غدیر زھرا — اکتوبر 16، 2016 5:02 شام
یہ اشعار تو سب درست ہیں، لیکن آخری نیا شعر اب بھی درست نہیں، یعنی قافیہ غلط ہے۔ ’ٹھہر‘ بھ، پھ، تھ کے قوافی میں نہیں آ سکتا۔ یہ بقول لسانیات والوں کے، ’ہاکاری‘ آواز نہیں ہے۔
جی سر میں اسے نکال دیتی ہوں بہت شکریہ آپ کی راہنمائی کے لیے

نیرنگ خیال — اکتوبر 16، 2016 6:27 شام
بہت خوب غدیر۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ زبردست
غدیر زھرا — اکتوبر 16، 2016 6:41 شام
بہت خوب غدیر۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ زبردست
شکریہ نین بھیا

ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 19، 2016 4:59 صبح
واہ واہ ! کیا خوب غزل ہے غدیر زھرا صاحبہ ! معذرت کہ آنے مین دیر ہوئی اور بہت دیر سے آپ کا ٹیگ دیکھا ۔ استاذی الف عین صاحب اور دیگر احباب آپ کی غزل سنوار ہی چکے ہیں ۔ بہت اچھے اشعار ہیں ۔ بس مطلع کا دوسرا مصرع مجھے اچھا نہین لگا ۔ " جہاں جدھر جاؤں" اہلِ زبان کا محاورہ نہیں ۔ کوشش ہونی چاہئے کہ زبان بامحاورہ اور دھلی ہوئی ہو کہ شاعری نام ہی نفیس زبان اور لطیف پیرائے کا ہے ۔
غدیر زھرا — اکتوبر 19، 2016 2:40 شام
واہ واہ ! کیا خوب غزل ہے غدیر زھرا صاحبہ ! معذرت کہ آنے مین دیر ہوئی اور بہت دیر سے آپ کا ٹیگ دیکھا ۔ استاذی الف عین صاحب اور دیگر احباب آپ کی غزل سنوار ہی چکے ہیں ۔ بہت اچھے اشعار ہیں ۔ بس مطلع کا دوسرا مصرع مجھے اچھا نہین لگا ۔ " جہاں جدھر جاؤں" اہلِ زبان کا محاورہ نہیں ۔ کوشش ہونی چاہئے کہ زبان بامحاورہ اور دھلی ہوئی ہو کہ شاعری نام ہی نفیس زبان اور لطیف پیرائے کا ہے ۔
شکریہ سر

کوئی بات نہیں

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا

آئندہ اگر کچھ لکھنے کی مجال کی تو خیال کروں گی کیونکہ یہ پہلی غزل ہے سو امید ہے اس گستاخی سے درگزر کریں گے..
راحیل فاروق — اکتوبر 21، 2016 10:21 صبح
نیند آتی ہے اب کے آئے بغیر
تم بھی آتے ہو کیا؟ ٹھہر جاؤں؟
پہلے مصرعے کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔
آئنہ جو بنے نظر تیری
آپ ہی آپ میں نکھر جاؤں
چاندنی ساتھ ہی رکھوں گی اب
یعنی تجھ کو لیے میں گھر جاؤں
ان دونوں اشعار کا مفہوم ابھی تک میری سمجھ سے باہر ہے۔
باقی بہترین۔ ایک بار پھر حیرت اور رشک بھری مبارک باد!
ڈاکٹرعامر شہزاد — اکتوبر 21، 2016 10:35 صبح
بہت خو بصورت غزل ہے ۔۔ خوش رہیں ۔ سلامت رہیں ۔۔ اور ایسے ہی خوبصورت شاعری لکھتی رہیں ۔۔
