عائشہ صدیقہ — اپریل 29، 2017 7:08 صبح
غزل پڑھ کے دہلی کی کلاسیکی روایت یاد آگئ،
الف عین — اپریل 29، 2017 7:30 صبح
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سُدھارو یہ جہاں، کوئے عدم دیکھو
سدھارو پیش سے مطلب اصلاح کرو؟؟؟؟
الف عین — اپریل 29، 2017 7:31 صبح
یہ بہتر ہے
نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپا لیتے ہیں ہم یوں اپنے غم دیکھو
امان زرگر — اپریل 29، 2017 5:23 شام
غزل پڑھ کے دہلی کی کلاسیکی روایت یاد آگئ،
جی اپنی سی کوشش کی ہے یاد دلانے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکر ہے کامیاب رہا! شکر گزار ہوں
امان زرگر — اپریل 30، 2017 2:37 صبح
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سِدھارو اس جہاں سے پھر عدم دیکھو
سر
الف عین
سر
الف عین
الف عین — اپریل 30، 2017 5:34 صبح
بس سِدھارو، زیر لگا کر، فائنل کر دو۔ تم نہ جانے کیوں پیش لگانے پر تلے ہو!
عائشہ صدیقہ — اپریل 30، 2017 6:29 صبح
جی اپنی سی کوشش کی ہے یاد دلانے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکر ہے کامیاب رہا! شکر گزار ہوں
کامیاب کوشش تھی
امان زرگر — اپریل 30، 2017 6:45 صبح
اصلاح کے بعد مکمل غزل پیشِ خدمت ہے۔
چھپا دل میں مرے رنج و الم دیکھو
مری یہ چشمِ ویراں آج نم دیکھو
لبوں کو جام سے ہٹنے نہیں دیتے
مئے گل گوں پئیں شیخِ حرم دیکھو
ملی منزل بھٹکتے دل کے جذبوں کو
جبیں نے پا لیا نقشِ قدم دیکھو
مری سب حسرتیں خوں ہو گئیں دل میں
محبت نے روا رکھا ستم دیکھو
نہ دیں الزامِ زخمِ دل جو نشتر کو
چھپا لیتے ہیں ہم یوں اپنے غم دیکھو
بنا لو یادگار اک پیار کی تم بھی
سِدھارو اس جہاں سے پھر عدم دیکھو
گنہ گاری بھلا کیا؟ پارسائی کیا؟
کبھی ٹوٹے نہ ہستی کا بھرم دیکھو!