اصلاح کے لئے ایک تازہ غزل

شیرازخان — ستمبر 3، 2013 7:48 شام
سڑکیں ڈھکی ہیں خوف سے بازار کیسے ہو گئے
اس شہر کے اب دیکھ کاروبار کیسے ہو گئے
نفرت کی یہ کیسی مرے گاؤں میں آئی ہے وباء
جتنے بھی دروازے تھے سب دیوار کیسے ہو گئے
فرقے بنا کر دین میں تعجب ہے کہ اسلام کو
جنہوں نے ٹھکرایا وہ ٹھیکیدار کیسے ہو گئے
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے ہوئے وہاں
عبرت کا قبریں تھیں نشاں دربار کیسے ہو گئے
پیچھے ہے کیا آئینے کے، آپ کو کچھ ہے خبر
بس آئینے کے آپ جانبدار کیسے ہو گئے
اکثر غزل ہی سوچتے ہم سوچتے شیرؔ از ہیں
شاعر سے یوں بن کر یہ ہم بیکار کیسے ہو گئے​
شیرازخان — ستمبر 3، 2013 7:59 شام
الف عین محمد اسامہ سَرسَریمہدی نقوی حجاز محمد یعقوب آسی مزمل شیخ بسمل رحیم ساگر بلوچ محمدعلم اللہ اصلاحی محمد اظہر نذیر @
نایاب — ستمبر 3، 2013 8:14 شام
بہت خوب محترم شیراز خان
عروض و وزن تو اساتذہ ہی دیکھیں گے ،
مجموعی تاثر تو بہت خوب ہے ۔
یہاں ٹائپو لگتا ہے کچھ
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے ہوئے وہاں
عبرت کا قبریں تھیں نشاں دربار کیسے ہو گئے
عبرت گاہ ؟؟؟؟؟؟؟
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 3، 2013 8:39 شام
اصلاح تو اساتذہ ہی فرمائیں گے۔۔۔ ہماری طرف سے اتنی محنت پر داد قبول فرمائیے۔۔۔۔
الف عین — ستمبر 4، 2013 4:55 صبح
اوزان کے اعتبار سے بہت کم اغلاط ہیں
تفصیل بعد میں
شیرازخان — ستمبر 5، 2013 8:18 شام
بہت خوب محترم شیراز خان
عروض و وزن تو اساتذہ ہی دیکھیں گے ،
مجموعی تاثر تو بہت خوب ہے ۔
یہاں ٹائپو لگتا ہے کچھ
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے ہوئے وہاں
عبرت کا قبریں تھیں نشاں دربار کیسے ہو گئے
عبرت گاہ ؟؟؟؟؟؟؟

