اصلاح کی درخواست

امان زرگر — اپریل 25، 2017 6:01 صبح
بالخصوص ردیف کے حوالے سے مشورہ دیں. درست ہے یا مزید بہتر ردیف کیا ہو سکتی ہے؟
روا دل پر مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو
لبوں کو جام سے ہٹنے نہ دیں ہرگز
مئے تازہ پئیں شیخِ حرم دیکھو
ملی منزل بھٹکتے دل کے جذبوں کو
جبیں نے پا لیا نقشِ قدم دیکھو
مری سب حسرتیں خوں ہو گئیں دل میں
محبت نے روا رکھا ستم دیکھو
نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپاتے ہیں جنوں پرور جو غم دیکھو
بنا لیں یادگار اک پیار کی ہم بھی
سدھاریں جا کے پھر کوئے عدم دیکھو
(بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سدھارو جا کے پھر کوئے عدم دیکھو)
گنہ گاری بھلا کیا؟‎ پارسائی کیا؟
کبھی ٹوٹے نہ ہستی کا بھرم دیکھو!​
محمد عظیم الدین — اپریل 25، 2017 6:04 صبح
بہت خوب امان اللہ بھائی، اصلاح سے قبل ہی داد قبول کیجیے، بعد میں معلوم نہیں کیا ہوتا ہے :)
محمد تابش صدیقی — اپریل 25، 2017 6:32 صبح
بہت خوب امان بھائی۔
باریکیاں تو اساتذہ دیکھیں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ آپ مشکل تراکیب سے باہر نکلے ہیں۔ :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 25، 2017 6:37 صبح
ماشاءاللہ امان بھائی بہت خوب۔
امان زرگر — اپریل 25، 2017 6:58 صبح
بہت خوب امان اللہ بھائی، اصلاح سے قبل ہی داد قبول کیجیے، بعد میں معلوم نہیں کیا ہوتا ہے :)
بہت شکریہ
امان زرگر — اپریل 25، 2017 6:59 صبح
بہت خوب امان بھائی۔
باریکیاں تو اساتذہ دیکھیں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ آپ مشکل تراکیب سے باہر نکلے ہیں۔ :)
ذرہ نوازی ہے آپ کی، شکر گزار ہوں
امان زرگر — اپریل 25، 2017 7:01 صبح
ماشاءاللہ امان بھائی بہت خوب۔
سلامت رہیں
امان زرگر — اپریل 25، 2017 8:16 صبح
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
بھائی عاطف ملک
بھائی عظیم
امان زرگر — اپریل 25، 2017 3:56 شام
وہ عاطف رونق محفل آج چپ ہے
اسے کیسی پڑی مشکل آج چپ ہے
از راہ تفنن
بھائی عاطف ملک
امان زرگر — اپریل 26، 2017 6:39 صبح
کہاں آنکھوں سے ہو اظہار حال دل
جنوں پرور چھپا لیتے ہیں غم دیکھو
عاطف ملک — اپریل 26، 2017 10:53 صبح
امان بھائی،
ماشااللہ غزل اچھی ہے۔
کہاں آپ مجھے اساتذہ کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں؟
میں تو خود ابھی سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں۔
خیر،اپنی رائے پیش کر دیتا ہوں۔
روا دل پر مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو
روا کا استعمال مجھے عجیب لگ رہا ہے۔
روا رکھو پڑھا ہے۔
ممکن ہے میری کم علمی اور کج فہمی ہو۔
نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپاتے ہیں جنوں پرور جو غم دیکھو
"جو" کی تکرار سے مفہوم مبہم ہو گیا ہے میرے خیال میں
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سدھارو جا کے پھر کوئے عدم دیکھو
یہاں ردیف "دیکھو" اضافی لگ رہی۔
کہاں آنکھوں سے ہو اظہار حال دل
جنوں پرور چھپا لیتے ہیں غم دیکھو
یہ اچھا لگا۔
باقی اشعار مجھے درست لگ رہے ہیں۔
اور یہ میری ذاتی رائے ہے۔آپ اس کو بلاجھجک رد کر دیں۔
اور اساتذہ بہتر بتائیں گے۔ان کی رائے کا انتظار کر لیجیے۔
ایک بار پھر ایک اچھی غزل پر داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیں۔
امان زرگر — اپریل 26، 2017 11:03 صبح
امان بھائی،
ماشااللہ غزل اچھی ہے۔
کہاں آپ مجھے اساتذہ کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں؟
میں تو خود ابھی سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں۔
خیر،اپنی رائے پیش کر دیتا ہوں۔
روا کا استعمال مجھے عجیب لگ رہا ہے۔
روا رکھو پڑھا ہے۔
ممکن ہے میری کم علمی و کج فہمی ہو۔
"جو" کی تکرار سے مفہوم مبہم ہو گیا ہے میرے خیال میں
یہاں ردیف "دیکھو" اضافی لگ رہی۔
یہ اچھا لگا۔
باقی اشعار مجھے درست لگ رہے ہیں۔
اور یہ میری ذاتی رائے ہے۔آپ اس کو بلاجھجک رد کر دیں۔
اور اساتذہ بہتر بتائیں گے۔ان کی رائے کا انتظار کر لیجیے۔
ایک بار پھر ایک اچھی غزل پر داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیں۔
شکر گزار ہوں بھائی جی. آپ نے رائے اور مشوروں سے سے نوازا
الف عین — اپریل 26، 2017 5:38 شام
@عاطگ ملک کے ارتراضات درست ہیں۔ ان کے علاوہ
لبوں کو جام سے ہٹنے نہ دیں ہرگز
مئے تازہ پئیں شیخِ حرم دیکھو
’دیں ہر گز‘ اگر شیخ کے لیے استعمال کیا ہے، تو بہتر ہو کہ ’ہٹنے نہیں دیتے‘ استعمال کیا جائے۔ اگر، اگرچہ پھر میں مطلب نہیں سمجھ سکا،
’دیں‘ سے مراد ’دیجئے‘ ہے تو یہ خلاف صیغہ نہیں ہو گیا؟ یہاں ’دو ہر گز‘ ہونا تھا۔
ویسے ’تازہ‘ بھی بھرتی کا ہی ہے!!
