بحر بتائیے

احمد علی — اگست 1، 2012 4:37 شام
میرے حساب سے تو یہ واقعی بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف مخذوف ہے اور تقطیع یہ ہے:
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
کچ اس ا/دا سِ آج/وُ پہ لو ن/شی ر ہے
مفعولُ/فاعلاتُ/مفاعیلُ/فاعلن
212/1221/1212/122
جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے
جب تک ہ/ما رِ پا س/رہے ہم ن/ہی رہے
مفعولُ/فاعلاتُ/مفاعیلُ/فاعلن
212/1221/1212/122
باقی تو استادانِ سخن ہی بتا سکتے ہیں۔
بہت شُکریہ بلال میرا بھی یہی خیال ہے
تو یہ شعر اس بحر میں آ سکتا ہے کیا؟
ہجر و فراق ، قُرب اور و صل کی لگن
اےعشق ترے سلسلےسب دلنشیں رہے
محمد بلال اعظم — اگست 1، 2012 4:43 شام
بہت شُکریہ بلال میرا بھی یہی خیال ہے
تو یہ شعر اس بحر میں آ سکتا ہے کیا؟
ہجر و فراق ، قُرب اور و صل کی لگن
اےعشق ترے سلسلےسب دلنشیں رہے

نہیں جناب میرے خیال سے تو یہ متعلقہ بحر میں نہیں ہے۔
احمد علی — اگست 1، 2012 5:08 شام
نہیں جناب میرے خیال سے تو یہ متعلقہ بحر میں نہیں ہے۔
تو ہم اسکی تقطیع کیسے کریں؟
شام — اگست 1، 2012 5:08 شام
یہ شعر کسی بحر میں ہے
ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ، ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نے
ابھی فصل گلوں کی نہیں گزری ، کیوں دامن چاک سیا تم نے
مفعول مفاعیلن فعلن، دو بار

لیکن اسکی تقطیع کیسے ہو گے " ہ می تم " اور " ا بی فص " مفعول کے وزن پہ کیسے آئے گا کچھ سمجھ نہیں آ رہی
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 10:02 شام
یہ شعر کسی بحر میں ہے
ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ، ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نے
ابھی فصل گلوں کی نہیں گزری ، کیوں دامن چاک سیا تم نے

یہ وہ بحر ہے جس سے سب عاجز ہیں ;)
جی ہاں!!
فعِلن فعِلن فعلن فعلن، فعلن فعِلن فعِلن فعلن
فعِلن فعِلن فعِلن فعلن، فعلن فعلن فعِلن فعلن
جہاں کسرہ لگایا ہے وہاں ”ع“ متحرک باقی جگہ ساکن ہے۔
شام — اگست 1، 2012 10:17 شام
یہ وہ بحر ہے جس سے سب عاجز ہیں ;)
جی ہاں!!
فعِلن فعِلن فعلن فعلن، فعلن فعِلن فعِلن فعلن
فعِلن فعِلن فعِلن فعلن، فعلن فعلن فعِلن فعلن
جہاں کسرہ لگایا ہے وہاں ”ع“ متحرک باقی جگہ ساکن ہے۔

ہ م تم - پ گ ما - ن وحشت - تا ہم - لو گو - کو رس - و ک یا - تم نے
ا ب فص - ل گ لو - ک ن ہی - گز ری - کیودا - من چا - ک س یا - تم نے
سرخ رنگ کے الفاظ کی تقطیع کیسے ہو گی
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 10:20 شام
ہ م تم - پ گ ما - ن وحشت - تا ہم - لو گو - کو رس - و ک یا - تم نے
ا ب فص - ل گ لو - ک ن ہی - گز ری - کیودا - من چا - ک س یا - تم نے
سرخ رنگ کے الفاظ کی تقطیع کیسے ہو گی

