مزمل حسین — مئی 4، 2016 9:28 صبح
ایک بزرگ نے آج بتایا میرے ایک سوال کے بعد
تم کو میٹھی نیند آئے گی صرف اور صرف وصال کے بعد
مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا یہ مصارع وزن میں ہیں؟ اگر ہیں تو کیا انھیں ایک شعر کہا جاسکتا ہے؟
محمد ریحان قریشی — مئی 4، 2016 10:55 صبح
بحر ہندی ہے موزوں لگ رہا ہے شعر کہا جا سکتا ہے.
محمد وارث — مئی 4، 2016 10:57 صبح
ایک بزرگ نے آج بتایا میرے ایک سوال کے بعد
شہد سے میٹھی نیند آتی ہے لیکن صرف وصال کے بعد
مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا یہ مصارع وزن میں ہیں؟ اگر ہیں تو کیا انھیں ایک شعر کہا جاسکتا ہے؟
شعر تو خیر ۔۔۔۔۔۔لیکن بزرگ واقعی پہنچے ہوئے معلوم پڑتے ہیں

سید عمران — مئی 4، 2016 11:43 صبح
ایک بزرگ نے آج بتایا میرے ایک سوال کے بعد
شہد سے میٹھی نیند آتی ہے لیکن صرف وصال کے بعد
مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا یہ مصارع وزن میں ہیں؟ اگر ہیں تو کیا انھیں ایک شعر کہا جاسکتا ہے؟
بزرگ سے ایسا سوال پوچھنے کی ضرورت کیا تھی؟؟؟
عباس اعوان — مئی 4، 2016 11:45 صبح
شعر تو خیر ۔۔۔۔۔۔لیکن بزرگ واقعی پہنچے ہوئے معلوم پڑتے ہیں
میں انتظامیہ کی توجہ اس بانکے شعر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

محمد وارث — مئی 4، 2016 11:49 صبح
میں انتظامیہ کی توجہ اس بانکے شعر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
تو انتظامیہ کو ٹیگ کریں حضور

مزمل حسین — مئی 4، 2016 12:00 شام
شعر تو خیر ۔۔۔۔۔۔لیکن بزرگ واقعی پہنچے ہوئے معلوم پڑتے ہیں
سر دوسرے سوال کا جواب اتنا مبہم کیوں۔ ۔
مزمل حسین — مئی 5، 2016 4:02 شام
کتنے رنج کی بات بتائی بزرگ نے ایک سوال کے بعد
بیٹا میٹھی نیند آئے گی صرف اور صرف وصال کے بعد
دھڑکن درہم برہم ہے اور سانس بھی کم کم آتی ہے
ایک ستم ہے اُن آنکھوں کا جاں پر ایک وبال کے بعد
وہ سنجیدہ نظر کیا سچ مچ اذنِ سخن کی طالب ہے؟
ایک سوال تھا میرے دل میں، اُس کے ایک سوال کے بعد
اور بھی عجز بھرا لہجے میں، عرضِ تمنا ترک نہ کی
مجھ کو خبر تھی، پیار آئے گا اُن کو تھوڑے جلال کے بعد
یاروں میں اب میرا نام حوالہ ہے بربادی کا
میں بھی ایک مثال ہوں گویا، قیس کی ایک مثال کے بعد
اُس نے مجھ کو چھوڑ کے جس کو یار کیا ہے مُزَّمِّلؔ
وہ بد بخت بھی روئے گا بالآخر ایک دو سال کے بعد
احباب سے اصلاح کی درخواست ہے۔
سید عاطف علی — مئی 5، 2016 6:03 شام
ان بزرگ صاحب سے ہی اصلاح بھی لے لیجیئے ۔ان سے بڑھ کر اصلاح توشاید ہی کوئی دے سکے۔
مزمل حسین — مئی 6، 2016 1:07 شام
ان بزرگ صاحب سے ہی اصلاح بھی لے لیجیئے
ان بزرگ صاحب کو شاعری سے چڑھ ہے۔
bilal260 — مئی 6، 2016 1:34 شام
ایک بزرگ نے آج بتایا میرے ایک سوال کے بعد
تم کو میٹھی نیند آئے گی صرف اور صرف وصال کے بعد
مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا یہ مصارع وزن میں ہیں؟ اگر ہیں تو کیا انھیں ایک شعر کہا جاسکتا ہے؟
اس شعر میں اگر دوسرے شعر میں سے صرف اور کے الفاظ نکال دیئے جاتے تو شاید زیادہ فرق نہ پڑے۔
bilal260 — مئی 6، 2016 1:36 شام
بہت ہی اچھی اور پیاری بات تو سچ ہے مگر ۔۔۔۔۔رہنے دے۔
بہت ہی اچھی کاوش اسے شعر بھی اور شاید نثر بھی کہہ سکتے ہیں۔
La Alma — مئی 6، 2016 2:19 شام
ان بزرگ صاحب کو شاعری سے چڑھ ہے۔
اور ہونی بھی چاہیے ،آپ کے کلام کی تاثیر ہی کچھ ایسی ہے ۔

