اصلاح درکار ہے

مزمل حسین — اپریل 13، 2016 3:48 شام
واجبی سی شکل پر خوشنما نقاب تھی
قیمتی سبو میں بے لطف سی شراب تھی
پانی جس کو سمجھے تھے تشنگان دور سے
جب گئے قریں، کُھلا، وہ چمک سراب تھی
اولین عشق کی مختصر ہے داستاں
طفلِ بے ضرر تھا میں اور وہ پر شباب تھی
وہ جمالِ کم نما اب نہ جانے کیسا ہو
کم سنی میں جس کی چھب رشکِ ماہتاب تھی
ایسی بے مَثَل نہ تھی وہ وفا کے باب میں
چائے اُس کے ہاتھ کی جتنی لا جواب تھی
آندھیاں انا کی کچھ ایسی کاٹ دار تھیں
آخرش بچھڑ گئی وہ جو ہم رکاب تھی
محمد ریحان قریشی — اپریل 13، 2016 4:14 شام
عجیب بحر ہے۔
محمد امین — اپریل 13، 2016 8:05 شام

فاعلن مفاعلن فاعلن مفاعلن
ادب دوست — اپریل 13، 2016 8:42 شام
اولین عشق کی مختصر ہے داستاں
طفلِ بے ضرر تھا میں اور وہ پر شباب تھی
الف عین — اپریل 14، 2016 5:21 صبح
فاعلن مفاعلن دو بار۔ یہ بحر ہے۔ لیکن بحر دو ٹکڑوں ہونے کی وجہ سے یہ مستحسن نہیں کہ اس کے الفاظ یا جملہ غلط جگہ ٹوٹے۔
جیسے
قیمتی سبو میں بے ۔۔۔۔ لطف سی شراب تھی
بہتر ہو اس کو یوں کہا جائے۔
قیمتی پیالہ تھا، بے مزا شراب تھی
پانی جس کو سمجھے تھے تشنگان دور سے
تشنگاں بہتر اور رواں لگتا ہے، تشتگان کے ساتھ کچھ اضافت ہو تو بہتر ہو۔ اس کے علاوہ اس فارسی انداز بیان میں پانی (وہ بھی پانِ) اچھا نہیں لگ رہا۔ مصرع بدلو۔
اس کے علاوہ
طفلِ بے ضرر تھا میں اور وہ پر شباب تھی
بے ضرر؟ کچھ اور صفت بیان کی جائے
باقی اشعار درست ہیں۔
مزمل حسین — اپریل 14، 2016 2:46 شام
فاعلن مفاعلن دو بار۔ یہ بحر ہے۔ لیکن بحر دو ٹکڑوں ہونے کی وجہ سے یہ مستحسن نہیں کہ اس کے الفاظ یا جملہ غلط جگہ ٹوٹے۔
جیسے
قیمتی سبو میں بے ۔۔۔۔ لطف سی شراب تھی
بہتر ہو اس کو یوں کہا جائے۔
قیمتی پیالہ تھا، بے مزا شراب تھی
پانی جس کو سمجھے تھے تشنگان دور سے
تشنگاں بہتر اور رواں لگتا ہے، تشتگان کے ساتھ کچھ اضافت ہو تو بہتر ہو۔ اس کے علاوہ اس فارسی انداز بیان میں پانی (وہ بھی پانِ) اچھا نہیں لگ رہا۔ مصرع بدلو۔
اس کے علاوہ
طفلِ بے ضرر تھا میں اور وہ پر شباب تھی
بے ضرر؟ کچھ اور صفت بیان کی جائے
باقی اشعار درست ہیں۔

بہت بہت متشکر ہوں استادِ محترم!
آپ کی ہدایت کی روشنی میں درج ذیل تبدیلیاں کی ہیں:
واجبی سی شکل پر خوشنما نقاب تھی
اک نفیس جام میں بے مزا شراب تھی
(اگر آپ کا تجویز کردہ مصرع بہتر ہے تو اسی کو لوں گا)
تشنہ کام دور سے آب سمجھے تھے جسے
جب گئے قریں، کُھلا، وہ چمک سراب تھی
اولین عشق کی مختصر ہے داستاں
طفلِ ناتواں تھا میں اور وہ پر شباب تھی
آپ کیا فرماتے ہیں۔ ۔ ۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 14، 2016 3:33 شام
بہت بہت متشکر ہوں استادِ محترم!
آپ کی ہدایت کی روشنی میں درج ذیل تبدیلیاں کی ہیں:
1۔ اک نفیس جام میں بے مزا شراب تھی
(اگر آپ کا تجویز کردہ مصرع بہتر ہے تو اسی کو لوں گا)
2۔ تشنہ کام دور سے آب سمجھے تھے جسے
3۔ طفلِ ناتواں تھا میں
آپ کیا فرماتے ہیں۔ ۔ ۔

