برائے اصلاح

Muhammad Ishfaq — فروری 7، 2020 5:18 صبح
نعت شریفؑﷺ
مصطفے آ گئے زندگی آ گئی
مرتضٰے آ گئے بندگی آ گئی
سر زمینِ عرب ہو مبارک تجھے
تجھ پہ دنیا کی ہستی بڑی آگئی
مٹ گئے کفر کے تو اندھیرے سبھی
ہر طرف نور کی روشنی آ گئی
ان کی رحمت نے مجھ کو سہارا دیا
میرے سر پہ جو مشکل گھڑی آگئی
مٹ گئے فاصلے اور سکوں ہوگیا
جب تصور میں ان کی گلی آگئی
آپ آئےتو ہر سو بہار آ گئی
سب کے چہرے پہ یارو خوشی آ ٓگئی
جس کے آنے سے آتش کدے بجھ گئے
ابرِ رحمت کی ایسی جھڑی آگئی
Muhammad Ishfaq — فروری 7، 2020 10:35 صبح
نعت شریفؑﷺ
مصطفے آ گئے زندگی آ گئی
مرتضٰے آ گئے بندگی آ گئی
سر زمینِ عرب ہو مبارک تجھے
تجھ پہ دنیا کی ہستی بڑی آگئی
مٹ گئے کفر کے تو اندھیرے سبھی
ہر طرف نور کی روشنی آ گئی
ان کی رحمت نے مجھ کو سہارا دیا
میرے سر پہ جو مشکل گھڑی آگئی
مٹ گئے فاصلے اور سکوں ہوگیا
جب تصور میں ان کی گلی آگئی
آپ آئےتو ہر سو بہار آ گئی
سب کے چہرے پہ یارو خوشی آ ٓگئی
جس کے آنے سے آتش کدے بجھ گئے
ابرِ رحمت کی ایسی جھڑی آگئی
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 7، 2020 10:22 شام
مکرمی اشفاق صاحب، آداب!
محفل میں خوش آمدید۔
ماشاء اللہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش لائق تحسین ہے، یہ سعادت نصیب والوں کو ملتی ہے۔
مصطفے آ گئے زندگی آ گئی
مرتضٰے آ گئے بندگی آ گئی

مطلع کے قوافی درست نہیں ہیں۔ زندگی اور بندگی کو بطور قافیہ جمع کرنے میں ایک قباحت تو یہ ہے کہ یہاں مشترک حروف سے ماقبل کے حروف کی حرکات مختلف ہیں۔ زندگی میں ز مکسور ہے جبکہ بندگی میں ب مفتوح۔ قافیہ قائم کرنے کے لئے مشترک حروف سے پہلے کے حروف کی حرکات کا ایک جیسا ہونا لازم ہوتا ہے۔ گویا زندگی کے ساتھ شرمندگی تو قافیہ آسکتا ہے، بندگی نہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ مطلعے کے دونوں مصارع میں "ندگی" پر ختم ہونے والے قوافی جمع کریں گے تو باقی اشعار میں بھی اسی روش کی پابندی کرنا پڑے گی۔ یعنی اگر مطلعے میں زندگی اور شرمندگی قوافی ہوں، باقی اشعار میں گلی، خوشی، گھڑی وغیرہ قافیہ نہیں ہوسکتے۔
اس کے علاوہ آپ نے دوسرے مصرعے میں مرتضی باندھا ہے بو عرف میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا لقب مشہور ہے۔ اس کی جگہ آپ اسی وزن پر مجتبی (صلی اللہ علیہ وسلم) لا سکتے ہیں۔
مصطفی ﷺ آگئے، زندگی آگئی
سینۂ ارض پر ہر خوشی آگئی
سر زمینِ عرب ہو مبارک تجھے
تجھ پہ دنیا کی ہستی بڑی آگئی
"ہستی بڑی آگئی" کہنا فصاحت کے خلاف ہے۔ اصولا شعر میں الفاظ کی ترتیب ویسی ہی ہونی چاہیئے جیسے نثر میں لکھا جاتا ہو۔ درست ترتیب یوں ہوگی " بڑی ہستی آگئی"۔
سرزمین عرب ہو مبارک تجھے
مٹ گئے کفر کے تو اندھیرے سبھی
ہر طرف نور کی روشنی آگئی
پہلے مصرعے میں "تو" بھرتی کا ہے، اس طرح کے حشو و زوائد سے احتراز کرنا چاہیئے۔
ہوگئیں دور سب کفر کی۔ظلمتیں
ہر طرف نور ہے، روشنی آگئی
ان کی رحمت نے مجھ کو سہارا دیا