گمان اور وحشت کے درمیان اضافت ہے۔ یعنی گمانِ وحشت۔ تقطیع میں ”گمانے“ گنا جائے گا۔
شام — اگست 1، 2012 10:23 شام
گمان اور وحشت کے درمیان اضافت ہے۔ یعنی گمانِ وحشت۔ تقطیع میں ”گمانے“ گنا جائے گا۔
تو اس طرح پہلے مصرعے میں ایک رکن زیادہ نہیں ہو جائے گا
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 10:33 شام
ہ م تم - پ گ ما - نے وح - شت تا - ہم لو - گ ک رس - و ک یا - تم نے
ا ب فص - ل گ لو - ک ن ہی - گز ری - کیودا - من چا - ک س یا - تم نے
سرخ رنگ کے الفاظ کی تقطیع کیسے ہو گی
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 10:46 شام
تقطیع کردی ہے. کوئی رکن زیادہ نہیں ہے.
شام — اگست 6، 2012 8:37 شام
دل زخموں سے جو بھرا پڑا ہے
تیری باتوں کا کیا دھرا ہے
کیا یہ شعر کسی بحر ہے
یا اسے "فعلن فعلن فعلن فعلن" میں درج ذیل طریقے سے تقطیع کیا جا سکتا ہے اور کیا اس بحر میں ہر "فعلن" کو "ف ع لن" میں تبدیل کیا جا سکتا ہے
دل زخ ÷ مو سے ÷ جُ بَ را ÷ پَ ڑَ ہے
تیری ÷ با تو ÷ کَ ک یا ÷ د رَ ہے
شام — اگست 6، 2012 8:39 شام
مزمل شیخ بسمل
محمد وارث
@محمد خلیل الرٰحمن
احمد بلال
الف عین
فاتح
احمد بلال — اگست 6، 2012 8:46 شام
غلط تقطیع کیا ہے۔ یہ کس کا شعر ہے؟
شام — اگست 6، 2012 8:48 شام
میرا اپنا ہے لیکن سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کی بحر کیا ہو گی
مزمل شیخ بسمل — اگست 6، 2012 9:08 شام
دل زخموں سے جو بھرا پڑا ہے
تیری باتوں کا کیا دھرا ہے
کیا یہ شعر کسی بحر ہے
یا اسے "فعلن فعلن فعلن فعلن" میں درج ذیل طریقے سے تقطیع کیا جا سکتا ہے اور کیا اس بحر میں ہر "فعلن" کو "ف ع لن" میں تبدیل کیا جا سکتا ہے
دل زخ ÷ مو سے ÷ جُ بَ را ÷ پَ ڑَ ہے
تیری ÷ با تو ÷ کَ ک یا ÷ د رَ ہے

پہلا مصرعہ تو کسی بحر میں نہیں ہے۔
البتہ دوسرا مصرعہ بحرِ خفیف کے اک وزن :
فاعلاتن مفاعلن فع
پے ہے۔ ویسے جو بحر بحر آپ استعمال کرنا چاہ رہے ہیں وہ متدارک مخبون اور مقطوع کی اجتماعی شکل ہے۔
یہ بحر شنازدہ رکنی یعنی سولہ رکن والی شکل میں مستعمل ہے۔
الف عین — اگست 7، 2012 7:21 صبح
یہ وہ بحر ہے جس سے سب عاجز ہیں ;)
جی ہاں!!
فعِلن فعِلن فعلن فعلن، فعلن فعِلن فعِلن فعلن
فعِلن فعِلن فعِلن فعلن، فعلن فعلن فعِلن فعلن
جہاں کسرہ لگایا ہے وہاں ”ع“ متحرک باقی جگہ ساکن ہے۔
فعِلن فعِلن مساوی ہوتے ہیں مفعول مفا کے۔ یہ درست ہے کہ متقارب میں بھی تقطیع کی جا سکتی ہے، لیکن میں نے بطور خاص اس بحر سے بچنے کے لئے اس کے ارکان یہ بتائے تھے۔
الف عین — اگست 7، 2012 7:24 صبح
دل زخموں سے جو بھرا پڑا ہے
تیری باتوں کا کیا دھرا ہے
کیا یہ شعر کسی بحر ہے
یا اسے "فعلن فعلن فعلن فعلن" میں درج ذیل طریقے سے تقطیع کیا جا سکتا ہے اور کیا اس بحر میں ہر "فعلن" کو "ف ع لن" میں تبدیل کیا جا سکتا ہے
دل زخ ÷ مو سے ÷ جُ بَ را ÷ پَ ڑَ ہے
تیری ÷ با تو ÷ کَ ک یا ÷ د رَ ہے
درست تو ہے یہ تقطیع، لیکن آخری الفاظ میں الف کا اسقاط پسند نہیں آیا۔ کسی اور بحر میں ڈھالنے کی کوشش کریں
مزمل شیخ بسمل — اگست 7، 2012 10:10 صبح
فعِلن فعِلن مساوی ہوتے ہیں مفعول مفا کے۔ یہ درست ہے کہ متقارب میں بھی تقطیع کی جا سکتی ہے، لیکن میں نے بطور خاص اس بحر سے بچنے کے لئے اس کے ارکان یہ بتائے تھے۔

جی استاد محترم. میں سمجھ گیا تھا کوئی حکمت ضرور ہوگی جو آپ نے بتایا.
لیکن تقطیع کے لحاظ سے شعر میں پہلا سبب سبب ثقیل بن رہا تھا یعنی فعِلن میں عین کے کسرے کے ساتھ. اسی خاطر یہ افاعیل بتا دئے.
گستاخی معاف.
الف عین — اگست 8، 2012 2:34 صبح
لیکن جیلانی کہاں غائب ہیں، کسی کو خبر ہے، جنہوں نے یہ دھاگا شروع کیا تھا؟
محمد بلال اعظم — اگست 8، 2012 6:12 صبح
لیکن جیلانی کہاں غائب ہیں، کسی کو خبر ہے، جنہوں نے یہ دھاگا شروع کیا تھا؟
وہ تو 18 مئی 2012 سے غائب ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.33189/page-8