اصلاح و مشورہ

نور وجدان — مئی 2، 2015 3:36 شام
سب سے پہلے تو شکریہ مجھے سمجھانے اور بتانے کا ..۔ محترم الف عین
آخری شعر میں ہر دفعہ ٹائپو مسٹیک ہوجاتی ..نہ ماننے کی وجہ بنتی ہی نہیں۔
دوسری بات یہ کہ میں نے سابقہ پوسٹ میں یوں لکھا تھا
زخم تھے جو سب پرانے بھا گئے
آپ نے کہا اس میں سپیس ہونا چاہیے
کیا یہ اوپر والا مصرع ٹھیک ہے؟
ایک اور بات پوچھنا تھی
خون جاری ہو زخم سے کب تلک
اس میں مسقبل کے باری میں بات کی جارہی ..۔۔ کیا مسقبل اور فعل مکمل کو جوڑا نہیں جا سکتا ..۔۔ جملے کو ہم فعل جاری میں تب لے سکتے ہیں جب میں نے "کب تلک " نہ لکھا ہو ..آپ کیا کہتے ہیں ..اس طرح مجھے بھی کچھ کلیریٹی مل جائے گی
loneliness4ever — مئی 2، 2015 3:42 شام
خون کب تک زخم سے جاری رہے
لوگ مرہم رکھ چکے شمشیر سے

بہن اس فقیر بے علم کی اتنی سمجھ نہیں مگر آپ کی غزل پڑھتے ہوئے یہ شعر
کچھ ایسے پڑھ گیا ہوں میں:
زخم رہتے ہیں ہرے دل کے یہاں
لوگ مرہم رکھتے ہیں شمشیر سے
الف عین — مئی 4، 2015 7:20 صبح
بھا اور گئے اگر دو الفاظ ہیں تو اس کا مطلب پسند آ گئے
اور اگر ایک ہی لفظ ’بھاگئے‘ ہے، تو بھاگنے کا فعل امر ہے تعظیم کے ساتھ۔ کیونکہ اردو میں الفاظ کے درمیان سپیس نظر نہیں آتی تو اس لئے یہ دو الفاظ بھی پڑھے جا سکتے ہیں، اور ایک بھی۔ میرا مشورہ یہی تھا کہ ایسا لفظ استعمال کیا جائے کہ کسی کنفیوژن کا احتمال نہ رہے۔
خون جاری ہو، صیغہ امر بھی ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے لئے بہتر استعمال ہو گا ۔’خون جاری رہے‘

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D9%85%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%81.77492/page-4