میرے سر پہ جو مشکل گھڑی آگئی
دوسرے مصرعے میں "جو" سے " جب کبھی" کا مفہوم ادا نہیں ہورہا۔
ان کی رحمت ہمیشہ سہارا بنی
جب کبھی سر پہ مشکل گھڑی آگئی
مٹ گئے فاصلے اور سکوں ہوگیا
جب تصور میں ان کی گلی آگئی
"سکوں ہوگیا" کہنا درست نہیں، سکون ملا کرتا ہے۔
مٹ گئے فاصلے، پرسکوں دل ہوا
جب تصور میں ۔۔۔ الخ
آپ آئےتو ہر سو بہار آ گئی
سب کے چہرے پہ یارو خوشی آ ٓگئی
یہاں ایک تو تقابل ردیفین کا عیب در آیا ہے۔ مطالع کے علاوہ کسی شعر کے شعر پہلے مصرعے میں ردیف کا آنا مستحسن نہیں ہوتا۔
دوسرے یہ کہ پہلے الگ الگ ہستیوں سے تخاطب کیا جارہا ہے، جو کہ ٹھیک نہیں۔
مزید یہ "سب کے چہرے" کے بجائے "سب کے چہروں" کہنا چاہیئے۔
ان کے آنے سے ہرسو ہے چھائی بہار
سب کے چہروں پہ ۔۔۔ الخ
جس کے آنے سے آتش کدے بجھ گئے
ابرِ رحمت کی ایسی جھڑی آگئی
ٹھیک ہے۔
دعاگو،
راحل۔
Muhammad Ishfaq — فروری 8، 2020 6:18 صبح
بہت بہت شکریہ سر جی۔آپ نے بڑے اچھے انداز میں ہر شعر کے متعلق راہنمائی فرمائی۔اللہ آپ کو خوش رکھے۔
Muhammad Ishfaq — فروری 8، 2020 9:37 شام
سر ! کیا کو ئی قافیہ ایک غزل یا نظم میں دوبار لا سکتے ہیں؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 8، 2020 10:04 شام
جی، بالکل لاسکتے ہیں۔
Muhammad Ishfaq — فروری 9، 2020 4:20 شام
جی، بالکل لاسکتے ہیں۔
جی بہت شکریہ۔
Muhammad Ishfaq — فروری 9، 2020 4:25 شام
اے قائد ہمارے اے قائد ہمارے
بڑے لطف وکرم ہیں سر پر ہمارے
کیا ایسے ملت مسلم کو یک جا
بدل ڈالے تاریخ کے تو نے دھارے
ہے کی تو نے ایسی قیادت ہماری
کہ ہو ئے سبھی ہیں وارے نیارے
جو دامن ہمارا نہ تو تھام لیتا
نہ ملتے کسی کو کہیں سے سہارے
پیارا وطن ایک تعمیر کرکے
کہ ڈوبی ہوئی کشتی لائی کنارے
رہے سایہءرحمت مرقد پہ ان کی
چلو شاکی دعا کریں مل کے سارے
Muhammad Ishfaq — فروری 10، 2020 1:27 صبح
اے قائد ہمارے اے قائد ہمارے
بڑے لطف وکرم ہیں سر پر ہمارے
کیا ایسے ملت مسلم کو یک جا
بدل ڈالے تاریخ کے تو نے دھارے
ہے کی تو نے ایسی قیادت ہماری
کہ ہو ئے سبھی ہیں وارے نیارے
جو دامن ہمارا نہ تو تھام لیتا
نہ ملتے کسی کو کہیں سے سہارے
پیارا وطن ایک تعمیر کرکے
کہ ڈوبی ہوئی کشتی لائی کنارے
رہے سایہءرحمت مرقد پہ ان کی
چلو شاکی دعا کریں مل کے سارے
اصلاح کے لیے حاضر ہے۔
الف عین — فروری 10، 2020 6:00 صبح
یہ 'غزل' کسی بحر میں نہیں لگتی۔ کچھ مصرعے فعولن چار بار میں تقطیع ہوتے ہیں، سارے مصرع ایک نئے دھاگے میں پوسٹ کریں
طریقہ یہ بہتر ہے کہ ایک دھاگا ایک ہی تخلیق کے لیے مخصوص رکھا جائے
پہلی غزل میں عزیزی راحل نے مکمل مصرع خود کہہ کر غزل مکمل کر دی، ورنہ یہ بہتر تھا کہ اغلاط کی نشاندہی کی جائے اور شاعر پر چھور دیا جائے کہ وہ مذکورہ اغلاط دور کر کے پھر پوسٹ کرے مزید اصلاح کے لئے۔ اور جب تک کہ وہ غزل فائنل نہ ہو جائے، اس میں تبدیلیاں جاری رہیں، اور دھاگا بھی جاری رہے۔ پھر دوسری نئی غزل ایک نئے دھاگے میں پوسٹ کی جائے
