اصلاح و مشورہ

zulfi — دسمبر 15، 2014 2:09 شام
http://www.urduweb.org/mehfil/members/گل-زیب-انجم.8257/
گل زیب انجم۔۔۔صاحب ذرا بحر بھی دیکھا کریں یہ شعر کس بحر میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔؟

ساری حسرتیں، ساری امیدیں ڈوب گئی پانی میں
دیکھا اُن کو جب غیروں کے قافلے میں۔
نور وجدان — دسمبر 15، 2014 2:25 شام
ہم رہ گئے اکیلے بے درد قافلے میں
کیا مسکراتی میں؟ سب کھویا ہے راستے میں
آپ نے شعر اچھا بنایا مگر مطلب بدل ڈالا۔ کیا میرا شعر مناسب نہین؟
zulfi — دسمبر 15، 2014 2:40 شام
میرے خیال میں شعر نحو کی نسبت درست نہیں ہے۔۔
نور وجدان — دسمبر 15، 2014 2:42 شام
منزل سے فاصلے تھے، اور درد قافلے میں
کیا آپ اسی مصرعے میں ربط ٹھیک کرکے اصلاح کرسکتے ہیں؟
zulfi — دسمبر 15، 2014 3:04 شام
منزل تک فاصلے تھے، بے درد قافلے میں
کیا مسکراتی میں؟ سب کھویا ہے راستے میں
(کیا مسکراتی اب؟ سب کھویا ہے راستے میں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور درد قافلے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا کیا مطلب ہے۔؟
عمر سیف — دسمبر 15، 2014 4:58 شام
کمال ہے آپ کو نظر آرہا ہے سب :laugh1::laugh1::laugh1:
جی ۔۔ بہت بہتر نظر آ رہا ہے اب ۔۔
نور وجدان — دسمبر 16، 2014 1:09 صبح
منزل تک فاصلے تھے، بے درد قافلے میں
کیا مسکراتی میں؟ سب کھویا ہے راستے میں
(کیا مسکراتی اب؟ سب کھویا ہے راستے میں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور درد قافلے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا کیا مطلب ہے۔؟
شکریہ بہت بہت
تھیں فرقتیں مقدر ، رنجش بنی قرابت
ہر موڑ پہ ہی یادیں آئیں مقابلے میں
اس شعر پر بی نظر کریں
نور وجدان — دسمبر 16، 2014 1:10 صبح
جی ۔۔ بہت بہتر نظر آ رہا ہے اب ۔۔

اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالیں :ُ:disdain:
الف عین — دسمبر 16، 2014 3:27 صبح
منزل سے فاصلے تھے، اور درد قافلے میں
کیا مسکراتی میں؟ سب کھویا ہے راستے میں
÷÷پہلا مصرع معنی خیز نہیں، کیا مجھ پر واضح نہیں ہوا، کہ اس میں کہنا کیا چاہتی ہو؟
دوسرا مصرع بہتر ہے، لیکن رواں نہیں
کیا مسکراتی اب میں، سب کھویا راستے میں
یا
کیا مسکراؤں اب میں۔
بہتر ہو گا۔
تھیں فرقتیں مقدر ، رنجش بنی قرابت
ہر موڑ پہ ہی یادیں آئیں مقابلے میں
پہلے مصرع کے نصف میں صیغہ جمع اور دوسرے نصف میں واحد کا استعمال درست نہیں۔
قسمت میں تھی جدائی
کہا جا سکتا ہے
عمر سیف — دسمبر 16، 2014 8:39 صبح
اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالیں :ُ:disdain:
آمین آمین ۔۔
zulfi — دسمبر 16، 2014 11:30 صبح
قسمت میں تھی جدائی ،رسوا ہوئی محبت
ہر موڑ پہ ہی یادیں آئیں مقابلے میں
الف عین — دسمبر 17، 2014 3:00 صبح
مجھے نہ جانے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دوسری غزل بھی میں دیکھ چکا ہوں!!