مزمل حسین — مئی 6، 2016 3:46 شام
آپ کے کلام کی تاثیر ہی کچھ ایسی ہے ۔
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ابن رضا — مئی 6، 2016 3:55 شام
مزمل حسین — مئی 6، 2016 4:02 شام
آپ کہہ سکتے ہیں۔
۔
رضا بھائ، لگے ہاتھوں کچھ اصلاحاً بھی فرما دیتے، مطلع کے علاوہ اشعار کے لئے۔ ۔ ۔
ابن رضا — مئی 6، 2016 6:36 شام
آپ کہہ سکتے ہیں۔
۔
رضا بھائ، لگے ہاتھوں کچھ اصلاحاً بھی فرما دیتے، مطلع کے علاوہ اشعار کے لئے۔ ۔ ۔
اوزان سے قطع نظر مجھے ان اشعار میں مجموعی طور پر متاثر کن بات نہیں لگی یا یوں کہہ لیں کہ شعریت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ یا تو سنجیدہ کوشش سے اس کو بہتر کریں یا پھر اس سے آگے بڑھیں اور کچھ اور کہیں
مزمل حسین — مئی 6، 2016 9:02 شام
اوزان سے قطع نظر مجھے ان اشعار میں مجموعی طور پر متاثر کن کوئی بات نہیں لگی یا یوں کہہ لیں کہ شعریت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ یا تو سنجیدہ کوشش سے اس کو بہتر کریں یا پھر اس سے آگے بڑھیں اور کچھ اور کہیں
بہت شکریہ بھائی جان!
راحیل فاروق — مئی 6، 2016 9:13 شام
اوزان سے قطع نظر مجھے ان اشعار میں مجموعی طور پر متاثر کن کوئی بات نہیں لگی یا یوں کہہ لیں کہ شعریت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ یا تو سنجیدہ کوشش سے اس کو بہتر کریں یا پھر اس سے آگے بڑھیں اور کچھ اور کہیں
میرے پیارے بھائی کی رائے محترم ہے۔ مگر میرا جی چاہتا ہے کہ میں ایسے شعر کہوں۔
دھڑکن درہم برہم ہے اور سانس بھی کم کم آتی ہے
ایک ستم ہے اُن آنکھوں کا جاں پر ایک وبال کے بعد
وہ سنجیدہ نظر کیا سچ مچ اذنِ سخن کی طالب ہے؟
ایک سوال تھا میرے دل میں، اُس کے ایک سوال کے بعد
اور بھی عجز بھرا لہجے میں، عرضِ تمنا ترک نہ کی
مجھ کو خبر تھی، پیار آئے گا اُن کو تھوڑے جلال کے بعد
یاروں میں اب میرا نام حوالہ ہے بربادی کا
میں بھی ایک مثال ہوں گویا، قیس کی ایک مثال کے بعد
اُس نے مجھ کو چھوڑ کے جس کو یار کیا ہے مُزَّمِّلؔ
وہ بد بخت بھی روئے گا بالآخر ایک دو سال کے بعد
جس شعریت کے فقدان کی جانب رضا بھائی نے اشارہ فرمایا ہے اسے میں نہیں جانتا۔ مگر یہ ہے کہ لہجے میں اتنی قوت کی مجھے آرزو رہی ہے۔ ان اشعار میں جو طلاقت مجھے دکھائی دیتی ہے وہ کوئی میری نظر سے دیکھے تو جانے۔
مزمل حسین — مئی 7، 2016 4:00 شام
میرے پیارے بھائی کی رائے محترم ہے۔ مگر میرا جی چاہتا ہے کہ میں ایسے شعر کہوں۔
جس شعریت کے فقدان کی جانب رضا بھائی نے اشارہ فرمایا ہے اسے میں نہیں جانتا۔ مگر یہ ہے کہ لہجے میں اتنی قوت کی مجھے آرزو رہی ہے۔ ان اشعار میں جو طلاقت مجھے دکھائی دیتی ہے وہ کوئی میری نظر سے دیکھے تو جانے۔
سلامتی ہو!
رنگ میں سادہ مزاجی کا بھرم تجھ سے ہے
سنگ میں زحمتِ تخلیقِ صنم تجھ سے ہے
بھائی حوصلہ افزائی کے لئے سراپا سپاس ہوں اور آپ کی اس درجہ محبت کا مقروض رہوں گا۔ اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے!
بجھتے جاتے شعلۂ دل کو ہوا دیتا ہے تُو