Muhammad Ishfaq — فروری 10، 2020 11:08 صبح
یہ 'غزل' کسی بحر میں نہیں لگتی۔ کچھ مصرعے فعولن چار بار میں تقطیع ہوتے ہیں، سارے مصرع ایک نئے دھاگے میں پوسٹ کریں
طریقہ یہ بہتر ہے کہ ایک دھاگا ایک ہی تخلیق کے لیے مخصوص رکھا جائے
پہلی غزل میں عزیزی راحل نے مکمل مصرع خود کہہ کر غزل مکمل کر دی، ورنہ یہ بہتر تھا کہ اغلاط کی نشاندہی کی جائے اور شاعر پر چھور دیا جائے کہ وہ مذکورہ اغلاط دور کر کے پھر پوسٹ کرے مزید اصلاح کے لئے۔ اور جب تک کہ وہ غزل فائنل نہ ہو جائے، اس میں تبدیلیاں جاری رہیں، اور دھاگا بھی جاری رہے۔ پھر دوسری نئی غزل ایک نئے دھاگے میں پوسٹ کی جائے
الف عین صاحب ! آداب عرض ہے۔ یہ نظم ’’فعولن فعولن فعولن فعولن کی بحر میں کہی ہے۔ اگر کہیں فرق ہے تو راہنمائی فرمادیں۔ شکریہ
الف عین — فروری 11، 2020 4:42 صبح
الف عین صاحب ! آداب عرض ہے۔ یہ نظم ’’فعولن فعولن فعولن فعولن کی بحر میں کہی ہے۔ اگر کہیں فرق ہے تو راہنمائی فرمادیں۔ شکریہ
محض تین چار مصرعے ہی درست تقطیع ہوتے ہیں اس بحر میں ۔ شاید تقطیع سیکھنے کی ضرورت ہے
Muhammad Ishfaq — فروری 12، 2020 1:39 شام
محض تین چار مصرعے ہی درست تقطیع ہوتے ہیں اس بحر میں ۔ شاید تقطیع سیکھنے کی ضرورت ہے
کیا ایک شعر کئی بحور میں ہو سکتا ہے؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 12، 2020 2:10 شام
کیا ایک شعر کئی بحور میں ہو سکتا ہے؟
آپ کا سوال مبہم ہے۔
ایسا اتفاقاً ہوسکتا ہے کہ کوئی مصرعہ یا شعر بیک وقت دو مختلف بحروں میں تقطیع ہورہا ہو۔
تاہم ایک غزل یا نظم میں کسی ایک مخصوص بحر کی پابندی ضروری ہے۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ شعر کا ایک مصرع ہزج میں ہو اور دوسرا رمل میں۔
Muhammad Ishfaq — فروری 12، 2020 4:32 شام
آپ کا سوال مبہم ہے۔
ایسا اتفاقاً ہوسکتا ہے کہ کوئی مصرعہ یا شعر بیک وقت دو مختلف بحروں میں تقطیع ہورہا ہو۔
تاہم ایک غزل یا نظم میں کسی ایک مخصوص بحر کی پابندی ضروری ہے۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ شعر کا ایک مصرع ہزج میں ہو اور دوسرا رمل میں۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا ایک شعر دو بحروں میں تقطیع ہو سکتا ہے؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 12، 2020 8:55 شام
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا ایک شعر دو بحروں میں تقطیع ہو سکتا ہے؟
جی نہیں، ایک شعر کے دونوں مصرعوں کا ایک ہی بحر میں موزوں ہونا لازمی ہے۔
کچھ بحور میں آخری رکن میں ایک ساکن حرف کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ مثلاً
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
کو
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلان
کیا جاسکتا ہے، مگر اس طریقے میں بحر وہی رہتی ہے۔ یہ عروضی بحث ہے جو تفصیلی مطالعہ مانگتی ہے۔
Muhammad Ishfaq — فروری 17، 2020 1:53 صبح
مکرمی اشفاق صاحب، آداب!