دراصل میرے ناقص مطالعہ کے مطابق اسلام میں قبروں پر دو مقاصدکی وجہ سے جایا جاتا ہے
ایک کہ عبرت حاصل ہو اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو
دوسرے کچھ دینے کی غرض سے یعنی فوت شدگان کے لئے دعا
لیکن آجکل الٹی گنگا بہہ رہی ہے لوگ اپنے لئے مانگنے جاتے ہیں ہر چھوٹے بڑے قبرستان میں کمرشل درباریں بن چکی ہیں جن میں ہر قسم کی تفریح موجود ہے،
ممکن ہے مرکزی خیال قاری تک نا پہنچ سکا ہو کوئی استاد مدد فرما دے تو مشکور ہوں گا
نایاب — ستمبر 5، 2013 8:38 شام
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے ہوئے وہاں
عبرت کا قبریں تھیں نشاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دربار کیسے ہو گئے
بہت شکریہ محترم شیراز بھائی
میں نشاں کو دربار کی علامت پڑھ رہا تھا ۔۔۔
بہت دعائیں
شیرازخان — ستمبر 5، 2013 9:28 شام
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے ہوئے وہاں
عبرت کا قبریں تھیں نشاں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ دربار کیسے ہو گئے
بہت شکریہ محترم شیراز بھائی
میں نشاں کو دربار کی علامت پڑھ رہا تھا ۔۔۔
بہت دعائیں
آپ بجا ہیں۔۔۔نشاں کے بعد کاما ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔!!!!!!شکریہ دیکھتے ہیں
اساتذہ کیا کہتے ہیں​
شیرازخان — ستمبر 6، 2013 8:04 شام
محمد یعقوب آسیمزمل شیخ بسمل@رحیم ساگر بلوچ@
مرے خیال میں اوپر 3 ہی ٹیگ ہو سکے تھے۔۔۔۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 7، 2013 3:01 شام
اوزان کا مسئلہ ہے۔ کچھ مصرعے بحر رجز مثمن سالم (مستفعلن : چار بار) پر پورے اتر رہے ہیں۔ باقیوں کو وزن میں لانے کے لئے لفظیاتی تبدیلیاں تو کرنی ہوں گی، اب ان کا اثر کیا ہوتا ہے۔ بسا اوقات کوئی مضمون ترک یا ملتوی بھی کرنا پڑتا ہے یا اس میں کوئی اہم تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔
اس کے بعد دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔
طاھر جاوید — ستمبر 7، 2013 3:07 شام
بہت خوب جی
شیرازخان — ستمبر 7، 2013 9:01 شام
اوزان کا مسئلہ ہے۔ کچھ مصرعے بحر رجز مثمن سالم (مستفعلن : چار بار) پر پورے اتر رہے ہیں۔ باقیوں کو وزن میں لانے کے لئے لفظیاتی تبدیلیاں تو کرنی ہوں گی، اب ان کا اثر کیا ہوتا ہے۔ بسا اوقات کوئی مضمون ترک یا ملتوی بھی کرنا پڑتا ہے یا اس میں کوئی اہم تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔
اس کے بعد دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔
بہت شکریہ جناب دراصل برائے مہربانی کچھ نشان دہی ہو جاتی تو میں کوشش کرتا؟؟؟؟؟
محمد یعقوب آسی — ستمبر 7، 2013 11:28 شام
بہت شکریہ جناب دراصل برائے مہربانی کچھ نشان دہی ہو جاتی تو میں کوشش کرتا؟؟؟؟؟
اس ایک وزن کو سامنے رکھتے ہوئے تقطیع کر لیجئے، بس!
الف عین — ستمبر 8، 2013 3:08 صبح
مجھے تو محض ایک ہی مصرع دوسری بحر میں لگ رہا ہے۔
پیچھے ہے کیا آئینے کے، آپ کو کچھ ہے خبر
دوسرا فقرہ
ہے آپ کو کچھ بھی خبر
ہونا تھا۔
اور
فرقے بنا کر دین میں تعجب ہے کہ اسلام کو
اور
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے ہوئے وہاں
بحر سے خارج ہی ہیں
شیرازخان — ستمبر 8، 2013 9:50 شام
مجھے تو محض ایک ہی مصرع دوسری بحر میں لگ رہا ہے۔
پیچھے ہے کیا آئینے کے، آپ کو کچھ ہے خبر
دوسرا فقرہ
ہے آپ کو کچھ بھی خبر
ہونا تھا۔
اور
فرقے بنا کر دین میں تعجب ہے کہ اسلام کو
اور
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے ہوئے وہاں
بحر سے خارج ہی ہیں
بہت شکریہ محترم
اساتذہ@​
محمد یعقوب آسی
@
الف عین
@
یوں بات بنے گی؟؟؟؟؟
فرقے بنا کر دین میں حیرت ہے کہ اسلام کو
جنہوں نے ٹھکرایا وہ ٹھیکیدار کیسے ہو گئے
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے دن رات واں
عبرت کا قبریں تھیں نشاں، دربار کیسے ہو گئے
پیچھے ہے کیا اس آئینے کے، ہے آپ کو کچھ بھی خبر
