ارکان کے زحافات پر اختلاف

فاتح — ستمبر 4، 2012 7:25 شام
استاد جی نیا نیا عروض سیکھ رہا ہوں۔ تو کتاب میں لکھا ہوا اکثر سمجھ نہیں آتا تو محمد وارث بھائی اور فاتح بھائی کو تنگ کرنے آجاتا ہوں۔ کیونکہ بہر حال کہا تو یہی جاتا ہے کے عروض سیکھنا نہ سیکھنے سے بہتر ہے۔ :)
فاتح بھائی اب یہ بھی سمجھائیں کہ فاعلاتن سے ”فُعِل“ (بسکون لام) کونسے زحافات لگ کر بنے گا؟
اب یہ فاعلاتن متصل ہے یا فاع لاتن منفصل؟
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 4، 2012 7:29 شام
اب یہ فاعلاتن متصل ہے یا فاع لاتن منفصل؟

جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہے یعنی متصل۔ منفصل میں تو فعل ہوتا ہی نہیں ہے۔
فاتح — ستمبر 4، 2012 7:34 شام
جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہے یعنی متصل۔ منفصل میں تو فعل ہوتا ہی نہیں ہے۔
یار کیوں اب اس بڑھاپے میں ہمیں جوانی کے عہد کے پڑھے ہوئے سبق یاد کروا رہے ہو؟
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 4، 2012 7:40 شام
یار کیوں اب اس بڑھاپے میں ہمیں جوانی کے عہد کے پڑھے ہوئے سبق یاد کروا رہے ہو؟

فاتح بھیا آپ آ گئے تو آپ کو ہی گھیر لیا۔ ورنہ جواب تو کوئی بھی دے دے۔ جواب ملنا چاہئے۔ ویسے بحرالفصاحت میں بہت چیزیں قابلِ اختلاف ہیں (اپنے ہی بتائے ہوئے اصولوں سے) جس کا مجھے افسوس ہے۔ :(
فاتح — ستمبر 4، 2012 7:48 شام
استاد جی نیا نیا عروض سیکھ رہا ہوں۔ تو کتاب میں لکھا ہوا اکثر سمجھ نہیں آتا تو محمد وارث بھائی اور فاتح بھائی کو تنگ کرنے آجاتا ہوں۔ کیونکہ بہر حال کہا تو یہی جاتا ہے کے عروض سیکھنا نہ سیکھنے سے بہتر ہے۔ :)
فاتح بھائی اب یہ بھی سمجھائیں کہ فاعلاتن سے ”فُعِل“ (بسکون لام) کونسے زحافات لگ کر بنے گا؟
خلع اور حذف
فاتح — ستمبر 4، 2012 7:56 شام
فَاعِلَاتُن دراصل سبب خفیف + وتد مجموع + سبب خفیف ہے۔
مرکب زحاف "خلع" دو مفرد زحافات "خبن" اور "قطع" کا مجموعہ ہے۔
خبن نے فَاعِلَاتُن کے پہلے سبب خفیف کے حرفِ ساکن کو ساقط کر دیا یوں فَعِلَاتُن باقی بچا اور قطع نے وتد مجموع کے ساکن حرف یعنی الف کو ساقط کر دیا اور اس سے پہلے والے متحرک کو ساکن، یوں فَعِلتُن باقی بچا۔
اب فَعِلتُن پر حذف استعمال کیا تو اس نے آخری سبب خفیف کو ساقط کر دیا اور یوں فعِل بچا۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 4، 2012 7:57 شام
فاتح بھائی خلع اور حذف دونوں ایک وقت میں تو کام نہیں کر سکتے شاید۔ :unsure:
ویسے آپ نے ایسا کیوں کہا؟ تھوڑا سمجھا دیں تو شاید سمجھ آجائے۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 4، 2012 8:01 شام
فَاعِلَاتُن دراصل سبب خفیف + وتد مجموع + سبب خفیف ہے۔
مرکب زحاف "خلع" دو مفرد زحافات "خبن" اور "قطع" کا مجموعہ ہے۔
خبن نے فَاعِلَاتُن کے پہلے سبب خفیف کے حرفِ ساکن کو ساقط کر دیا یوں فَعِلَاتُن باقی بچا اور قطع نے وتد مجموع کے ساکن حرف یعنی الف کو ساقط کر دیا اور اس سے پہلے والے متحرک کو ساکن، یوں فَعِلتُن باقی بچا۔
اب فَعِلتُن پر حذف استعمال کیا تو اس نے آخری سبب خفیف کو ساقط کر دیا اور یوں فعِل بچا۔