محفل میں خوش آمدید۔
ماشاء اللہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش لائق تحسین ہے، یہ سعادت نصیب والوں کو ملتی ہے۔
مطلع کے قوافی درست نہیں ہیں۔ زندگی اور بندگی کو بطور قافیہ جمع کرنے میں ایک قباحت تو یہ ہے کہ یہاں مشترک حروف سے ماقبل کے حروف کی حرکات مختلف ہیں۔ زندگی میں ز مکسور ہے جبکہ بندگی میں ب مفتوح۔ قافیہ قائم کرنے کے لئے مشترک حروف سے پہلے کے حروف کی حرکات کا ایک جیسا ہونا لازم ہوتا ہے۔ گویا زندگی کے ساتھ شرمندگی تو قافیہ آسکتا ہے، بندگی نہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ مطلعے کے دونوں مصارع میں "ندگی" پر ختم ہونے والے قوافی جمع کریں گے تو باقی اشعار میں بھی اسی روش کی پابندی کرنا پڑے گی۔ یعنی اگر مطلعے میں زندگی اور شرمندگی قوافی ہوں، باقی اشعار میں گلی، خوشی، گھڑی وغیرہ قافیہ نہیں ہوسکتے۔
اس کے علاوہ آپ نے دوسرے مصرعے میں مرتضی باندھا ہے بو عرف میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا لقب مشہور ہے۔ اس کی جگہ آپ اسی وزن پر مجتبی (صلی اللہ علیہ وسلم) لا سکتے ہیں۔
مصطفی ﷺ آگئے، زندگی آگئی
سینۂ ارض پر ہر خوشی آگئی
"ہستی بڑی آگئی" کہنا فصاحت کے خلاف ہے۔ اصولا شعر میں الفاظ کی ترتیب ویسی ہی ہونی چاہیئے جیسے نثر میں لکھا جاتا ہو۔ درست ترتیب یوں ہوگی " بڑی ہستی آگئی"۔
سرزمین عرب ہو مبارک تجھے
پہلے مصرعے میں "تو" بھرتی کا ہے، اس طرح کے حشو و زوائد سے احتراز کرنا چاہیئے۔
ہوگئیں دور سب کفر کی۔ظلمتیں
ہر طرف نور ہے، روشنی آگئی
دوسرے مصرعے میں "جو" سے " جب کبھی" کا مفہوم ادا نہیں ہورہا۔
ان کی رحمت ہمیشہ سہارا بنی
جب کبھی سر پہ مشکل گھڑی آگئی
"سکوں ہوگیا" کہنا درست نہیں، سکون ملا کرتا ہے۔
مٹ گئے فاصلے، پرسکوں دل ہوا
جب تصور میں ۔۔۔ الخ
یہاں ایک تو تقابل ردیفین کا عیب در آیا ہے۔ مطالع کے علاوہ کسی شعر کے شعر پہلے مصرعے میں ردیف کا آنا مستحسن نہیں ہوتا۔
دوسرے یہ کہ پہلے الگ الگ ہستیوں سے تخاطب کیا جارہا ہے، جو کہ ٹھیک نہیں۔
مزید یہ "سب کے چہرے" کے بجائے "سب کے چہروں" کہنا چاہیئے۔
ان کے آنے سے ہرسو ہے چھائی بہار
سب کے چہروں پہ ۔۔۔ الخ
ٹھیک ہے۔
دعاگو،
راحل۔[/QUOTE
Muhammad Ishfaq — فروری 17، 2020 1:58 صبح
مکرمی اشفاق صاحب، آداب!