بس آئینے کے آپ جانبدار کیسے ہو گئے
الف عین — ستمبر 10، 2013 2:36 صبح
الفاظ کی نشست و برخواست کا بھی دھیان رکھنا ضروری ہے، اور بحر و اوزان کا بھی۔ اب مثلاً یہی مصرع
عبرت کا قبریں تھیں نشاں، دربار کیسے ہو گئے
کیا یوں بہتر نہیں۔۔
قبریں تھیں عبرت کا نشاں، دربار کیسے ہو گئے
اس سے قطع نظر کہ قبریں مؤنث ہیں، اس کے ساتھ ’ہو گئےُ فعل غلط ہے۔
فرقے بنا کر دین میں حیرت ہے کہ اسلام کو
جنہوں نے ٹھکرایا وہ ٹھیکیدار کیسے ہو گئے
۔۔حیرت کس بات پر ہے؟
کس نے کیا ٹھکرا دیا؟
ان سوالات کے جوابات واضح نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ کہ اسلام کو ’کے اسلام کو‘ تقطیع ہوتا ہے، کہ دو لفظی نہیں باندھا جاتا۔
اسی طرح ‘جنہوں‘ ’جن ہوں‘ تقطیع ہو رہا ہے، یہ تلفظ بھی غلط ہے۔
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے دن رات واں
عبرت کا قبریں تھیں نشاں، دربار کیسے ہو گئے
۔۔دن رات میلے لگ رہے ہیں، دیکھو تو جا کر وہاں
قبریں تھیں عبرت کا نشاں، دربار کیسے ہو گئے
بہتر شکل ہے۔
پیچھے ہے کیا اس آئینے کے، ہے آپ کو کچھ بھی خبر
بس آئینے کے آپ جانبدار کیسے ہو گئے
۔۔شعر سمجھ میں نہیں آیا۔ جانبدار سے یہاں کیا مراد ہے؟
پہلے مصرع میں ارکان زیادہ ہیں، اور غلط جگہ فقرہ ٹوٹ رہا ہے، مصرع میں دو ٹکڑے ہیں، کوشش کریں کہ ایک ٹکڑے میں بات مکمل ہو،
پیچھے ہے کیا آئینے کے
کافی ہے، اس طرح رکن بھی بڑھتا نہیں ہے
اور دونوں ٹکڑوں کے درمیان کوما لگا کر دیکھا کریں، تو معلوم ہو جائے کہ دونوں طرٍ بات مکمل ہوتی ہے یا نہیں۔
پیچھے ہے کیا اس آئینے، کے ہے آپ کو کچھ بھی خبر
میں ’کے‘ دوسرے ٹکڑے میں آ رہا ہے، اور بحر میں بھی زائد ہے
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 10، 2013 3:00 صبح
ہر دو ٹیگز کے درمیان خالی جگہ دیجیےاور @کے فورآ بعد نام لکھیئے۔ اوپر کے ٹیگز درست کردیئے ہیں
رحیم ساگر بلوچ — ستمبر 10، 2013 3:20 صبح
بڑی اچھی فکر ھے آپ کی
شیرازخان — ستمبر 10، 2013 8:03 شام
الفاظ کی نشست و برخواست کا بھی دھیان رکھنا ضروری ہے، اور بحر و اوزان کا بھی۔ اب مثلاً یہی مصرع
عبرت کا قبریں تھیں نشاں، دربار کیسے ہو گئے
کیا یوں بہتر نہیں۔۔
قبریں تھیں عبرت کا نشاں، دربار کیسے ہو گئے
اس سے قطع نظر کہ قبریں مؤنث ہیں، اس کے ساتھ ’ہو گئےُ فعل غلط ہے۔@
الفاظ کی نشست و برخواست کا بھی دھیان رکھنا ضروری ہے، اور بحر و اوزان کا بھی۔ اب مثلاً یہی مصرع
عبرت کا قبریں تھیں نشاں، دربار کیسے ہو گئے
کیا یوں بہتر نہیں۔۔
قبریں تھیں عبرت کا نشاں، دربار کیسے ہو گئے
اس سے قطع نظر کہ قبریں مؤنث ہیں، اس کے ساتھ ’ہو گئےُ فعل غلط ہے۔
فرقے بنا کر دین میں حیرت ہے کہ اسلام کو
جنہوں نے ٹھکرایا وہ ٹھیکیدار کیسے ہو گئے
۔۔حیرت کس بات پر ہے؟
کس نے کیا ٹھکرا دیا؟
ان سوالات کے جوابات واضح نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ کہ اسلام کو ’کے اسلام کو‘ تقطیع ہوتا ہے، کہ دو لفظی نہیں باندھا جاتا۔
اسی طرح ‘جنہوں‘ ’جن ہوں‘ تقطیع ہو رہا ہے، یہ تلفظ بھی غلط ہے۔
دیکھو کبھی جا کر جو ہیں میلے لگے دن رات واں
عبرت کا قبریں تھیں نشاں، دربار کیسے ہو گئے
۔۔دن رات میلے لگ رہے ہیں، دیکھو تو جا کر وہاں
قبریں تھیں عبرت کا نشاں، دربار کیسے ہو گئے
بہتر شکل ہے۔
پیچھے ہے کیا اس آئینے کے، ہے آپ کو کچھ بھی خبر
بس آئینے کے آپ جانبدار کیسے ہو گئے
۔۔شعر سمجھ میں نہیں آیا۔ جانبدار سے یہاں کیا مراد ہے؟
پہلے مصرع میں ارکان زیادہ ہیں، اور غلط جگہ فقرہ ٹوٹ رہا ہے، مصرع میں دو ٹکڑے ہیں، کوشش کریں کہ ایک ٹکڑے میں بات مکمل ہو،
پیچھے ہے کیا آئینے کے
کافی ہے، اس طرح رکن بھی بڑھتا نہیں ہے
اور دونوں ٹکڑوں کے درمیان کوما لگا کر دیکھا کریں، تو معلوم ہو جائے کہ دونوں طرٍ بات مکمل ہوتی ہے یا نہیں۔
پیچھے ہے کیا اس آئینے، کے ہے آپ کو کچھ بھی خبر
میں ’کے‘ دوسرے ٹکڑے میں آ رہا ہے، اور بحر میں بھی زائد ہے