لیکن قطع کا کام تو رکن کے آخر وتد مجموع پر ہوتا ہے یہاں تو قطع استعمال ہی نہیں ہوسکتا۔
فاتح — ستمبر 4، 2012 8:02 شام
فاتح بھائی اگر خلع اور حذف دونوں ایک وقت میں تو کام نہیں کر سکتے شاید۔ :unsure:
اچھا؟ واقعی؟ اگر ایسا ہے تو کوئی حوالہ دو۔۔۔ میں نے تو بتا ہی دیا ہے کہ کہ فی الوقت تو میرے پاس بحر الفصاحت نہیں ہے۔
ویسے آپ نے ایسا کیوں کہا؟ تھوڑا سمجھا دیں تو شاید سمجھ آجائے۔
اوپر سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 4، 2012 8:05 شام
اچھا؟ واقعی؟ اگر ایسا ہے تو کوئی حوالہ دو۔۔۔ میں نے تو بتا ہی دیا ہے کہ کہ فی الوقت تو میرے پاس بحر الفصاحت نہیں ہے۔
اوپر سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

اب بحرالفصاحت ہی رکھی ہے میرے پاس۔ اور جو اس میں لکھا ہے مجھے تو اس سے بھی اختلاف ہے۔ حوالہ کس کا دوں؟
باقی قطع تو درمیانی وتدِ مجموع پر استعمال ہوتا ہی نہیں ہے۔
فاتح — ستمبر 4، 2012 8:19 شام
مولوی صاحب کیا لکھتے ہیں کہ کیسے فعِل بنا فاعلاتن سے؟
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 4، 2012 8:27 شام
مولوی صاحب کیا لکھتے ہیں کہ کیسے فعِل بنا فاعلاتن سے؟

فاعلاتن پر ربع یعنی اجتماع خبن و بتر
بتر = قطع حذف
فاعلاتن خبن کے بعد فعلاتن رہا
فعلاتن حذف کے بعد فعلا
فعلا قطع کے بعد فعِل رہا۔
فعل مربوع۔
ایسا تو نہیں کرتے فاتح بھائی :(
فاتح — ستمبر 4، 2012 8:46 شام
بچے! اللہ تمھارا بیڑا پار کرے۔۔۔ میرا دماغ واقعی گھومنے لگا ہے :laughing:
فاعلاتن سے فعِل بنانے کے لیے تین زحافات لگانے پڑ رہے ہیں، خبن، خرم اور حذف لیکن ان میں سو کوئی بھی دو ملا کر ایک مرکب زحاف نہیں بنتا۔ مجھے لگتا ہے بتر کی تعریف میں گڑبڑ کی ہے انھوں نے۔ بدقسمتی سے یہاں ایک بھی کتاب نہیں میرے پاس۔۔۔ ذرا ایک اہم کام سے فارغ ہو جاؤں تو آن لائن کچھ عربی کتب عروض پر تلاش کرتا ہوں۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 4، 2012 8:54 شام
بچے! اللہ تمھارا بیڑا پار کرے۔۔۔ میرا دماغ واقعی گھومنے لگا ہے :laughing:
فاعلاتن سے فعِل بنانے کے لیے تین زحافات لگانے پڑ رہے ہیں، خبن، خرم اور حذف لیکن ان میں سو کوئی بھی دو ملا کر ایک مرکب زحاف نہیں بنتا۔ مجھے لگتا ہے بتر کی تعریف میں گڑبڑ کی ہے انھوں نے۔ بدقسمتی سے یہاں ایک بھی کتاب نہیں میرے پاس۔۔۔ ذرا ایک اہم کام سے فارغ ہو جاؤں تو آن لائن کچھ عربی کتب عروض پر تلاش کرتا ہوں۔