محفل میں خوش آمدید۔
ماشاء اللہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش لائق تحسین ہے، یہ سعادت نصیب والوں کو ملتی ہے۔
مطلع کے قوافی درست نہیں ہیں۔ زندگی اور بندگی کو بطور قافیہ جمع کرنے میں ایک قباحت تو یہ ہے کہ یہاں مشترک حروف سے ماقبل کے حروف کی حرکات مختلف ہیں۔ زندگی میں ز مکسور ہے جبکہ بندگی میں ب مفتوح۔ قافیہ قائم کرنے کے لئے مشترک حروف سے پہلے کے حروف کی حرکات کا ایک جیسا ہونا لازم ہوتا ہے۔ گویا زندگی کے ساتھ شرمندگی تو قافیہ آسکتا ہے، بندگی نہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ مطلعے کے دونوں مصارع میں "ندگی" پر ختم ہونے والے قوافی جمع کریں گے تو باقی اشعار میں بھی اسی روش کی پابندی کرنا پڑے گی۔ یعنی اگر مطلعے میں زندگی اور شرمندگی قوافی ہوں، باقی اشعار میں گلی، خوشی، گھڑی وغیرہ قافیہ نہیں ہوسکتے۔
اس کے علاوہ آپ نے دوسرے مصرعے میں مرتضی باندھا ہے بو عرف میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا لقب مشہور ہے۔ اس کی جگہ آپ اسی وزن پر مجتبی (صلی اللہ علیہ وسلم) لا سکتے ہیں۔
مصطفی ﷺ آگئے، زندگی آگئی
سینۂ ارض پر ہر خوشی آگئی
"ہستی بڑی آگئی" کہنا فصاحت کے خلاف ہے۔ اصولا شعر میں الفاظ کی ترتیب ویسی ہی ہونی چاہیئے جیسے نثر میں لکھا جاتا ہو۔ درست ترتیب یوں ہوگی " بڑی ہستی آگئی"۔
سرزمین عرب ہو مبارک تجھے
پہلے مصرعے میں "تو" بھرتی کا ہے، اس طرح کے حشو و زوائد سے احتراز کرنا چاہیئے۔
ہوگئیں دور سب کفر کی۔ظلمتیں
ہر طرف نور ہے، روشنی آگئی
دوسرے مصرعے میں "جو" سے " جب کبھی" کا مفہوم ادا نہیں ہورہا۔
ان کی رحمت ہمیشہ سہارا بنی
جب کبھی سر پہ مشکل گھڑی آگئی
"سکوں ہوگیا" کہنا درست نہیں، سکون ملا کرتا ہے۔
مٹ گئے فاصلے، پرسکوں دل ہوا
جب تصور میں ۔۔۔ الخ
یہاں ایک تو تقابل ردیفین کا عیب در آیا ہے۔ مطالع کے علاوہ کسی شعر کے شعر پہلے مصرعے میں ردیف کا آنا مستحسن نہیں ہوتا۔
دوسرے یہ کہ پہلے الگ الگ ہستیوں سے تخاطب کیا جارہا ہے، جو کہ ٹھیک نہیں۔
مزید یہ "سب کے چہرے" کے بجائے "سب کے چہروں" کہنا چاہیئے۔
ان کے آنے سے ہرسو ہے چھائی بہار
سب کے چہروں پہ ۔۔۔ الخ
ٹھیک ہے۔
دعاگو،
راحل۔
Muhammad Ishfaq — فروری 18، 2020 7:11 صبح
نعت شریفؑﷺ
مصطفے آ گئے زندگی آ گئی
سینہ ارض پر ہر خوشی آ گئی
سر زمینِ عرب ہو مبارک تجھے
تجھ پہ دنیا کی ہستی بڑی آگئی
ہو گئیں دور سب کفر کی ظلمتیں
ہر طرف نور ہے ، روشنی آ گئی
ان کی رحمت ہمیشہ سہارا بنی
جب کبھی سر پہ مشکل گھڑی آ گئی
مٹ گئے فاصلے پر سکوں دل ہوا
جب تصور میں ان کی گلی آگئی
ان کے آنے سے ہر سو ہے چھائی بہار
سب کے چہروں پہ یارو خوشی آ گئی
جس کے آنے سے آتش کدے بجھ گئے
ابر رحمت کی ایسی جھڑی آ گئی
آپ کی راہنمائی کے بعد حاضر ہے۔
الف عین — فروری 19، 2020 6:20 صبح
ہر طرف نور کی روشنی آ گئی؟
نور کے معنی ہی روشنی کے ہیں، مصرع بدل دو
بعد میں دیکھا کہ راحل نے 'ہر طرف نور ہے، روشنی...' کا مشورہ دیا تھا۔ باقی نے ان کے مشورے مان ہی لیے ہیں، اس کو کیوں نہیں مانا گیا!
باقی ٹھیک ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.110391/