السلام علیکم جناب محترم الف عین صاحب،،،،،،،،،،
سب سے پہلے تو اس قدر تفصیل سے جواب دینے کے لئے بہت مشکور ہوں۔۔۔۔۔۔۔

الفاظ کی نشست و برخواست کا بھی دھیان رکھنا ضروری ہے، اور بحر و اوزان کا بھی۔ اب مثلاً یہی مصرع
عبرت کا قبریں تھیں نشاں، دربار کیسے ہو گئے
کیا یوں بہتر نہیں۔۔
قبریں تھیں عبرت کا نشاں، دربار کیسے ہو گئے
اس سے قطع نظر کہ قبریں مؤنث ہیں، اس کے ساتھ ’ہو گئےُ فعل غلط ہے۔
اس شعر کو واقعی آپ نے بہت ہلکا کر دیا ہے
ایک بات پوچھنا چاہوں گا قبریں مونث ہیں پر حیرت ان کے دربار بننے پر ہے اور یہ مزکر ہے؟

فرقے بنا کر دین میں حیرت ہے کہ اسلام کو
جنہوں نے ٹھکرایا وہ ٹھیکیدار کیسے ہو گئے
۔۔حیرت کس بات پر ہے؟
کس نے کیا ٹھکرا دیا؟
ان سوالات کے جوابات واضح نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ کہ اسلام کو ’کے اسلام کو‘ تقطیع ہوتا ہے، کہ دو لفظی نہیں باندھا جاتا۔
اسی طرح ‘جنہوں‘ ’جن ہوں‘ تقطیع ہو رہا ہے، یہ تلفظ بھی غلط ہے۔

؁اس شعر میں اوزان کی کوتاہیوں کا علم نہیں تھا لیکن معنی کے لحاظ سے میرے مطابق سب سے واضح تھا مثلاً ’’ فرقہ بندی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں چنانچہ جنہوں نے بنائے انہوں نے اسلام کو ٹھکرا دیا اور اس کے ٹھیکیدار بھی بن گئے ‘‘
ْْمیں اس کو سدارنے کے بعد آپ کو دوبارہ زحمت دوں گا۔۔۔۔

باقی آپ کی تمام تر اصلاح سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے میں دوبارہ کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔
شیرازخان — ستمبر 10، 2013 8:41 شام
@الف عین@محمد یعقوب آسی@
اور ایک گزارش مزید ہے ۔۔۔محفل کا ماحول دیکھ کر پتہ چلا آپ حضرات استاتذہ میں سے ہیں لیکن آپ حضرات کا کلام پڑھنے کا اشتیاق وہیں رہا۔۔۔۔۔۔اور آپکے بارے میں بھی گر کوئی لنک محفل میں موجود ہے تو برائے مہربانی ٹیگ کر دیں؟؟؟
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84.67441/