اپنی کاوش

سکندر — مارچ 20، 2018 2:51 صبح
‏غروبِ محبت سے طلوعِ عشق تک
درمیان میں ہم ٹوٹ کے بکھر گئے
سکندر بدیوانی
محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 2:54 صبح
پیارے بھائی، آپ کے اشعار درست نہیں ہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اصلاحِ سخن میں بھیج دیے جائیں، اساتذہ رہنمائی فرما دیں گے۔ :)
سکندر — مارچ 20، 2018 2:54 صبح
سلام آپ سوچ رہے ہونگے یہ صاحب بدیوانی لفظ کو خود سے جوڑ بیٹھے ہے تو محترم سامعین حاضرین ونا ضرین وہ اس لئے کہ مجھے ایک دن شکیل بدیوانی صاحب کی شاعری پڑھنے کو ملی تب سے اس کی شاعری پسند کیا آئی اس کا نام ہی خود سے جوڑ بیٹھے بس اتنی سی!
سکندر — مارچ 20، 2018 2:56 صبح
پیارے بھائی، آپ کے اشعار درست نہیں ہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اصلاحِ سخن میں بھیج دیے جائیں، اساتذہ رہنمائی فرما دیں گے۔ :)
کوئی بات نہیں اپنے ایسے ہی ہوتے ہیں سیکھ جائے گے آپ جیسے محترم اور دوست ساتھ ہے نا
سکندر — مارچ 20، 2018 3:08 صبح
پیارے بھائی، آپ کے اشعار درست نہیں ہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اصلاحِ سخن میں بھیج دیے جائیں، اساتذہ رہنمائی فرما دیں گے۔ :)
یہ اصلاح سخن کہا واقع ہے
محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 3:11 صبح
یہ اصلاح سخن کہا واقع ہے
یہاں
محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 3:12 صبح
آپ کی دونوں کاوشات اصلاحِ سخن میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ :)
محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 3:12 صبح
اوزان و بحور سے کتنی واقفیت ہے؟
سکندر — مارچ 20، 2018 3:13 صبح
شکریہ جناب کا
سکندر — مارچ 20، 2018 3:19 صبح
اوزان و بحور سے کتنی واقفیت ہے؟

بحر: عروضی ارکان کی تکرار سے اشعار کے لیے جو وزن حاصل کیا جاتا ہے اسے بحر کہتے ہیں.
محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 3:24 صبح
بحر: عروضی ارکان کی تکرار سے اشعار کے لیے جو وزن حاصل کیا جاتا ہے اسے بحر کہتے ہیں.
پیارے بھائی تعریف نہیں پوچھی۔ :)
چلیے یہ بتائیے کہ اوپر شعر میں کون سی بحر استعمال ہوئی ہے؟
سکندر — مارچ 20، 2018 3:26 صبح
پیارے بھائی تعریف نہیں پوچھی۔ :)
چلیے یہ بتائیے کہ اوپر شعر میں کون سی بحر استعمال ہوئی ہے؟
غروب اور درمیان
سکندر — مارچ 20، 2018 3:26 صبح
پیارے بھائی تعریف نہیں پوچھی۔ :)
چلیے یہ بتائیے کہ اوپر شعر میں کون سی بحر استعمال ہوئی ہے؟
آپ ہی بتا دے
محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 3:28 صبح
مجھے تو نہ سمجھ آئی۔ :)
کوشش کیجیے کہ اوزان سمجھ کر شاعری اوزان کے مطابق ہو۔
شاعری کا شوق محنت تو مانگتا ہے۔ :)
سکندر — مارچ 20، 2018 3:31 صبح
مجھے تو نہ سمجھ آئی۔ :)
کوشش کیجیے کہ اوزان سمجھ کر شاعری اوزان کے مطابق ہو۔
شاعری کا شوق محنت تو مانگتا ہے۔ :)
اوکے جی شکریہ کوشش نہ کے لوگوں میں خود کو مشعور کرنا بس کر لیتے ہے جو بن پڑا
سکندر — مارچ 20، 2018 3:33 صبح
مجھے تو نہ سمجھ آئی۔ :)
کوشش کیجیے کہ اوزان سمجھ کر شاعری اوزان کے مطابق ہو۔
شاعری کا شوق محنت تو مانگتا ہے۔ :)
ایک دفعہ اوزان کا مقصد سمجھا دے مہربانی ہوگی شاید اصلاح ہو جائے
محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 3:35 صبح
ایک دفعہ اوزان کا مقصد سمجھا دے مہربانی ہوگی شاید اصلاح ہو جائے
اوزان کا مقصد شعر کو شعر بنانا ہے۔ :)
تاکہ شعر اور نثر میں فرق کیا جا سکے۔
سکندر — مارچ 20، 2018 3:40 صبح
اوزان کا مقصد شعر کو شعر بنانا ہے۔ :)
تاکہ شعر اور نثر میں فرق کیا جا سکے۔
مثلا
محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 3:50 صبح
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
اس کا وزن ہے
فاعلاتن مفاعلن فعلن
یعنی
کعبے کس منہ: فاعلاتن
سے جاؤ گے: مفاعلن
غالب: فعلن
شرم تم کو: فاعلاتن
مگر نہیں: مفاعلن
آتی: فعلن
اب اس پوری غزل میں آپ کو یہی بحر ملے گی
سکندر — مارچ 20، 2018 7:04 صبح
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
اس کا وزن ہے
فاعلاتن مفاعلن فعلن
یعنی
کعبے کس منہ: فاعلاتن
سے جاؤ گے: مفاعلن
غالب: فعلن
شرم تم کو: فاعلاتن
مگر نہیں: مفاعلن
آتی: فعلن
اب اس پوری غزل میں آپ کو یہی بحر ملے گی
اچھا جی سمجھ گیا
یعنی میرے شعر میں ایسا کچھ نہیں
غروبِ محبت سے طلوعِ عشق تک
درمیان میں ہم ٹوٹ کے بکھر گئے
مطلب اس شعر میں ایسا کچھ نہیں یہ بے معانی ہے
غروب=فاعلاتن نہیں جو ختم ہونے لگی
محبت=فعلن نہیں جو بزات خود ہے
تک =مفاعلن نہیں جو دونوں میں جوڑ لاتی ہے
طلوع=فا علاتن نہیں جو شروع ہوگئ
عشق=فعلن نہیں جو بزات خود ہے
تک=وہی ہے
اب
درمیان میں=کیا ہے؟
ہم =کیا ہے؟
ٹوٹ کے بکھر گئے=کیا ہے؟
اصلاح کیجئے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%88%D8%B4.100571/