یہ تین زحافات بھی کام نہیں کر رہے فاتح بھائی۔
خرم ::::: رکن کے شروع میں وتد مجموع کے پہلے متحرک کو گرانا۔ مفاعیلن پے کام کرے گا۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 4، 2012 9:14 شام
بچے! اللہ تمھارا بیڑا پار کرے۔۔۔ میرا دماغ واقعی گھومنے لگا ہے :laughing:
فاعلاتن سے فعِل بنانے کے لیے تین زحافات لگانے پڑ رہے ہیں، خبن، خرم اور حذف لیکن ان میں سو کوئی بھی دو ملا کر ایک مرکب زحاف نہیں بنتا۔ مجھے لگتا ہے بتر کی تعریف میں گڑبڑ کی ہے انھوں نے۔ بدقسمتی سے یہاں ایک بھی کتاب نہیں میرے پاس۔۔۔ ذرا ایک اہم کام سے فارغ ہو جاؤں تو آن لائن کچھ عربی کتب عروض پر تلاش کرتا ہوں۔

بتر کی تعریف تو وہاں دیکھی ہی نہیں میں نے۔ اپنے ناقص علمِ زحافات کا سے یہاں لکھا تھا۔ بہر حال بتر کی تعریف سے تو مجھے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اب دیکھیں کیا بنتا ہے۔
کوئی گزرے تو بتاتا جائے کہ فاعلاتن سے فُعِل کیسے بنا؟ تکّا ہی لگا دیں شاید کچھ بن جائے۔
احمد بلال — ستمبر 5، 2012 6:19 صبح
اب بحرالفصاحت ہی رکھی ہے میرے پاس۔ اور جو اس میں لکھا ہے مجھے تو اس سے بھی اختلاف ہے۔ حوالہ کس کا دوں؟​
اب آپ اپنی ایک نئی "بحر الفصاحت" لکھیں
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 5، 2012 8:17 صبح
اب آپ اپنی ایک نئی "بحر الفصاحت" لکھیں

نہیں جناب اتنی اوقات نہیں میری ابھی۔ طفلِ مکتب ہوں ابھی تو۔ کچھ سیکھ سمجھ لوں کچھ آتا ہو تو ایسا کہتا ہوا اچھا لگوں۔
احمد بلال — ستمبر 5، 2012 8:56 صبح
خطائے بزرگاں گرفتن خود خطا است
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 5، 2012 9:07 صبح
خطائے بزرگاں گرفتن خود خطا است

میں فارسی نہیں جانتا لیکن اس بات کا مطلب سمجھ گیا ہوں. بہر حال آپ اس بحث کا منفی رخ دیکھ رہے ہیں. مثبت پہلو پر نظر کریں تو شاید ایسا نہ کہیں
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 5، 2012 4:16 شام
بچے! اللہ تمھارا بیڑا پار کرے۔۔۔ میرا دماغ واقعی گھومنے لگا ہے :laughing:
فاعلاتن سے فعِل بنانے کے لیے تین زحافات لگانے پڑ رہے ہیں، خبن، خرم اور حذف لیکن ان میں سو کوئی بھی دو ملا کر ایک مرکب زحاف نہیں بنتا۔ مجھے لگتا ہے بتر کی تعریف میں گڑبڑ کی ہے انھوں نے۔ بدقسمتی سے یہاں ایک بھی کتاب نہیں میرے پاس۔۔۔ ذرا ایک اہم کام سے فارغ ہو جاؤں تو آن لائن کچھ عربی کتب عروض پر تلاش کرتا ہوں۔

ویسے فاتح بھائی تین زحافات کو اس طرح لگایا جائے فعِل بنے گا۔
فاعلاتن پر خبن سے اول سبب خفیف کا الف گرایا
پھر تشعیث سے وتد مجموع کا لام گرایا۔
پھر حذف سے آخری سبب خفیف تن بھی گرا دیا۔
باقی بچا فَعَا جسے فعِل سے بدلا جاسکتا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%B2%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%A7%D8%AA-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D9%84%D8%A7%D9%81.54024/page-2