دل میں ارماں ہزاروں جگاتے گئے
وہ ہمیں دیکھ کر مسکراتے گئے جو نگاہوں سے دل میں سماتے گئے
وہ ہمیں سے نگاہیں چراتے گئے ذہن و دل پر کچھ ایسے وہ چھاتے گئے
ہوش گویا ہمارے اڑاتے گئے اس کی الفت نے رسوا کیا عمر بھر
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے وہ حقیقت میں اک پل میسر نہ تھا
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے ہم سے دیوانے گزرے ہیں جس راہ سے
دل کی بستی وہاں پر بساتے گئے ہو کے برہم کبھی ، بن کے ہمدم کبھی
دل کی بے تابیوں کو بڑھاتے گئے داغ دل پر لیے جن کی خاطر وہی
عمر بھر ہم سے دامن بچاتے گئے
پتا ہے اساتذہ اس غزل میں صرف مطلع اور مقطع میں وزن کی غلطی ہوئی تھی ۔۔۔ باقی کسی میں تصحیح نہیں کرنی پڑی ۔
دونوں اشعار میں ضمیر مجہول ہے، اس لیے فاعل کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ یعنی یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون آنکھوں میں خواب سجاتا گیا اور کون بے تابیوں کو بڑھاتا گیا۔
علاوہ ازیں اقتباس حقیقت والے مصرعے میں ’’بھی‘‘ کی کمی بھی کھل رہی ہے۔
دونوں اشعار میں ضمیر مجہول ہے، اس لیے فاعل کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ یعنی یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون آنکھوں میں خواب سجاتا گیا اور کون بے تابیوں کو بڑھاتا گیا۔
علاوہ ازیں اقتباس حقیقت والے مصرعے میں ’’بھی‘‘ کی کمی بھی کھل رہی ہے۔ پہلے مصرعے میں بھی ماضی کا صیغہ استعمال کرنا چاہیے۔ دوسرے کی بابت تابشؔ بھائی نے نکتہ اٹھا دیا ہے، ان سے متفق ہوں۔
دل میں ارماں ہزاروں جگاتے گئے
وہ ہمیں دیکھ کر مسکراتے گئے جو نگاہوں سے دل میں سماتے گئے
وہ ہمیں سے نگاہیں چراتے گئے ذہن و دل پر کچھ ایسے وہ چھاتے گئے
ہوش گویا ہمارے اڑاتے گئے اس کی الفت نے رسوا کیا عمر بھر
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے وہ حقیقت میں ہم کو ملا نہ کبھی
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے ہو کے برہم کبھی ، بن کے ہمدم کبھی
میری بے تابیوں کو بڑھاتے گئے داغ دل پر لیے جن کی خاطر وہی
عمر بھر ہم سے دامن بچاتے گئے میں نے مقطع بھی لکھا تھا پر اس میں جو غلطی ہو رہی تھی وہ میں درست نہیں کر پا رہی تھی ۔ اس لیے ہٹا دیا ۔
اب دیکھیں اساتذہ
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 4:29 صبح
ایک سوال اور تھا کہ جو حسن مطلع کے بعد والا شعر ہوتا ہے کہ اس میں بھی دونوں مصرعوں میں قافیہ ہو تو اسے کیا کہیں گے ۔
اس کی الفت نے رسوا کیا ہے ہمیں
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے ہو کے برہم و ہمدم کبھی بن کے وہ
دل کی بے تابیوں کو بڑھاتے گئے وہ حقیقت میں ہم کو میسر نہیں
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے