لیں جی دو اور شعر حاضر ہیں میری غلطیوں اور اپنی رائے سے آگاہ ضرور کریں
نقش تھے ہاتھ کی لکیروں پر
دسترس سے مگر پرے تم تھے
ہم نے جس راہ کا انتخاب کیا
اس کے ہر موڑ پر کھڑے تم تھے
نق----ش----تھے
فاعلن
ہا----تھ----کی
فاعلن
ل----کی----روں----پر
مفاعیلن
دس---ت-----رس
فاعلن
سے--م-----گر
فاعلن
پ----رے-----تم---تھے
مفاعیلن
ہم----نے----جس
فاعلن
را-----ہ-----کا
فاعلن
ن----تخ-----اب----کیا
مفاعیلن
اس--کے-----ہر
فاعلن
مو-----ڑ-----پر
فاعلن
کھ----ڑے----تم----تھے
مفاعیلن
نقش تھے ہاتھ کی لکیروں پر
دسترس سے مگر پرے تم تھے
ہم نے جس راہ کا انتخاب کیا
اس کے ہر موڑ پر کھڑے تم تھے
نق----ش----تھے
فاعلن
ہا----تھ----کی
فاعلن
ل----کی----روں----پر
مفاعیلن
دس---ت-----رس
فاعلن
سے--م-----گر
فاعلن
پ----رے-----تم---تھے
مفاعیلن
ہم----نے----جس
فاعلن
را-----ہ-----کا
فاعلن
ن----تخ-----اب----کیا
مفاعیلن
اس--کے-----ہر
فاعلن
مو-----ڑ-----پر
فاعلن
کھ----ڑے----تم----تھے
مفاعیلن