ایک شعر کی تقطیع

oodas_adami — فروری 13، 2010 11:12 شام
لیں جی دو اور شعر حاضر ہیں میری غلطیوں اور اپنی رائے سے آگاہ ضرور کریں
نقش تھے ہاتھ کی لکیروں پر
دسترس سے مگر پرے تم تھے
ہم نے جس راہ کا انتخاب کیا
اس کے ہر موڑ پر کھڑے تم تھے
نق----ش----تھے
فاعلن
ہا----تھ----کی
فاعلن
ل----کی----روں----پر
مفاعیلن
دس---ت-----رس
فاعلن
سے--م-----گر
فاعلن
پ----رے-----تم---تھے
مفاعیلن
ہم----نے----جس
فاعلن
را-----ہ-----کا
فاعلن
ن----تخ-----اب----کیا
مفاعیلن
اس--کے-----ہر
فاعلن
مو-----ڑ-----پر
فاعلن
کھ----ڑے----تم----تھے
مفاعیلن
فاتح — فروری 13، 2010 11:27 شام
عمدہ کوشش ہے شام صاحب۔ دو گزارشات کرنا چاہوں گا:
اول یہ کہ مروجہ بحور کے مطابق ہی تقطیع کی جانی چاہیے۔ یعنی گو کہ فاعلن فاعلن مفاعیلن پر بھی ان اشعار کے اوزان پورے اترتے ہیں لیکن مروجہ بحر خفیف "فَاعِلَاتُن مُفَاعِلُن فَعلُن" ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے جن ارکان کے مطابق تقطیع کی انھیں کیوں درست نہیں مانا جا رہا تو عرض کرتا چلوں کہ بحور وضع کرنے لیے کچھ منطقی دائرے بنائے گئے ہیں جن میں شامل ارکان کی ترتیب کو بالترتیب بدلنے سے بحور کی اشکال سامنے آتی ہیں لیکن یہ بحث پھر کبھی کیونکہ اس کی یہاں ضرورت نہیں۔
دوم یہ کہ "ہم نے جس راہ کا انتخاب کیا" میں لفظ "راہ" کی مختصر شکل "رَہ" کے مطابق تقطیع کیجیے۔ درست ہو جائے گی۔
اب فَاعِلَاتُن مُفَاعِلُن فَعلُن کے مطابق تقطیع کرنے کی کوشش کیجیے۔ ہاں یہ ذہن میں رکھیے کہ اس بحر میں اجازت ہے کہ پہلے رکن فَاعِلَاتُن کے پہلے الف کو گرا کر فَعِلَاتُن کر لیا جائے اور آخری رکن کے فَعلُن کی ع کو ساکن سے متحرک کر کے فَعِلُن بنا دیا جائے۔ اس کے علاوہ فعلن کو فعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔
وارث صاحب نے بحر خفیف پر ایک خوبصورت مضمون بھی لکھا ہوا ہے۔ اسے بھی پڑھیے۔
oodas_adami — فروری 14، 2010 12:01 صبح
شکریہ فاتح صاحب آپ کے کہنے پر فَاعِلَاتُن مُفَاعِلُن فَعلُن کے مطابق کوشش کی ہے غلطیوں سے ضرور آگاہ فرمایئے گا
نق----ش----تھے----ہا
فا------ع------لا------تن
تھ----کی----ل----کی
م-----فا------ع-----لن
ر----وں----پر
ف---ع-----لن
دس----ت----رس----سے
فا------ع------لا------تن
م----گر----پ----رے
م-----فا----ع-----لن
ت----م----تھے
ف---ع-----لن
ہم----نے----جس----راہ
فا------ع------لا------تن
کا----ان-----ت-----خا
م-----فا------ع-----لن
ب----ک----یا
ف---ع-----لن
اس----کے----ہر----مو
فا------ع------لا-----تن
ڑ----پر----کھ----ڑے
م---فا-----ع-----لن
ت----م----تھے
ف---ع-----لن
چلیں آپ کی بات مان لیتا ہوں کہ میری کی گئی تقطیع کے مطابق بھی شعر وزن میں ہیں لیکن میری بتائی گئی بحر مروجہ نہیں ہے اس کی تفصیل بھر کبھی آپ سے ضرور پوچھوں گا
اور اب ایک سوال یہ کہ شعر پڑھ کر کیسے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کون سی بحر ہو گی
اور بحر خفیف کا مطالعہ جاری ہے
فاتح — فروری 14، 2010 12:09 صبح
درست ہے۔ لیکن اس سے پہلے بھی آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ ایسے حروف جو تقطیع میں شمار نہ ہوتے ہوں انھیں تقطیع میں لکھا نہیں جاتا۔
اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ ارکان کے حروف کی تعداد اور اشعار کے حروف کی تعداد برابر لکھی جاتی ہے۔ مثلاً آپ ہی کے تقطیع کردہ مصرع کو لیتے ہیں:
ہَم۔۔۔نِ۔۔۔جِس۔۔۔رَہ
فَا۔۔۔عِ۔۔۔لَا۔۔۔تُن
کَ۔۔۔اِن۔۔۔تِ۔۔۔خَا
مُ۔۔۔فَا۔۔۔عِ۔۔۔لُن
ب۔۔۔کِ۔۔۔یَا
فَ۔۔۔ع۔۔۔لُن
ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ ارکان کے حروف اور مصرع کے حروف کی تعداد بعینہ یکساں ہے۔
کثرتِ مطالعہ ہی وہ واحد کنجی ہے جس سے بحر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اردو میں محض بیس پچیس بحور ہی رائج ہیں اور انھیں ازبر کر لینے سے اردو کے 99 فی صد اشعار کی تقطیع با سہولت کی جا سکتی ہے۔
oodas_adami — فروری 14، 2010 12:14 صبح
شکریہ فاتح صاحب وہ تو میں ازبر کر لوں گا اور کوئی ایسا لنک جہاں یہ ساری بحریں موجود ہوں مگر کیا ان مروج بحروں کے علاوہ کوئی نئی بحر استعمال میں نہیں لائی جاسکتی
فاتح — فروری 14، 2010 12:23 صبح
شکریہ فاتح صاحب وہ تو میں ازبر کر لوں گا اور کوئی ایسا لنک جہاں یہ ساری بحریں موجود ہوں مگر کیا ان مروج بحروں کے علاوہ کوئی نئی بحر استعمال میں نہیں لائی جاسکتی
لنک تو معلوم نہیں مگر میں کوشش کرتا ہوں کہ ان مستعمل اوزان کے متعلق کچھ لکھ سکوں۔ انشاء اللہ!
مختلف بحور پر زحافات کے استعمال کے ذریعے سینکڑوں اوزان موجود ہیں جن میں آپ یقیناً حسبِ توفیق اشعار لکھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ نئی بحور بھی ایجاد کی جا سکتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ علم عروض پر دسترس ہو اور اور اس ایجاد کردہ بحر کی منطق و ضرورت کو فنی اعتبار سے پرکھ کر اسے ثابت کر سکیں۔
انصاری آفاق احمد — فروری 14، 2010 2:24 صبح
السلام علیکم
یہاں بات کا موضوع تو کچھ اور ہے۔ لیکن جو بات مجھ کو پوچھنی ہے وہ اس سے تعلق ضرور رکھتی ہے،
ایک شعر (بقول بنانے والوں کے( یا بھر نثر بقول ایک صاحب کے۔ اسکا فیصلہ کرنا ہے۔اور یہ آپ حضرات ہی کرسکتے ہیں جو شعر وشاعری پر دست رس رکھتے ہیں۔اچھا ہے یا برا یہ سوال نہیں علاوہ فیصلہ کےاگر وزن یا بحر کی بھی وضاحت با سہولت ہوجاے۔ تو سونے پر سہاگہ۔۔ جزاک اللہ
شعر یا نثر یہ ہے۔۔۔۔ مغربی افکار کے تپتے ہوئے صحراوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نخلستان جس کا نام اردو نامہ ہے۔
الف عین — فروری 14، 2010 3:43 صبح
نثر ہے یہ ’شعر‘، ’اردو نامہ‘ویب سائٹ کا سلوگن ہو سکتا ہے، شاعری نہیں۔
فاتح — فروری 14، 2010 4:27 صبح
وزن کی حد تک یہ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن میں ہے اور اسے بحر رمل مثمن محذوف کہا جاتا ہے۔
مغربی افکار کے تپتے ہوئے صحراوں میں
ایک نخلستان جس کا نام اردو نامہ ہے
مغزل — فروری 14، 2010 11:10 صبح
شکریہ فاتح بھیا، سلامت رہیں ۔
الف عین — فروری 14، 2010 7:02 شام
واقعی، اس کا خیال نہیں تھا ، میں اردو نامہ کو مکمل پڑھ رہا تھا، نامہ بروزن فعلن۔
فہیم — فروری 14، 2010 7:15 شام
لگتا ہے غلط جگہ آگیا:confused:
انصاری آفاق احمد — فروری 16، 2010 12:16 صبح
السلام علیکم
جزاک اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%82%D8%B7%DB%8C%D8%B9.28438/page-2