الفاظ کی تقطیع کر دیں

سعدیہ زندگی — مئی 1، 2012 1:13 صبح
بہت شکریہ آپ تمام اساتذہ کا
بہت اچھی طرح اور وصاحت سے بیان کیا ہے آپ لوگوں نے
سعدیہ زندگی — مئی 1، 2012 7:00 صبح
تراکیب، استعارے، تشبیہات اور صنائع معنوی و لفظی سے کیا مراد ہے کیا ان کے لئے مخصوص کتاب ہیں اور ایک شعر کو کیسے کہا جائے یا کہ خیال کو اپنے تشبیہات اور استعارے سے کیسے تبدیل کیا جائے۔۔؟
الف عین — مئی 1، 2012 3:58 شام
یہ تو ایک سوال میں کئی سوالات سمو دئے ہیں بلکہ ان کے جواب میں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، فی الحال کوئی ایسی کتاب میرے ذہن میں نہیں۔ صنائع بدائع کی بہت سی کتابیں مل جائیں گی، لیکن شاعر کو شاعری کے لئے یہ سب جاننے کی ضرورت نہیں۔یہ محض استادانہ کرتب شمار کئے جاتے ہیں آج کل۔ بس شاعر کو جو اچھا لگے، جس طرح اچھا لگے، شعر میں کوئی صنعت خود بخود در آئے تو فبہا، ورنہ شعوری کوشش کی ضرورت نہیں۔
مختصراً تشبیہ اور استعارے کی تعریف اس طرح ہو گی کہ اگر شعر یا نثر میں بھی، یہ کہا جائے کہ فلاں کسی چیز کی طرح ہے، تو یہ تشبیہ ہو گی۔ یعنی جہاں بھی ’جیسا، کی طرح، سا، مانند‘ قسم کے الفاظ آئیں، وہ تشبیہہ ہے۔ جہاں نہ آئیں، وہ استعارہ ہے۔ محبوب کا چہرہ چاند کی طرح کہیں تو تشبیہ ہے، چہرہ چاند ہے، یا چہرے کی کرنیں قسم کی تراکیب استعمال کی جائیں تو استعارہ، جس میں یہ پوشیدہ ہو کہ اِس چیز کی اُس چیز سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
اسی مثال میں تراکیب کی مثال بھی آگئی ہے۔ ترکیبیں محض الفاظ کے مجموعے کو کہتے ہیں، ایسے مجموعے کو جن سے حسن پیدا ہو۔ وصال کی شمعیں، چاند کو گُل کرنا۔ درد کے خیمے، مائل بکرم راتیں، وغیرہم، جو اصل میں نہ ہوں لیکن ان سے معنی واضح ہو جائے، ایسے الفاظ کو تراکیب کہتے ہیں۔
سعدیہ زندگی — مئی 1، 2012 5:19 شام
جی االف عین صاحب پہلے تو بہت شکریہ۔۔
اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ اشعار بنائے جاتے ہیں اس کو میں نہیں سمجھ پاتی میرے نزدیک اشعار تو ہوتے ہیں ہاں البتہ اس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے
میں جب بھی کہتی ہوں اپنے دل سے کہتی ہوں یا کسی احساس کے ساتھ مگر یہ کہنا کہ اشعار بنائے جاتے ہیں مجھ کو شاعری نہیں جھوٹ لگتی ہے میرے چند لوگوں سے بحت چل رہی ہے
کیا میں غلط ہوں ا ور اس ہی لئے میں علمِ عروض خود سیکھ رہی ہوں تاکہ یہ جو کچھ بھی لکھوں اس میں صرف میری زات ہی شامل ہو اور کوئی نہیں ۔۔۔۔۔۔
سعدیہ زندگی — مئی 1، 2012 6:01 شام
بلکہ بہت شکریہ کہ آپ نے تفصیل سے ہی پہلے بتا دیا کہ
شاعر کو شاعری کے لئے یہ سب جاننے کی ضرورت نہیں۔یہ محض استادانہ کرتب شمار کئے جاتے ہیں آج کل۔ بس شاعر کو جو اچھا لگے، جس طرح اچھا لگے، شعر میں کوئی صنعت خود بخود در آئے تو فبہا، ورنہ شعوری کوشش کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ آپ جیسے استاد ہر جگہ دے جس سے لوگ کسی کو بھٹکا نہ دیں ۔۔۔
سعدیہ زندگی — مئی 1، 2012 6:06 شام
بہت شکریہ محمد وارث صاحب آپ کی پسندیدگی کا ۔آپ بھی جواب دے سکتے ہیں ۔آپ بھی میرے نزدیک استاد کی جگہ ہیں ۔۔۔
محمد وارث — مئی 1، 2012 6:10 شام
شکریہ آپ کا، استاد تو بہرحال اعجاز صاحب ہی ہیں اور انہوں نے بہت خوبصورت بات کی تھی، اچھی شاعری کیلیے فقط "ورکنگ نالج" ہی کافی ہے باقی بقول اعجاز صاحب کرتب ہی ہیں۔
صبیح الدین شعیبی — مئی 1، 2012 9:46 شام
صرف سعدیہ کو نہیں ۔۔۔۔مجھے بھی،،اور نہ جانے میرے جیسے کتنے ہوں گے۔۔۔۔
پرانی لڑیوں میں تلاش ایک مشکل کام ہے،،،بڑی خاک چھاننی پڑتی ہے،،،یہ ابتدائی سبق ہے،،،اب اس دھاگے کو نشان زد کرلوں گا،،،تاکہ بار بار تلاش کی جھنجھٹ نہ ہو
مغزل — مئی 2، 2012 8:15 صبح
سلامت رہیں سعدیہ بہن ۔
سعدیہ زندگی — مئی 2، 2012 8:43 صبح
فاعلن مفعول فاعلاتن
بے وضو پڑھتا رہا وہ مجھ کو
اورنمازِ عشق ادا نہ ہوئی
سعدیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔استادوں سے اصلاح چایئے
متلاشی — مئی 2، 2012 8:57 صبح
سعدیہ بہنا !آپ خود تقطیع کر کے دیکھ لیجئے ۔ دوسرے مصرعہ میں ’’ادا‘‘ کا الف اضافی ہے ۔۔۔!
