اساتذہ اصلاح و رہنمائی فرما دیں ۔۔

مومن فرحین — جنوری 20، 2021 7:04 صبح
السلام عليكم
اساتذہ کے پاس پھر ایک غزل لے کر حاضر ہوئی ہوں ۔۔۔ رہنمائی فرما دیں۔۔ نوازش ہوگی
محترم استاد الف عین صاحب
محترم محمد خلیل الرحمٰن جی
محترم عاطف انکل
محترم راحل بھائی
محترم تابش بھائی
استاد فہد جی
دل میں ارماں ہزاروں جگاتے گئے
وہ ہمیں دیکھ کر مسکراتے گئے
جو نگاہوں سے دل میں سماتے گئے
وہ ہمیں سے نگاہیں چراتے گئے
ذہن و دل پر کچھ ایسے وہ چھاتے گئے
ہوش گویا ہمارے اڑاتے گئے
اس کی الفت نے رسوا کیا عمر بھر
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے
وہ حقیقت میں اک پل میسر نہ تھا
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے
ہم سے دیوانے گزرے ہیں جس راہ سے
دل کی بستی وہاں پر بساتے گئے
ہو کے برہم کبھی ، بن کے ہمدم کبھی
دل کی بے تابیوں کو بڑھاتے گئے
داغ دل پر لیے جن کی خاطر وہی
عمر بھر ہم سے دامن بچاتے گئے​

پتا ہے اساتذہ اس غزل میں صرف مطلع اور مقطع میں وزن کی غلطی ہوئی تھی ۔۔۔ باقی کسی میں تصحیح نہیں کرنی پڑی ۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 20، 2021 7:13 صبح
خوب غزل ہے۔
البتہ
دل کی بستی وہاں پر بساتے گئے
دل کی بستی بسانا کچھ سمجھ نہ آیا۔
طارق اسماعیل ساگر یاد آ گئے۔
مومن فرحین — جنوری 20، 2021 7:18 صبح
ارے استاد جی کو پھر بھول گئی تھی :doh:
پر یاد آتے ہی کہہ دیا :heehee:
مومن فرحین — جنوری 20، 2021 7:21 صبح
خوب غزل ہے۔
البتہ
دل کی بستی بسانا کچھ سمجھ نہ آیا۔
طارق اسماعیل ساگر یاد آ گئے۔
کیا پتا بھائی بس کہہ دیا :heehee:۔۔۔ آپ تصحیح کر دیں ۔۔ اور یہ حضرت کون تھے ؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 20، 2021 7:56 صبح
وہ حقیقت میں اک پل میسر نہ تھا
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے

ہو کے برہم کبھی ، بن کے ہمدم کبھی
دل کی بے تابیوں کو بڑھاتے گئے
دونوں اشعار میں ضمیر مجہول ہے، اس لیے فاعل کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ یعنی یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون آنکھوں میں خواب سجاتا گیا اور کون بے تابیوں کو بڑھاتا گیا۔
علاوہ ازیں اقتباس حقیقت والے مصرعے میں ’’بھی‘‘ کی کمی بھی کھل رہی ہے۔
ہم سے دیوانے گزرے ہیں جس راہ سے
دل کی بستی وہاں پر بساتے گئے
پہلے مصرعے میں بھی ماضی کا صیغہ استعمال کرنا چاہیے۔ دوسرے کی بابت تابشؔ بھائی نے نکتہ اٹھا دیا ہے، ان سے متفق ہوں۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 20، 2021 2:50 شام
کیا پتا بھائی بس کہہ
یہ تو شاعرہ کو ہی معلوم ہونا چاہیے۔ :)
اور یہ حضرت کون تھے ؟
ایک مصنف ہیں، جو جہاں جاتے ہیں، کسی حسینہ کو دل دے بیٹھتے ہیں۔ :)
مومن فرحین — جنوری 20، 2021 3:42 شام
یہ تو شاعرہ کو ہی معلوم ہونا چاہیے۔ :)
ایک مصنف ہیں، جو جہاں جاتے ہیں، کسی حسینہ کو دل دے بیٹھتے ہیں۔ :)

ہائے اللّه بھائی :noxxx: اس کا ایسا مطلب نکل رہا ہے کیا ۔۔؟ پھر تو اس کو ہٹا ہی دیتی ہوں
مومن فرحین — جنوری 20، 2021 3:43 شام
دونوں اشعار میں ضمیر مجہول ہے، اس لیے فاعل کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ یعنی یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون آنکھوں میں خواب سجاتا گیا اور کون بے تابیوں کو بڑھاتا گیا۔
علاوہ ازیں اقتباس حقیقت والے مصرعے میں ’’بھی‘‘ کی کمی بھی کھل رہی ہے۔
پہلے مصرعے میں بھی ماضی کا صیغہ استعمال کرنا چاہیے۔ دوسرے کی بابت تابشؔ بھائی نے نکتہ اٹھا دیا ہے، ان سے متفق ہوں۔