پہلی غزل میں اشعار کا اضاہ کیا ہے، اس میں ’ختم‘ کے تلظ کے علاوہ پورا مصرع ساقط الوزن ہے۔ اسی لئے عاطف نے اصلاح کی تھی جس کا علم نہیں ہوا کہ تم نے قبول کی ہے یا نہیں۔
یہ دوسری غزل بلکہ دو اشعار
منزل سے فاصلے تھے، اور درد قافلے میں
کیا مسکراتی میں؟ سب کھویا ہے راستے میں
÷÷پہلا مصرع تو ابلاغ نہیں دے رہا۔ دوسرے مصرع میں روانی کی کمی ہے۔ یہ اکثر کہتا ہوں کہ جس زمین میں شعر کو دو حصے کر کے پڑھا جائے، اس میں بات ہر حصے میں ممل ہو تو بات بنتی ہے۔ یہاں بھی ایک مفعول فاعلاتن میں بات مکمل ہو جائے تو بہتر
اب کیسے مسکراؤں، سب کھویا راستے میں
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے۔
تھیں فرقتیں مقدر ، رنجش بنی قرابت
ہر موڑ پہ ہی یادیں آئیں مقابلے میں
پہلے مصرع کے نصف میں جمع ہے اور بعد میں واحد کا استعمال؟ اس کے علاوہ دونوں میں ایک ہی صیغہ ہو تو بہتر۔ ایک صورت تو یوں ہو سکتی ہے
فرقت ہی تھی مقدر۔۔۔۔ لیکن باقی نصف میری سمجھ میں نہیں آیا۔ قرابت بمعنی رشتے داری، قربت معنی نزدیکی۔ کیا درست ہے؟ اور رنجش سے تعلق؟؟
اور پھر دوسرے مصرع کا پہلے سے تعلق؟
الف عین — دسمبر 17، 2014 3:02 صبح
اوہو، اوپر ہی اصلاح دی تھی کل ہی!! لیکن اس وقت ’کیسے مسکراؤں‘ زیادہ بہتر ہے۔
کل شاید اسے قربت ہی سمجھا تھا، اس لئے کمنٹ نہیں کیا تھا۔
نور وجدان — دسمبر 17، 2014 11:42 صبح
مجھے نہ جانے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دوسری غزل بھی میں دیکھ چکا ہوں!!
پہلی غزل میں اشعار کا اضاہ کیا ہے، اس میں ’ختم‘ کے تلظ کے علاوہ پورا مصرع ساقط الوزن ہے۔ اسی لئے عاطف نے اصلاح کی تھی جس کا علم نہیں ہوا کہ تم نے قبول کی ہے یا نہیں۔
یہ دوسری غزل بلکہ دو اشعار
منزل سے فاصلے تھے، اور درد قافلے میں
کیا مسکراتی میں؟ سب کھویا ہے راستے میں
÷÷پہلا مصرع تو ابلاغ نہیں دے رہا۔ دوسرے مصرع میں روانی کی کمی ہے۔ یہ اکثر کہتا ہوں کہ جس زمین میں شعر کو دو حصے کر کے پڑھا جائے، اس میں بات ہر حصے میں ممل ہو تو بات بنتی ہے۔ یہاں بھی ایک مفعول فاعلاتن میں بات مکمل ہو جائے تو بہتر
اب کیسے مسکراؤں، سب کھویا راستے میں
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے۔
تھیں فرقتیں مقدر ، رنجش بنی قرابت
ہر موڑ پہ ہی یادیں آئیں مقابلے میں
پہلے مصرع کے نصف میں جمع ہے اور بعد میں واحد کا استعمال؟ اس کے علاوہ دونوں میں ایک ہی صیغہ ہو تو بہتر۔ ایک صورت تو یوں ہو سکتی ہے
فرقت ہی تھی مقدر۔۔۔۔ لیکن باقی نصف میری سمجھ میں نہیں آیا۔ قرابت بمعنی رشتے داری، قربت معنی نزدیکی۔ کیا درست ہے؟ اور رنجش سے تعلق؟؟
اور پھر دوسرے مصرع کا پہلے سے تعلق؟

محترم استادِ گرامی ! میں نے وہ 'ختم والی اصلاح قبول کی ہے۔میں سیکھ رہی ہوں ۔۔۔ میں معلومات بھی دیا کروں گی
مجھ پر عنایت کہ آپ نے مجھے سمجھایا ۔۔۔۔ میں ان اشعار کو دوبارہ بناؤں گی ۔۔اس لیے اور شعر نہیں لکھے ۔۔۔۔۔۔
رنجش۔۔۔بمعنی عداوت اور قرابت ۔۔سے مراد دونوں ۔۔رشتہ داری بھی نزدیکی میں ۔۔۔مجھے موزوں تو خود بھی نہیں لگ رہا تھا مگر سمجھ نہیں آیا قرابت اور رنجش کو کس طرح جوڑوں ۔۔۔۔
اور++ جو پہلا مصرعہ ہے اس میں یہ ہے کہ منزل کے لیے بہت تگ و دو کی۔۔۔منزل سے فاصلے رہے اور زندگی' سفر'' سے بھرپور رہی یا یہ کہ میں مسافر ہی رہی ۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے سیکھنا ہے شعر کا ڈھنگ