مغزل — مئی 2، 2012 9:40 صبح
سعدیہ بہنا !آپ خود تقطیع کر کے دیکھ لیجئے ۔ دوسرے مصرعہ میں ’’ادا‘‘ کا الف اضافی ہے ۔۔۔ !
پیارے ۔۔ ’’ الف کے وصل ‘‘ کو کیوں صرفِ نظر کرتے ہو ؟؟
بہر کیف میں محمد وارث صاحب کو زحمت دیتا ہوں۔۔ سلامت باشید
متلاشی — مئی 2، 2012 9:50 صبح
پیارے ۔۔ ’’ الف کے وصل ‘‘ کو کیوں صرفِ نظر کرتے ہو ؟؟
بہر کیف میں محمد وارث صاحب کو زحمت دیتا ہوں۔۔ سلامت باشید
غلطی کی نشاندہی کا شکریہ۔۔۔! برادرمحمود صاحب۔۔۔!
محمد وارث — مئی 2، 2012 9:58 صبح
پیارے ۔۔ ’’ الف کے وصل ‘‘ کو کیوں صرفِ نظر کرتے ہو ؟؟
بہر کیف میں محمد وارث صاحب کو زحمت دیتا ہوں۔۔ سلامت باشید

آپ نے درست فرمایا محمود صاحب۔
لیکن مجھے یہ بحر نامانوس لگی ہے یا کم از کم میرے علم میں یہ بحر نہیں، کوئی کتاب ہی دیکھنی پڑے گی اس کیلیے، یا شاید اعجاز صاحب بتا سکیں۔
الف عین — مئی 2، 2012 4:47 شام
میں تو خود نا مانوس بحروں کے بارے میں معلومات کے لئے تمہارے حوالے کر دیتا ہوں وارث! یاد ہے صابر شاہ کی کتاب کی کچھ غزلیں بھیجی تھیں میں نے۔ بہر حال شعر اچھا ہے سعدیہ کا، لیکن بحر کا معلوم نہیں۔ سعدیہ کو پھر یہی مشورہ کہ تقطیع کے کرتبوں میں نہ پڑیں۔ یہ بھی کرتب ہی ہے کہ پہلے ایک مصرع کہا گیا، پھر اس کو فاعلن مدعولن کے کسی بھی سانچے میں ڈھالا، اور پھر اس سانچے کو دوسرے مصرعے ڈھالنے کے لئے استعمال کیا!!
موزونیت کے لئے ضروری ہے کہ مستقبل کا شاعر ماضی کے شعراء کو خوب پڑھے۔ اس سے لہجے میں موزونیت اپنے آپ آ جائے گی۔
سعدیہ زندگی — مئی 4، 2012 4:59 صبح
کوئی تو ہے جو میرے یہ پر کاٹ رہا ہے
اڑتے ہوئے جو بادلوں میں بانڈھ رہا ہے
سعدیہ سحر
اس کو بھی دیکھئے گا۔
الف عین — مئی 4، 2012 6:13 شام
سعدیہ، معذرت کہ یہ غزل کا شعر نہیں۔ نہ بحر کا لزوم ہے اس میں نہ ردیف و قافی کا۔ ردیف تو ضرور ہے، ’رہا ہے‘ لیکن قافیہ؟ کاٹ اور باندھ قوافی نہیں ہوتے۔
کسی مانوس بحر میں فٹ بھی نہیں ہوتا یہ ’شعر‘
سعدیہ زندگی — مئی 5، 2012 5:08 صبح
شکریہ۔۔۔
مغزل — مئی 7، 2012 6:47 صبح
سعدیہ زندگی بہن ، کیا آپ کا اسمِ گرامی ( قلمی) سعدیہ سحر (سعدیہ سحر عمران ) ہے ؟؟ مجھے یاد پڑتا ہے میں آپ کا کلام کہیں اور بھی پڑھا ہے ۔۔
الف عین — مئی 7، 2012 6:14 شام
وہی مجھے بھی شک ہوا تھا کہ یہی سعدیہ سحر عمران ہیں، لیکن کتاب چہرے میں تو جو کلام ہے وہ کسی مبتدی کا تو نہیں لگتا!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%A7%D8%B8-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%82%D8%B7%DB%8C%D8%B9-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%BA.51171/page-3