محمد تابش صدیقی — مارچ 20، 2018 7:11 صبح
اچھا جی سمجھ گیا
یعنی میرے شعر میں ایسا کچھ نہیں
غروبِ محبت سے طلوعِ عشق تک
درمیان میں ہم ٹوٹ کے بکھر گئے
مطلب اس شعر میں ایسا کچھ نہیں یہ بے معانی ہے
غروب=فاعلاتن نہیں جو ختم ہونے لگی
محبت=فعلن نہیں جو بزات خود ہے
تک =مفاعلن نہیں جو دونوں میں جوڑ لاتی ہے
طلوع=فا علاتن نہیں جو شروع ہوگئ
عشق=فعلن نہیں جو بزات خود ہے
تک=وہی ہے
اب
درمیان میں=کیا ہے؟
ہم =کیا ہے؟
ٹوٹ کے بکھر گئے=کیا ہے؟
اصلاح کیجئے
آپ
پہلے یہ دیکھیے۔
اور
پھر یہ سیکھیے۔

سید عمران — مارچ 20، 2018 7:47 صبح
کوئی بات نہیں اپنے ایسے ہی ہوتے ہیں سیکھ جائے گے آپ جیسے محترم اور دوست ساتھ ہے نا
یہ محترم دوست سکھاتے کم ہیں راستہ زیادہ دکھاتے ہیں۔۔۔
سِکھانے والوں کا۔۔۔
اسے سکُھانے والے نہ پڑھیے گا!!!
سید عمران — مارچ 20، 2018 7:48 صبح
اوزان و بحور سے کتنی واقفیت ہے؟
اوزان: جیسے ایک کلو، تین پاؤ۔۔۔
بحر: جیسے بحر ہند وغیرہ!!!
سید عمران — مارچ 20، 2018 7:51 صبح
اوکے جی شکریہ کوشش نہ کے لوگوں میں خود کو مشعور کرنا بس کر لیتے ہے جو بن پڑا
یہ لفظ شعور سے نکلا ہے کیا؟؟؟
سید عمران — مارچ 20، 2018 7:53 صبح
ایک دفعہ اوزان کا مقصد سمجھا دے مہربانی ہوگی شاید اصلاح ہو جائے
آمین!!!
سید عمران — مارچ 20، 2018 8:00 صبح
لو قرب قیامت ہے۔۔۔
عدنان بھائی بھی کسی دوسرے کی املا کی غلطی پر ہنس پڑے!!!
سید عمران — مارچ 21، 2018 2:24 شام
بھائی سکندر...
اگر آپ مضحکہ خیز کی ریٹنگ کو کوئی بہت اچھی چیز سمجھ رہے ہیں تو آپ صریح غلطی پر ہیں!!!
محمد وارث — مارچ 22، 2018 3:37 صبح
بھائی سکندر...
اگر آپ مضحکہ خیز کی ریٹنگ کو کوئی بہت اچھی چیز سمجھ رہے ہیں تو آپ صریح غلطی پر ہیں!!!
ہوتا ہے بھائی، اکثر ایسا!