اور+++ فرقت تھی مقدر رنجش بنی قرابت+++
اس طرح اپ کہ رہے ہیں میں ن؁ جو سوچا اس کو واضح کیا ۔۔راہنمائی آپ کریں ۔۔۔۔ایک اور بات پوچھنی ہے کیا اصلاح شدہ شاعری پابند بحور میں لکھ سکتے؟
پہلے والی غزل کی آپ سے پہلے اصلاح لی تھی ۔پھر اسی میں اور برائے اصلاح دے دی
منزل سے فاصلے تھے، کانٹے تھے راستے میں
اب کیسے مسکراؤں، سب کھویا مسکرانے میں
فرقت ہی تھی مقدر ، تھا گرد سے اٹا دل
ہر موڑ پہ ہی یادیں آئیں مقابلے میں
مسکرانے کا وزن کیسے ٹھیک کروں میں ؟
گل زیب انجم — دسمبر 17، 2014 1:28 شام
کمال ہے آپ کو نظر آرہا ہے سب :laugh1::laugh1::laugh1:
ہا،ہا آپ کو کیا شک گزرا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور وجدان — دسمبر 17، 2014 2:38 شام
ہا،ہا آپ کو کیا شک گزرا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے شک نہیں ہوا
گل زیب انجم — دسمبر 18، 2014 5:13 صبح
آپ نے لکھا تھا کہ، آپ کو سب نظر آتا ہے۔
اس لیے میں نے لکھا تھا کہ کہیں آپ نے موصوف کو مرحوم بصارت تو نہیں سمجھ لیا۔
عمر سیف — دسمبر 18، 2014 6:49 صبح
آپ نے لکھا تھا کہ، آپ کو سب نظر آتا ہے۔
اس لیے میں نے لکھا تھا کہ کہیں آپ نے موصوف کو مرحوم بصارت تو نہیں سمجھ لیا۔
آپ بہت مزاقئے ہو ۔۔
آپ یہ دیکھیں انہوں نے ہمیں مرحوم نہیں سمجھا ۔۔
گل زیب انجم — دسمبر 18، 2014 8:19 صبح
UOTE="عمر سیف, post: 1638248, member: 669"]آپ بہت مزاقئے ہو ۔۔
آپ یہ دیکھیں انہوں نے ہمیں مرحوم نہیں سمجھا ۔۔[/QUOTE]
عمر بھائی اللہ آپ کو عمر خضر عطا فرمائیں ۔میں نے آپ کو مرحوم نہیں بلکہ نور جی کے جواب میں مرحوم بصارت لکھا ہے۔
الف عین — دسمبر 18، 2014 9:30 صبح
محترم استادِ گرامی ! میں نے وہ 'ختم والی اصلاح قبول کی ہے۔میں سیکھ رہی ہوں ۔۔۔ میں معلومات بھی دیا کروں گی
مجھ پر عنایت کہ آپ نے مجھے سمجھایا ۔۔۔۔ میں ان اشعار کو دوبارہ بناؤں گی ۔۔اس لیے اور شعر نہیں لکھے ۔۔۔۔۔۔
رنجش۔۔۔بمعنی عداوت اور قرابت ۔۔سے مراد دونوں ۔۔رشتہ داری بھی نزدیکی میں ۔۔۔مجھے موزوں تو خود بھی نہیں لگ رہا تھا مگر سمجھ نہیں آیا قرابت اور رنجش کو کس طرح جوڑوں ۔۔۔۔
اور++ جو پہلا مصرعہ ہے اس میں یہ ہے کہ منزل کے لیے بہت تگ و دو کی۔۔۔منزل سے فاصلے رہے اور زندگی' سفر'' سے بھرپور رہی یا یہ کہ میں مسافر ہی رہی ۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے سیکھنا ہے شعر کا ڈھنگ
اور+++ فرقت تھی مقدر رنجش بنی قرابت+++
اس طرح اپ کہ رہے ہیں میں ن؁ جو سوچا اس کو واضح کیا ۔۔راہنمائی آپ کریں ۔۔۔۔ایک اور بات پوچھنی ہے کیا اصلاح شدہ شاعری پابند بحور میں لکھ سکتے؟
پہلے والی غزل کی آپ سے پہلے اصلاح لی تھی ۔پھر اسی میں اور برائے اصلاح دے دی
منزل سے فاصلے تھے، کانٹے تھے راستے میں
اب کیسے مسکراؤں، سب کھویا مسکرانے میں
فرقت ہی تھی مقدر ، تھا گرد سے اٹا دل
ہر موڑ پہ ہی یادیں آئیں مقابلے میں
مسکرانے کا وزن کیسے ٹھیک کروں میں ؟
مسکرانے لفظ تو یہاں آ ہی نہیں سکتا!!!
قربت اور قرابت دو الگ الگ لفظ ہیں۔ قربت مطلب نزدیکی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D9%85%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%81.77492/page-2