بہت بہت شکریہ محترم ایس فصیح ربانی صاحب ۔۔۔ یہ بنیادی طور پر فعلن کی پانچ رکنی بحر ہے جسے زحافات کا استعمال کرتے ہوئے لکھا گیا ہے ۔۔۔ ان مصرعوں کی تقطیع یوں ہو گی ۔۔
تجھ سے پہلی سی وفا کون کرے گا
بعد مرے اب یہ خطا کون کرے گا
تجھ سے ۔۔۔ فعلن ۔۔۔ 22
پہلی ۔۔۔ ۔ فعلن ۔۔۔ 22
سی وفا۔۔۔ فَعِلن ۔۔۔ 211
کون ک۔۔ فع فَ عِ ۔ 112
رے گا۔۔ فعلن ۔۔۔ 22
بعد م ۔۔ فع فَ عِ ۔ 112
رے اب۔۔ فعلن ۔۔۔ 22
یہ خطا ۔۔۔ فَعِلن۔۔۔ 211
کون ک۔۔ فع فَ عِ ۔ 112
رے گا۔۔ فعلن ۔۔۔ 22
شکریہ۔۔۔
نوٹ:۔ اس بحر میں کسی بھی فعلن کو فَعِلن 211 یا فع فَ عِ 112 میں توڑا جا سکتا ہے ۔۔۔ !
آپ کا یہ شعر دو بحروں کا ملغوبہ ہے
دیکھا ہے تمھاری آنکھوں میں
دیکھا - فعلن
ہے تمھا - فعِلن
ری آں - فعلن
کھوں میں - فعلن
دیکھ ہماری آنکھوں میں تو
دیکھ - فاع
ہماری - فعولن
آنکھوں - فعلن
میں تو - فعلن
پہلی مثال جس میں "فعِلن" آیا ہے وہ بحر متدارک میں ہے
دوسری مثال جس میں "فاع فعولُن" آ رہے ہیں وہ بحر متقارب میں ہے
فع فَ عِ 112 کوئی رکن نہیں اس لیے بحر متقارب میں جب اس طرح ہوتا ہے تو فعلن فعلن کو
فاع فعولُن لکھتے ہیں۔
ان دونوں بحروں میں فرق یہ ہی کہ جس مصرعے کی ابتدا میں دو سببِ خفیف کے بعد سببِ ثقیل (دو متحرک حروف) آتا ہے
وہ بحر متدارک میں ہوتا ہے
اور
جس مصرعے کی ابتدا میں ایک سببِ خفیف کے بعد سببِ ثقیل آئے وہ بحر متقارب میں ہوتا ہے۔
آپ کا پہلا مصرعہ "تجھ سے پہلی سی وفا" تک بحر متدارک میں ہے
تجھ سے ۔۔۔ فعلن ۔۔۔ 22
پہلی ۔۔۔ ۔ فعلن ۔۔۔ 22
سی وفا۔۔۔ فَعِلن ۔۔۔ 211
اور ردیف "کون کرے گا" بحر متقارب میں ہے
کون ۔۔ فا عِ ۔ 12
کرے گا۔۔ فعولن ۔۔۔ 221
جبکہ دوسرے مصرعے میں "بعد مرے اب" بحر مقارب میں، "یہ خطا" بحر متدارک میں اور ردیف "کون کرے گا" بحر متقارب میں ہے۔
بعد ۔۔ فاع ۔ 12
مرے اب۔۔ فعولن ۔۔۔ 221
یہ خطا ۔۔۔ فَعِلن۔۔۔ 211
کون ۔۔ فاع ۔ 12
کرے گا۔۔ فعولن ۔۔۔ 221
دو بحروں کو یکجا کرنا درست نہیں۔ اگر فعلن کی جگہ فعِلن آ رہا ہے تو پھر ہر جگہ فعِلن ہی آنا چاہیے اور فاع فعولُن آ گیا تو پھر شروع میں کیا درمیاں جہاں بھی آئے گا تو فاع فعولُن ہی آنا چاہیے۔
امید ہے کہ میں اپنی بات سمجھانے میں کامیاب ہو گیا ہوں گا۔
آپ کا بہت شکریہ، ہمیشہ خوش و خرم رہیے۔