اصلاح درکار ہے

مزمل حسین — اپریل 15، 2016 8:15 شام
دیکھنے میں لگتی تھی جو کلی بے باک سی
جب اُسے چھوا تو وہ شرم سے گلاب تھی
کیا یہ ٹھیک ہے؟
اور بے باک کی جو ے گرائی ہے، وہ جائز ہے؟
ابن رضا — اپریل 15، 2016 8:33 شام
دیکھنے میں لگتی تھی جو کلی بے باک سی
جب اُسے چھوا تو وہ شرم سے گلاب تھی
کیا یہ ٹھیک ہے؟
اور بے باک کی جو ے گرائی ہے، وہ جائز ہے؟
سر الف عین کے مطابق جب ایسی تراکیب جن میں بے بطور سابقہ استعمال ہو ان کے بے کو سبب خفیف ہی باندھنا چاہیے۔ دوسرا مصرع کافی تبدیلی چاہتا ہے۔
مزمل حسین — اپریل 16، 2016 11:56 صبح
دوسرا مصرع کافی تبدیلی چاہتا ہے۔

ابن رضا صاحب، کس قسم کی تبدیلی درکار ہے؟
مزمل حسین — اپریل 16، 2016 12:00 شام
الف عین صاحب
اوجِ قیامت خیز میں دونوں برابر ہیں مگر
تیرا سراپا خود ہے جنت، سروِ گلشن جزوِ ایں
اس کی تراکیب کی صحت پر روشنی ڈال دیں۔
جزوِ ایں سے میری مراد ''جنت کا ایک جزو'' ہے۔
الف عین — اپریل 17، 2016 5:04 صبح
ویسے تو صحت مند ہیں تراکیب، بس ذرا نا قابل فہم ہیں۔ اوج قیامت خیز بھی اور ‘جزوِ ایں‘ بھی کہ مکمل ترکیب سروِ گلشنِ جزوِ ایں ہونی چاہئے تھی۔
اور مصرع اس لئے رواں نہیں کہ یہ زمین دو لخت ہے، اور جنت کے دو ٹکڑے ہو جاتے ہیں!!
مزمل حسین — اپریل 17، 2016 5:19 صبح
ویسے تو صحت مند ہیں تراکیب، بس ذرا نا قابل فہم ہیں۔ اوج قیامت خیز بھی اور ‘جزوِ ایں‘ بھی کہ مکمل ترکیب سروِ گلشنِ جزوِ ایں ہونی چاہئے تھی۔
اور مصرع اس لئے رواں نہیں کہ یہ زمین دو لخت ہے، اور جنت کے دو ٹکڑے ہو جاتے ہیں!!

سر مکمل ترکیب ''سروِ گلشن جزوِ ایں'' ہی ہے۔
کیا جنت دو لخت ہونے کے باوجود شعر کو ایسے ہی چلایا جا سکتا ہے؟
الف عین — اپریل 17، 2016 7:39 صبح
بحر میں صرف گلشن آتا ہے ’گلشنِ‘ نہیں
مزمل حسین — اپریل 17، 2016 7:56 صبح
سر، یہاں گلشن کا ہی محل ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.89321/page-2