلاح، صلاح سے قطع نظر مجموعی طور پر اچھی غزل ہے۔
بہت خوبصورت غزل۔ ۔ ماشا اللہ محمد عبدالرؤوف
بہت عمدہ اصلاح ۔ ۔ شکریہ شکیل احمد خان23 بھائی
واہ! ماشاءاللہ ، بہت خوب ،جواب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوصلہ افزائی کے لیے آپ سب کا ممنون ہوں، سلامت رہیں۔
محمد عبدالرؤوف — جون 15، 2023 1:52 شام
بہت شکریہ صریر بھائی، سلامت رہیں
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%90%D8%AF%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%D9%88-%D8%AC%D9%88-%D8%A2-%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.119609/