جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا
کبھی شہرِ بتاں میں خراب پھرے، کبھی دشتِ جنوں آباد کیا
ابن انشاء
جناب
شام صاحب بنیادی طور پر تو یہ فعلن کی آٹھ رکنی بحر ہے ۔۔۔۔۔! یعنی
بحر متقارب مثمن محذوف (ویسے بحر کے ناموں کا مجھے صحیح پتہ نہیں )ہو گی جس میں کسی بھی فعلن 22 کو فَعِلن 211 میں یا فع فَ عِ 112 میں توڑا جا سکتا ہے ۔۔۔۔!
اس کی تقطیع کچھ یوں ہو گی ۔۔۔۔
جب 2 دہ 2 فعلن
ر 1کے 1 غم 2 فَعِلن
سے 1ا 1ماں 2 فَعِلن
نہ 1م 1لی 2 فَعِلن
ہم 2 لو 2 فعلن
گوں 1 نے 1 عش 2 فَعِلن
قے 2 جا 2 فعلن
دک 2 یا 2 فعلن
اسی طرح دوسرے مصرع کی تقطیع یوں ہو گی ۔۔۔۔
ک 1 بھی 1 شہ 2 فَعِلن
رِ 1 بُ 1 تاں 2 فَعِلن
میں 1 خ 1 را 2 فَعِلن
ب 1 پھ 1 رے 2 فَعِلن
ک 1 بھی 1 دش 2 فَعِلن
تِ 1 جُ 1 نوں 2 فَعِلن
آ 2 با 2 فعلن
دک 2 یا 2 فعلن
شکریہ۔۔۔
نوٹ:۔۔ میں علمِ عروض کا ابھی طالبِ علم ہوں اس لئے میری بات اس وقت تک درست تسلیم نہ کی جائے جب تک کہ کوئی استاذ اسے درست نہ قرار دے ۔۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔!