جی اسی وجہ سے میں نے اسے حذف کر لیا تھا۔ آپ تازہ مصرع پر نظر فرمائیں
عہدِ شاہی میں رہے غرقِ ہجومِ یاراں
کنجِ تنہائی بچا ، وقت بُرا ہونے تک
مزیدیہ کہ مطلع میں اگر یہ معمولی سی تدوین کر دی جائے ؟؟
سربسجدہ ہوں رضا آہ رسا ہونے تک
جی اسی وجہ سے میں نے اسے حذف کر لیا تھا۔ آپ تازہ مصرع پر نظر فرمائیں
جی اگر غرق کو محو سے بدل دیا جائے تو؟؟
اب کے = اس بار
جی بجا فرمایا۔ اگر صرف اسی واقعہ تک محدود رہا جائے تو کیا "کو سزا " کو "سے خطا" اگر کر دیا جائے تو کیا کچھ بہتری ہوسکتی ہے؟
میری بہت ’’جذباتی‘‘ رائے یہ ہے کہ اس شعر کو نکال دیں۔
جی بہترکیوں کہ نہ ہی خطا انبیا کی شان ہے نہ ہی سزا۔ درست فرمایا

استاد محترم از راہ کرم اب اس شعر پر غور فرمائیے گا
شکریہ استادِ محترم۔ خوش رہیں