امان زرگر — اپریل 26، 2017 5:50 شام
@عاطگ ملک کے ارتراضات درست ہیں۔ ان کے علاوہ
لبوں کو جام سے ہٹنے نہ دیں ہرگز
مئے تازہ پئیں شیخِ حرم دیکھو
’دیں ہر گز‘ اگر شیخ کے لیے استعمال کیا ہے، تو بہتر ہو کہ ’ہٹنے نہیں دیتے‘ استعمال کیا جائے۔ اگر، اگرچہ پھر میں مطلب نہیں سمجھ سکا،
’دیں‘ سے مراد ’دیجئے‘ ہے تو یہ خلاف صیغہ نہیں ہو گیا؟ یہاں ’دو ہر گز‘ ہونا تھا۔
ویسے ’تازہ‘ بھی بھرتی کا ہی ہے!!
سر مئے تازہ نئے زمانے کی شراب کے معانی میں لیا ہے . ’ہٹنے نہیں دیتے‘ سے شعر خوبصورت ہو گیا، تازہ کا متبادل اور عاطف ملک کے اعتراضات کا 'حل' سوچتا ہوں سر.
امان زرگر — اپریل 26، 2017 6:10 شام
@عاطگ ملک کے ارتراضات درست ہیں۔ ان کے علاوہ
لبوں کو جام سے ہٹنے نہ دیں ہرگز
مئے تازہ پئیں شیخِ حرم دیکھو
’دیں ہر گز‘ اگر شیخ کے لیے استعمال کیا ہے، تو بہتر ہو کہ ’ہٹنے نہیں دیتے‘ استعمال کیا جائے۔ اگر، اگرچہ پھر میں مطلب نہیں سمجھ سکا،
’دیں‘ سے مراد ’دیجئے‘ ہے تو یہ خلاف صیغہ نہیں ہو گیا؟ یہاں ’دو ہر گز‘ ہونا تھا۔
ویسے ’تازہ‘ بھی بھرتی کا ہی ہے!!
لبوں کو جام سے ہٹنے نہیں دیتے
مئے گل گوں پئیں شیخِ حرم دیکھو
(مئے کوثر پیئں شیخِ حرم دیکھو)
(سراپا عیش اب شیخِ حرم دیکھو)
بھائی عاطف ملک
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سدھارو یہ جہاں، کوئے عدم دیکھو
نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپاتے ہیں جنوں پرور یوں غم دیکھو
چھپا/ چھپے دل میں مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو​
الف عین — اپریل 27، 2017 10:56 صبح
محاورے کے لحاظ سے ’سدھارو اس جہاں سے‘ ہونا چاہئے۔ محض سِدھارو یہ جہاں‘ نا مکمل ہے۔ یعنی اگر میں صحیح سمجھا ہوں تو۔ ورنہ ممکن ہے یہ پیش سے سُدھارو ہو!!!
مئے گل گوں درست اضافہ ہے
چھپاتے ہیں جنوں پرور یوں غم دیکھو
اگر یوں کہیں تو
چھپا لیتے ہیں ہم یوں اپنے غم۔۔۔۔۔ تو؟؟
امان زرگر — اپریل 28، 2017 6:52 صبح
ٓ
امان زرگر — اپریل 29، 2017 2:12 صبح
پیش سے سُدھارو ہو!!!
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی​
سُدھارو یہ جہاں، کوئے عدم دیکھو​
امان زرگر — اپریل 29، 2017 2:15 صبح
محاورے کے لحاظ سے ’سدھارو اس جہاں سے‘ ہونا چاہئے۔ محض سِدھارو یہ جہاں‘ نا مکمل ہے۔ یعنی اگر میں صحیح سمجھا ہوں تو۔
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی​
سِدھارو اس جہاں سے پھر عدم دیکھو​
سر الف عین
امان زرگر — اپریل 29، 2017 2:17 صبح
چھپاتے ہیں جنوں پرور یوں غم دیکھو
اگر یوں کہیں تو
چھپا لیتے ہیں ہم یوں اپنے غم۔۔۔۔۔ تو؟؟
نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپا لیتے ہیں ہم یوں اپنے غم دیکھو
چھپا/ چھپے دل میں مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو​
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA.96013/