لیکن کہیں پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر شاعر چاہے تو وہ
(ہ ں ا ی ے ء ) کو اپنی سہولت سے تقطیع میں شامل کر سکتا ہے اس کی بھی وضاحت اگر ہو جائے تو اچھا ہے
اور جب ہم ( زیر ) کو استعمال کرتے ہیں اس کا کیا طریقہ کار ہے اس کا کیا مقام ہے تقطیع میں۔۔۔ ۔؟
غمِ دل ،فرقِ آدمیت۔
الف، واؤ اور یے کو حروفِ علت کہتے ہیں، اور ہندی الفاظ کے آخر میں ان حروف علت کو گرانا یا نہ گرانا شاعر کی صوابدید اور مرضی ہے۔
نون غنہ ں اور دو چشمی ھ، ان کا سرے سے کوئی وزن ہوتا ہی نہیں، لہذا یہ شاعر کی مرضی نہیں ہے کہ ان کے وزن کو شمار کرے یا نہ کرے، یہ ہمیشہ ہی شمار نہیں ہونگے اور یہ اصول ہے۔
ہائے ہوز کا معاملہ تھوڑا ٹیڑھا ہے۔ اسکے دو اصول ہیں، ایک یہ کہ جو ہ بولنے میں مکمل آواز رکھتی ہے اس کو گرایا جانا جائز نہیں ہے، جیسے شاہ اور شہنشاہ، ان الفاظ میں ہ کی آواز مکمل ہے اس کو گرایا نہیں جاتا بلکہ ضرورت شعر کے وقت ان کے متبادل الفاظ یعنی شہ، شہنشہ استعمال ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جو ہ بولنے میں نہیں آتی جیسے بچہ، شہزادہ، شگفتہ میں تو ایسے ہ کو بلا تکلف شاعر گرا بھی سکتاہے اور اگر چاہے تو رکھ بھی سکتا ہے یہ شاعر کی مرضی ہے۔
یوں تو اضافتوں کا وزن شمار نہیں ہوتا لیکن بوقت ضرورت کھینچ کر ان کا وزن بنا لیا جاتا ہے، جیسے غمِ دل اگر بحر کا تقاضا ہے کہ وزن فَعِلن ہو تو غمِ دل اس پر پورا اترتا ہے لیکن اگر بحر کا تقاضا فعولن ہو تو غمِ دل کو غمے دل سمجھ کر فعولن کا وزن پورا کیا جائے گا یہ بھی شاعر کی صوابدید یا مرضی ہے۔