غروبِ محبت سے طلوعِ عشق تک
درمیان میں ہم ٹوٹ کے بکھر گئے
سکندر بدیوانی
درمیان میں ہم ٹوٹ کے بکھر گئے
سکندر بدیوانی
سلام آپ سوچ رہے ہونگے یہ صاحب بدیوانی لفظ کو خود سے جوڑ بیٹھے ہے تو محترم سامعین حاضرین ونا ضرین وہ اس لئے کہ مجھے ایک دن شکیل بدیوانی صاحب کی شاعری پڑھنے کو ملی تب سے اس کی شاعری پسند کیا آئی اس کا نام ہی خود سے جوڑ بیٹھے بس اتنی سی!
کوئی بات نہیں اپنے ایسے ہی ہوتے ہیں سیکھ جائے گے آپ جیسے محترم اور دوست ساتھ ہے نا
یہ اصلاح سخن کہا واقع ہے
شکریہ جناب کا
پیارے بھائی تعریف نہیں پوچھی۔
غروب اور درمیان
آپ ہی بتا دے
مجھے تو نہ سمجھ آئی۔
اوکے جی شکریہ کوشش نہ کے لوگوں میں خود کو مشعور کرنا بس کر لیتے ہے جو بن پڑا
ایک دفعہ اوزان کا مقصد سمجھا دے مہربانی ہوگی شاید اصلاح ہو جائے
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
اچھا جی سمجھ گیا
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%88%D8%B4.100571/