مومن فرحین — جنوری 21، 2021 9:07 صبح
بہت شکریہ بھائی ۔۔۔ جزاک اللّه

مومن فرحین — جنوری 21، 2021 9:09 صبح
دل میں ارماں ہزاروں جگاتے گئے
وہ ہمیں دیکھ کر مسکراتے گئے
جو نگاہوں سے دل میں سماتے گئے
وہ ہمیں سے نگاہیں چراتے گئے
ذہن و دل پر کچھ ایسے وہ چھاتے گئے
ہوش گویا ہمارے اڑاتے گئے
جس کی الفت نے رسوا کیا تھا ہمیں
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے
وہ حقیقت میں ہم کو میسر نہ تھا
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے
ہو کے برہم کبھی ، بن کے ہمدم کبھی
دل کی بے تابیاں وہ بڑھاتے گئے
داغ دل پر لیے جن کی خاطر وہی
عمر بھر ہم سے دامن بچاتے گئے
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 9:12 صبح
حسنِ مطلع کے بعد قاری کی دلچسپی باقی ہی باقی نہیں رہتی کہ وہ پروا کرے کہ اس کے بعد والے مطلعے کو کیا کہتے ہیں
کیا یہ ٹھیک نہیں ہوتا ؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2021 9:15 صبح
ٹھیک ہوتا ہے ۔۔۔ مطلعوں کی تعداد پر کوئی قدغن نہیں ۔۔۔ پوری کی پوری غزل بھی مطلعے کی ہیئت پر ہوسکتی ہے ۔۔۔ لیکن حسنِ مطلع سے آگے کے مطلع نما اشعار کے لیے میرا نہیں خیال الگ سے کوئی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 9:23 صبح
اچھا بہت بہتر ۔۔۔۔
مومن فرحین — جنوری 21، 2021 9:28 صبح
انکل آپ کہاں ہیں ۔۔۔ آپ نے تو میری غزل دیکھی بھی نہیں ۔۔۔

مومن التمش — جنوری 21، 2021 9:46 صبح
دل میں ارماں ہزاروں جگاتے گئے
وہ ہمیں دیکھ کر مسکراتے گئے
جو نگاہوں سے دل میں سماتے گئے
وہ ہمیں سے نگاہیں چراتے گئے
ذہن و دل پر کچھ ایسے وہ چھاتے گئے
ہوش گویا ہمارے اڑاتے گئے
جس کی الفت نے رسوا کیا تھا ہمیں
اس کی یادوں سے پھر بھی نبھاتے گئے
وہ حقیقت میں ہم کو میسر نہ تھا
خواب آنکھوں میں جس کے سجاتے گئے
ہو کے برہم کبھی ، بن کے ہمدم کبھی
دل کی بے تابیاں وہ بڑھاتے گئے
داغ دل پر لیے جن کی خاطر وہی
عمر بھر ہم سے دامن بچاتے گئے