ہر طرف نور کی روشنی آ گئی؟
نور کے معنی ہی روشنی کے ہیں، مصرع بدل دو
بعد میں دیکھا کہ راحل نے 'ہر طرف نور ہے، روشنی...' کا مشورہ دیا تھا۔ باقی نے ان کے مشورے مان ہی لیے ہیں، اس کو کیوں نہیں مانا گیا!
باقی ٹھیک ہے
دشمنی عام تھی چار سو کو بکو
مجتبے آ گئے دوستی آ گئی
نعت اشفاؔق نے جب یہ تحریر کی
قلب و اذہان میں تازگی آ گئی
مہربانی کر کے ان اشعار کے بارے میں بھی اپنی رائے سے نوازیں ۔خاص کرآخری مصرعے میں ،،تازگی،، تو باندھ رکھا ہے ،چاشنی، اور ،آگہی، جیسے الفاظ بھی ذہن میں آرہے ہیں کیا بہتر رہے گا؟