ہائے دو چشمی والے الفاظ کی وضاحت فرما دیجیے۔
بہت خوب اداس آدمی صاحب (معذرت خواہ ہوں کہ آپ کے اصل نام سے واقف نہیں لہٰذا عرفیت استعمال کر رہا ہوں)۔
آپ نے بالکل درست تقطیع کی ہے ان دو اشعار کی۔ تشدید کے معاملے میں بھی آپ نے درست قیاس کیا ہے یعنی جو حرف مشدد ہو اسے تقطیع میں دو بار شمار کیا جاتا ہے۔
اس بحر کو "ہزج مثمن سالم" کہا جاتا ہے۔ ہزج اس کا نام ہے، مثمن یعنی دونوں مصرعوں میں کل ملا کر آٹھ مرتبہ رکن مفاعیلن آیا ہے جب کہ سالم اس لیے کہا گیا کہ رکن مفاعیلن پر کوئی زحاف نہیں برتا گیا اور مفاعیلن کی سالم شکل میں تکرار ہے۔
ایک عرض کرنا چاہوں گا کہ مکتوبی حروف یعنی جو حروف شعر میں لکھے تو جاتے ہیں مگر تقطیع میں شمار نہیں ہوتے یا گر جاتے ہیں مثلاً نون غنہ، ھ، الف، وغیرہ انھیں تقطیع کے وقت لکھا نہیں جانا چاہیے۔ مثلاً
مفاعیلن ۔ مفاعیلن ۔ مفاعیلن ۔ مفاعیلن
سبق پِر پَڑ ۔ صداقت کا ۔ عدالت کا ۔ شجاعت کا
لیا جا ئے ۔ گَ تُج سے کا ۔ م دنیا کی ۔ امامت کا
السلام علیکم، محترم فاتح صاحب!
ہمارے دور میں اردو کا قاعدہ "جوڑ" کر کے پڑھایا جاتا تھا، جیسے "ب ہ سے بنی بھ" ، پ ہ سے بنی پھ"، ک ہ سے بنی کھ" وغیرہ اور بھ، پھ، کھ وغیرہ میں دو حروف سمجھے جاتے تھے۔
لیکن آج کل بھ، پھ، کھ،ڑھ، وغیرہ کو دو نہیں بلکہ ایک ہی حرف " مرکب حرف" سمجھا اور پڑھایا جاتا ہے۔
اس کے مطابق آ پ کی کی گئی تقطیع کا پہلا رکن اس طرح بنتا ہے۔
سَبَق پھِر پَڑھ۔
(یعنی پِھر میں ' پھ ' ایک حرف، جس کی وجہ سے 'ہ' کو گرانے کی ضرورت نہیں بنتی۔ اور پَڑھ میں ' ڑھ ' ایک حرف، اس میں بھی ' ہ ' کو گرانا درست نہیں ہو گا۔
مَفَا عی لُن
جب کہ آپ نے اسے یوں لکھا ہے:
سبق پِر پَڑ
یہ فلسفہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ان میں سے " جوڑ " والا طریقہ درست سمجھا جائے یا بغیر " جوڑ" والا۔
براہِ کرم میری اس الجھن کو دور فرمائیے۔ آپ خود، اعجاز عبید صاحب، وارث صاحب، م۔م۔مغل بھائی"صاحب" یا دوسرے احباب تحقیق کر کے مجھے اس الجھن سے نکلنے میں مدد فرمائیے۔
پیشگی شکریہ آ پ سب کا
والسلام