اچھا بھائی میں غلطیاں درست کرنے کی کوشش کرتی ہوں پھر بتاتی ہوں ۔
مومن فرحین — جنوری 20، 2021 3:45 شام
ویسے راحل بھائی آپ کو مجھے الگ سے شاباشی دینی چاہیے تھی میں نے آپ کو ٹیگ کر ہی لیا آخر ۔۔۔۔:heehee:
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 20، 2021 6:25 شام
ویسے راحل بھائی آپ کو مجھے الگ سے شاباشی دینی چاہیے تھی میں نے آپ کو ٹیگ کر ہی لیا آخر ۔۔۔۔:heehee:
بھئی پہلی بار تو تکا بھی لگ سکتا ہے ... جب تک دو تین بار کامیابی سے اعادہ کرکے نہیں دکھا دیتیں، آپ کو سند فضیلت عطا نہیں کی جا سکتی :)
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 4:15 صبح
یعنی آپ کو ٹیگ کرنا سیکھنے کے لیے مجھے دو چار غزلیں اور لکھنی پڑے گی ۔۔۔ :thinking:
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 4:21 صبح
علاوہ ازیں اقتباس حقیقت والے مصرعے میں ’’بھی‘‘ کی کمی بھی کھل رہی ہے۔

اس نقطے کا مطلب سمجھا دیں ذرا ۔۔۔
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 4:26 صبح
دل میں ارماں ہزاروں جگاتے گئے
وہ ہمیں دیکھ کر مسکراتے گئے
جو نگاہوں سے دل میں سماتے گئے
وہ ہمیں سے نگاہیں چراتے گئے
ذہن و دل پر کچھ ایسے وہ چھاتے گئے
ہوش گویا ہمارے اڑاتے گئے
اس کی الفت نے رسوا کیا عمر بھر
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے
وہ حقیقت میں ہم کو ملا نہ کبھی
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے
ہو کے برہم کبھی ، بن کے ہمدم کبھی
میری بے تابیوں کو بڑھاتے گئے
داغ دل پر لیے جن کی خاطر وہی
عمر بھر ہم سے دامن بچاتے گئے
میں نے مقطع بھی لکھا تھا پر اس میں جو غلطی ہو رہی تھی وہ میں درست نہیں کر پا رہی تھی ۔ اس لیے ہٹا دیا ۔
اب دیکھیں اساتذہ
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 4:29 صبح
ایک سوال اور تھا کہ جو حسن مطلع کے بعد والا شعر ہوتا ہے کہ اس میں بھی دونوں مصرعوں میں قافیہ ہو تو اسے کیا کہیں گے ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2021 8:31 صبح
ایک سوال اور تھا کہ جو حسن مقطع کے بعد والا شعر ہوتا ہے کہ اس میں بھی دونوں مصرعوں میں قافیہ ہو تو اسے کیا کہیں گے ۔
حسنِ مقطع کیا ہوتا ہے؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2021 8:35 صبح
اس کی الفت نے رسوا کیا عمر بھر
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے

ہو کے برہم کبھی ، بن کے ہمدم کبھی
میری بے تابیوں کو بڑھاتے گئے
ان اشعار میں تو کوئی تبدیلی کی ہی نہیں گئی ۔۔۔ مسئلہ اب بھی باقی ہے۔
وہ حقیقت میں ہم کو ملا نہ کبھی
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے
نہ کو دو حرفی باندھنا اچھا نہیں۔
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 8:47 صبح
اس کی الفت نے رسوا کیا ہے ہمیں
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے
ہو کے برہم و ہمدم کبھی بن کے وہ
دل کی بے تابیوں کو بڑھاتے گئے
وہ حقیقت میں ہم کو میسر نہیں
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 8:48 صبح
حسنِ مقطع کیا ہوتا ہے؟
میں نے مطلع لکھنا چاہا تھا ۔۔۔
اب دیکھیں بھائی ۔۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2021 8:59 صبح
س کی الفت نے رسوا کیا ہے ہمیں
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے
پہلے مصرعے میں اُس کے بجائے جس کر دیں اور ہے کے بجائے تھا
ہو کے برہم و ہمدم کبھی بن کے وہ
دل کی بے تابیوں کو بڑھاتے گئے
پہلا مصرع پہلے والا ہی ٹھیک تھا، دوسرے کو یوں کیا جا سکتا ہے۔
دل کی بے تابیاں وہ بڑھاتے گئے
وہ حقیقت میں ہم کو میسر نہیں
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے
وہ حقیقت میں ہم کو میسر نہ تھا
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2021 9:00 صبح
میں نے مطلع لکھنا چاہا تھا ۔۔۔
حسنِ مطلع کے بعد قاری کی دلچسپی باقی ہی باقی نہیں رہتی کہ وہ پروا کرے کہ اس کے بعد والے مطلعے کو کیا کہتے ہیں :)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DA%BA-%DB%94%DB%94.114797/