عمر بھائی اللہ آپ کو عمر خضر عطا فرمائیں ۔میں نے آپ کو مرحوم نہیں بلکہ نور جی کے جواب میں مرحوم بصارت لکھا ہے۔[/QUOTE]
جناب میں بھی مزاق ہی کر رہا تھا ۔۔
عمر بھائی اللہ آپ کو عمر خضر عطا فرمائیں ۔میں نے آپ کو مرحوم نہیں بلکہ نور جی کے جواب میں مرحوم بصارت لکھا ہے۔[/QUOTE]
یہاں دوسرے مصرے کے اخیر میں "مسکرانے" کا محل نہیں، نہ تو وزن کے اعتبار سے اور نہ ہی معنویت کے اعتبار سے۔ کیونکہ پہلے مصرع میں منزل سے دوری اور راہ کی تکلیفوں کا ذکر ہے جبکہ دوسرے میں مسکرانا نہ مسکرانے کا عذر بن رہا ہے۔ ایک صورت شاید کچھ یوں بنے:
خلیل بھائی کے گھونسے مکے اور لاتیں مفید ہوں گے۔
ایک عرض کرنا چاہتا ہوں کہ منزل کے آگے لفظ تھا آئے گا یا تھی آئے گی۔
شکرا"
آداب عرض ہے حضرت!
متفق
شکر ہے آپ کی نگاہ ناز نے پسنددیدہ قرار دیا.
پہلا مصرع استمراری ہے جبکہ دوسرے مصرعے میں اتمام دیکھنے کو مل رہا ہے، ہمارے خیال میں یوں تو بات بنتی نظر نہیں آ رہی۔
ہم نے اس طرح زنجیر کا حوالہ عموماً عدل کی گہار کے لیے کنایتاً استعمال ہوتے ہوئے دیکھا ہے، یہاں پہلے مصرع میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آ رہی جس کا اس معاملے سے دور کا بھی کوئی ناتہ ہو۔ کیا ہم سے سمجھنے میں کوئی غلطی ہو رہی ہے؟
یہاں "بھا اور گئے" کا کیا مطلب ہوا؟ اور زخموں کا شوخی تحریر سے کیا تعلق؟
دوسرا مصرع شاید وزن میں نہیں آتا۔
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D9%85%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%81.77492/page-3