ایک گزارش میری طرف سے، کہ "ترمیم شدہ" شعر کا ایک مصرع لکھ دیا، یا، آدھا لکھ دیا؛ ایسے نہ کیا کریں۔
شعر کا تازہ ترین متن پورا لکھا کریں (یعنی دونوں مصرعے مکمل)۔
مزمل حسین — اپریل 14، 2016 3:40 شام
ایک گزارش میری طرف سے، کہ "ترمیم شدہ" شعر کا ایک مصرع لکھ دیا، یا، آدھا لکھ دیا؛ ایسے نہ کیا کریں۔
شعر کا تازہ ترین متن پورا لکھا کریں (یعنی دونوں مصرعے مکمل)۔

حکم کی تعمیل ہو گئی استادِ محترم!
تدوین کر دی ہے۔
الف عین — اپریل 14، 2016 4:38 شام
باقی تو ٹحیک ہیں، لیکن یہاں عیب تنافر در آیا ہے۔
اک نفیس جام میں بے مزا شراب تھی
جام ۔ میں کی وجہ سے۔
مجھے تو اپنا مصرع ہی بدرجہا بہتر لگ رہا ہے!!
مزمل حسین — اپریل 14، 2016 5:08 شام
باقی تو ٹحیک ہیں، لیکن یہاں عیب تنافر در آیا ہے۔
اک نفیس جام میں بے مزا شراب تھی
جام ۔ میں کی وجہ سے۔
مجھے تو اپنا مصرع ہی بدرجہا بہتر لگ رہا ہے!!

بہت بہتر استادِ محترم، آپ کی اجازت سے اسی کو اختیار کر لیتا ہوں۔
مزمل حسین — اپریل 14، 2016 6:01 شام
یار جتنے بھی ملے، حرف نا شناس تھے
ورنہ میری زندگی اک کھلی کتاب تھی
الف عین صاحب، کیا یہ درست ہے؟
الف عین — اپریل 15، 2016 5:19 صبح
درست ہے بلکہ اچھا ہے شعر÷
مزمل حسین — اپریل 15، 2016 9:04 صبح
درست ہے بلکہ اچھا ہے شعر÷

بہت آداب استادِ محترم!
مزمل حسین — اپریل 15، 2016 5:03 شام
الف عین صاحب، کیا مندرجہ ذیل شعر کی تراکیب درست ہیں:
اوجِ قیامت خیز میں دونوں برابر ہیں مگر
تیرا سراپا خود ہے جنت، سروِ گلشن جزوِ ایں
الف عین — اپریل 15، 2016 5:59 شام
جزوَ ایں سے مراد؟
مزمل حسین — اپریل 15، 2016 6:13 شام
میرے اپنے تئیں:
a part of it
(garden's)
مزمل حسین — اپریل 15، 2016 7:47 شام
دیکھنے میں لگتی تھی جو کلی بے باک سی​
چُھو لیا اُسے تو وہ شرْمْ سے گلاب تھی
سر کیا یہ درست ہے؟​
ابن رضا — اپریل 15، 2016 7:59 شام
دیکھنے میں لگتی تھی جو کلی بے باک سی

چُھو لیا اُسے تو وہ شرْمْ سے گلاب تھی​
سر کیا یہ درست ہے؟
نہیں
مزمل حسین — اپریل 15، 2016 8:03 شام

ابن رضا صاحب، برائے مہربانی نقص کی نشاندہی بھی فرما دیں۔
ابن رضا — اپریل 15، 2016 8:05 شام
ابن رضا صاحب، برائے مہربانی نقص کی نشاندہی بھی فرما دیں۔
دوسرا مصرع مبہم ہے۔ اس کا ابلاغ بہتر کریں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.89321/