ایک بزرگ نے آج بتایا

عباد اللہ — مئی 7، 2016 7:20 شام
مزمل بھیا کہتے رہو بہت اچھے جا رہے ہو
مزمل حسین — مئی 8، 2016 6:50 صبح
عباد اللہ بھائی حوصلہ افزائی کے لئے آپ کا تہہِ دل شکر گذار ہوں۔
مزمل حسین — مئی 8، 2016 1:17 شام
سر محمد وارث صاحب،
آپ سے اس بحر کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
یہاں جب کہ ایک مصرع میں سات بار فعلن کے ساتھ ایک بار فع ہے اور مزید ایک ہجائے کوتاہ اختیاری ہے، تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ایک ہی غزل میں مذکورہ بالا وزن کے ساتھ آٹھ بار فعلن والا مصرع لایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
برائے کرم یہ الجھن دور فرمائیے گا۔
محمد وارث — مئی 8، 2016 3:25 شام
سر محمد وارث صاحب،
آپ سے اس بحر کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
یہاں جب کہ ایک مصرع میں سات بار فعلن کے ساتھ ایک بار فع ہے اور مزید ایک ہجائے کوتاہ اختیاری ہے، تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ایک ہی غزل میں مذکورہ بالا وزن کے ساتھ آٹھ بار فعلن والا مصرع لایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
برائے کرم یہ الجھن دور فرمائیے گا۔
میرے خیال میں تو نہیں آ سکتا۔ دیگر ماہرین سے بھی ذرا پوچھ لیں :)
محمد ریحان قریشی — مئی 8، 2016 3:49 شام
سر محمد وارث صاحب،
آپ سے اس بحر کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
یہاں جب کہ ایک مصرع میں سات بار فعلن کے ساتھ ایک بار فع ہے اور مزید ایک ہجائے کوتاہ اختیاری ہے، تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ایک ہی غزل میں مذکورہ بالا وزن کے ساتھ آٹھ بار فعلن والا مصرع لایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
برائے کرم یہ الجھن دور فرمائیے گا۔
بحرِ زمزمہ میں تمام فعلن ہوتے ہیں۔ بحر ہندی اور زمزمہ کو ملایا نہیں جا سکتا۔
مزمل حسین — مئی 8، 2016 5:59 شام
میرے خیال میں تو نہیں آ سکتا۔ دیگر ماہرین سے بھی ذرا پوچھ لیں
سر بہت شکریہ آپ کا۔
بحرِ زمزمہ میں تمام فعلن ہوتے ہیں۔ بحر ہندی اور زمزمہ کو ملایا نہیں جا سکتا۔
بہت بہتر ریحان بھائی بہت شکریہ آپ کا۔
فاتح — مئی 8، 2016 6:27 شام
کتنے رنج کی بات بتائی۔۔۔ بزرگ نے ایک سوال کے بعد
مجھ سے تو اس شکل میں مصرع کا یہ انڈر لائن حصہ موزونیت سے پڑھا ہی نہیں جا رہا حالانکہ آپ کی اصلاح یافتہ یا تبدیل شدہ شکل سے پہلے زیادہ موزوں تھا
ایک بزرگ نے آج بتایا۔۔۔ میرے ایک سوال کے بعد
اور معنوی اعتبار سے بھی کون سا رنج تھا بزرگ کی بات میں؟
مزمل حسین — مئی 9، 2016 4:50 صبح
مجھ سے تو اس شکل میں مصرع کا یہ انڈر لائن حصہ موزونیت سے پڑھا ہی نہیں جا رہا حالانکہ آپ کی اصلاح یافتہ یا تبدیل شدہ شکل سے پہلے زیادہ موزوں تھا
اور معنوی اعتبار سے بھی کون سا رنج تھا بزرگ کی بات میں؟
بالکل بجا فرمایا آپ نے، یہ حصہ واقعی زباں پر گراں ہے۔
رنج کی بات بزرگ کے لئے نہیں، سائل کے لئے ہے کہ مرنے سے پہلے (اس زندگی میں) میٹھی نیند آنے کی نہیں۔ دوسری صورت میں وصال یار تو ممکن نہیں، سو میٹھی نیند کا بھی کوئی چانس نہیں ہے۔
تاہم بزرگان 'عفت مآب' پر سے الزام اٹھانے کے لئے مطلع بدل دیا جائے گا۔
آپ کی توجہ کے لئے ممنون ہوں۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 11، 2016 3:09 صبح
تاہم بزرگان 'عفت مآب' پر سے الزام اٹھانے کے لئے مطلع بدل دیا جائے گا۔
چھوڑیئے صاحب! بزرگانِ عفت مآب پر الزام تو لگتے ہی رہتے ہیں، یہ ایک مزید الزام ان کے لیے خفتِ مزید کا باعث ہرگز نہ بنے گا، ادھر آپ کا اوریجنل مصرع برقرار رہے گا۔
یوں بھی اساتذہ نے نہ کوئی عروضی غلطی نکالی ہے آپ کے شعر میں ، اور نہ معنوی، تو اس مصرع کو یونہی رہنے دیجیے۔
کاشف اسرار احمد — مئی 11، 2016 2:56 شام
خوب غزل ہے جناب۔
ایک دو جگہ مصرعوں کی روانی وغیرہ سے متعلق رائے دے رہا ہوں جو اقتباس میں شامل ہے۔
پسند آئے تو ٹھیک ورنہ نظر انداز کے خانے میں ڈال دیں۔:)
کتنی خوش کن بات بتائی بزرگ نے اک سوال کے بعد
میٹھی نیند آئے گی بیٹا صرف اور صرف وصال کے بعد
کیا سنجیدہ نظریں سچ مچ اذنِ سخن کی طالب ہیں ؟
ایک سوال تھا میرے دل میں، اُس کے ایک سوال کے بعد
اور بھی عجز بھرا لہجے میں، عرضِ تمنا ترک نہ کی
مجھ کو خبر تھی، پیار آئے گا اُن کو مجھ پہ جلال کے بعد
مزمل حسین — مئی 12، 2016 9:51 صبح
خوب غزل ہے جناب۔
ایک دو جگہ مصرعوں کی روانی وغیرہ سے متعلق رائے دے رہا ہوں جو اقتباس میں شامل ہے۔
پسند آئے تو ٹھیک ورنہ نظر انداز کے خانے میں ڈال دیں۔:)
کاشف اسرار احمد صاحب آپ کی توجہ کے لئے بہت ممنون ہوں۔
مشورے پر ضرور غور کروں گا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D8%B2%D8%B1%DA%AF-%D9%86%DB%92-%D8%A2%D8%AC-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DB%8C%D8%A7.89726/page-2